چین بھارت تعلقات صرف مفادات پر مبنی ، پاکستان کو کوئی خطر ہ نہیسں : خورشید قصوری

چین بھارت تعلقات صرف مفادات پر مبنی ، پاکستان کو کوئی خطر ہ نہیسں : خورشید ...

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)سینئر صحافی ،معروف تجزیہ کار اورڈپٹی ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت سعید آسی کی کتاب تیری بکل دے وچ چور کی تقریب رونمائی قائد اعظم لائبریری باغ جنا ح میں ہوئی ۔صدارت سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کی ، چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان مجیب الرحمان شامی،عطاء الحق قاسمی،پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وٹو، صدر استقلال پارٹی سید منظور گیلانی ،کالم نگار عطاء الرحمان،جماعت اسلامی کے رہنما فاروق چوہان،تحریک انصاف کی رہنما عنازہ احسان،کالم نگار روف طاہر نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ صدارتی خطاب میں خورشید قصوری نے کہا سعید آسی جیسے دیانتدار صحافی اس ملک کا سرمایہ ہیں جن کی دیانتداری ضرب المثل ہے ۔ چین ور بھارت کے تعلقات صرف مفادات پر مبنی ہیں اس سے پاکستان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں، کتاب کے مصنف سعید آسی نے کہا میری کتاب کے ٹائٹل کا ایک پس منظر ہے۔موجودہ صورتحال میں سلطانی جمہور کو خلائی مخلوق سے جو خطرات لاحق ہیں اس حوالے سے میں نے یہ کتاب لکھی ۔یہ کتاب میرے کالموں کا ایک مجموعہ ہے جو میں نے 2014 سے 2016 تک لکھے ۔ میں آئین کو مقدم سمجھتا ہوں اگر پاکستانی معاشرے نے شائستگی کیساتھ آگے چلنا ہے تو ہمیں آئین کی پاسداری کرنا ہو گی۔اگر کسی کو کسی کا چہرہ اچھا نہیں لگتا تو وہ ایک اور بات ہے لیکن ہر حال میں آئین کو مقدم رکھنا ہو گا۔آئین سے ہٹ کر اگر کوئی اقدام ہو گا تو اس سے تباہی ہو گی۔ فاروق چوہان نے کہا سعید آسی کے کالموں کا مجموعہ خوبصورت اور پر اثر منتخب کالموں پر مشتمل ہے ۔سعید آسی کا اسلوب اور زبان و بیان انتہائی خوبصورت ہے ۔ان کے کالم ایک قلمی جہاد ہے ۔تحریک انصاف کی رہنما عنازہ احسان نے کہا کتاب میں موجود واقعات کو پڑھنے سے تاریخی طور پر ہمیں بیان کئے جانیوالے واقعات سے آگاہی کا موقع ملتا ہے ۔عطاء الحق قاسمی نے کہا سعید آسی میرے دیرینہ دوست اور ایک اچھے شاعر ہیں۔کتاب کے عنوان سے لگا یہ کوئی پنجابی کے شعروں کا مجموعہ ہے۔ان کی کتاب میں موجود کالموں کو پڑھنے سے مجھے یہ یقین ہو گیا صحافت میں ابھی دیانت باقی ہے ۔ کالم نگار روف طاہر نے کہا آج کل تین کتا بوں کا بڑا شہرہ ہے اور اسد درانی کی کتاب پڑھ کر میرے ہوش اڑگئے۔سعید آسی کی کتاب ان کی پچھلی 6 کتابوں سے اچھا ریسپانس دے گی۔منظور گیلانی نے کہا مجیب الرحمان شا می اور سعید آسی کے والد گرامی سے بھی میرا ادبی تعلق رہا۔یہاں چوروں کو پروان چڑھنے میں بہت سے لوگوں کا ہاتھ ہے۔12 اکتوبر 1999 کو استقلال پارٹی میں تھا جب میر ے صدر نے مشرف کی حمایت کی۔سب سے ظالمانہ دور بھٹو کا تھا۔بھٹو ظلم و استحصال کا نام تھا۔موجودہ دور میں کوئی خلائی مخلوق اس ملک پر قبضہ نہیں کرسکتی ۔ان کے چیلے چانٹے الیکشن کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اگر کسی نے یہ جرات کی تو بہت بڑا احتجاج ہو گا۔عطاء الرحمان نے کہا سعید آسی ایک کہنہ مشق صحافی ہیں۔سعید آسی نے اپنی کتاب کے دیباچے میں کہا ہے آئین پر عمل کرنے کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔یہاں آئین توڑنے والوں نے ملک کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔مجیب الرحمان شامی نے کہا سعید آسی جیسے اخبار نویس انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جن کی دیانت مسلمہ ہے،انہوں نے ہمیشہ پوری متانت اور وقار کیساتھ رپورٹنگ کی اور اب انہوں نے مجید نظامی کی کرسی پر بیٹھنے کا حق ادا کیا۔ان کی کسی بات سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ان کی دیانتداری پرنہیں ۔ دستور کے بغیر ملک قائم نہیں رہ سکتا۔پاکستان وہ ملک ہے جو دستور بناتے بناتے ٹوٹ گیا اور جو اتفاق رائے تھا و ہ ختم ہو گیا اگر چہ دستور آج موجود ہے لیکن اس پر جتنا عمل ہو رہا ہے وہ سب کو پتہ ہے پاکستانی سیاست کا جو بھی تجزیہ کر لیں لیکن جس جماعت کو لوگ ووٹ دیں اس کو حکمرانی کا حق ہے اگر آپ اس کو روکیں گے تو وہ ناقابل برداشت ہو گا۔وفاق پاکستان کو خطرہ اس وقت لاحق ہوتا ہے جب اکثریتی صوبے کا حق مارا جاتا ہے۔جس کو لوگ چاہیں اقتدار اسی کو ملنا چا ہئے۔سعید اسی ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنا ایک دبنگ موقف رکھتے ہیں ۔پاکستان کے طاقتور طبقات اس نکتے کو سمجھتے ہیں۔منظور احمد وٹو نے کہا سعید آسی سے تعلق 1985 سے ہے۔ بطور صحافی ان کا مقام بہت اعلی ہے، ان کیساتھ چین کا سفر کیا ہے۔نوازشریف کو چاہئے تھا وہ سیاست میں عزت اور پیسے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے مگر بدقسمتی سے انہو ں نے پیسے کا انتخاب کیا ۔میں نے اپنے اثاثے اس وقت ڈکلیئر کئے جب میں سیاست میں آیاسیاست میں انتقام لینے والوں کا انجام ہمیشہ برا ہوا ۔تقریب میں سینئر صحافیوں اور سول سوئٹی کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔

مزید : علاقائی