گجرات ، پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کے متعد د حلقے کھلے چھوڑ دیئے ، کارکن بد دلی کا شکار

گجرات ، پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کے متعد د حلقے کھلے چھوڑ دیئے ، کارکن بد دلی ...

گجرات(بیورورپورٹ)مسلم لیگ ق کی حکمت عملی کی بدولت پی ٹی آئی نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے متعدد حلقے ق لیگ کی کامیابی کے لیے کھلے چھوڑ د یئے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کے کارکن بددلی کا شکار ہو گئے پی ٹی آئی کے ضلعی صدر چودھری الیاس جنہوں نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 71سے اپنے کاغذات جمع کرا رکھے تھے کو ٹکٹ جاری کرنے کے بعد ٹکٹ واپس لے لیا گیا اسی طرح قومی اسمبلی کے اسی حلقہ پی پی 28 سے جہاں پر کچھ عرصہ قبل ایک جلسہ عام کے دوران عمران خان نے چودھری برادران کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا کے دست راست چودھری سعادت نواز اجنالہ کے بھائی چوہدری شجاعت نواز اجنالہ کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار چودھری زبیر احمد ٹانڈہ کو ٹکٹ جاری کرنے کے بعد واپس لے لیا پی ٹی آئی نے دو قومی اور صوبائی سیٹوں پر چھ ٹکٹ جاری کئے ہیں جبکہ باقی قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کے امیدواروں سے ٹکٹ واپس لیکر انہیں ق لیگ کی حمایت پر مجبور کر دیا گیا ہے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 70سے فیض الحسن شاہ کو سابق وفاقی وزیر چودھری جعفر اقبال کے مقابلے میں ٹکٹ دیا گیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما چودھری احمد مختار سابق وفاقی وزیر دفاع کے ساتھ رفاقت کے بعد پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنیوالے چودھری سلیم سرور جوڑا کو حلقہ پی پی 31سے ٹکٹ جاری کیا گیا ہے میاں اختر حیات جو سابق نگران وزیر اعلی میاں افضل حیات کے بھائی ہیں کو پی پی 32سے اور ق لیگ سے پی ٹی آئی میں شمولیت کرنے والے لیاقت علی بھدر کو پی پی 33سے ٹکٹ جاری کیا گیا ہے حلقہ این اے 68سے چودھری شجاعت حسین کے بھائی چودھری وجاہت حسین کے صاحبزادے چو دھری حسین الٰہی کے لیے بھی میدان کھلا چھوڑ دیا گیا ہے حلقہ این اے 69سے چودھری پرویز الٰہی نے اپنے مدمقابل پی ٹی آئی کے انتہائی مضبوط ترین امیدوار الحاج محمد افضل گوندل کو ٹکٹ سے محروم کر دیا اسی طرح چودھری پرویز الٰہی نے اپنے بیٹے چوہدری مونس الٰہی کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے دیرینہ رہنما چودھری افتخار احمد سماں کو پی پی 30سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ نہیں لینے دیا چودھری برادران کی اس سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے پی ٹی آئی کے کارکن انتہائی بددل اور مایوس نظر آتے ہیں انکا موقف ہے کہ عمران خان جو اپنے جلسوں میں چو دھری برادران کو پنجاب کی سب سے بڑی بیماری قر ار دیتے تھے کے ساتھ انکا الحاق مفاد پرستی کے مترادف ہے جسے وہ ہرگز تسلیم نہیں کرتے اسکا عملی مظاہرہ سابق صوبائی وزیر تعلیم میاں عمران مسعود جو مسلم لیگ ق کے پی پی 31سے امیدوار تھے کو چو دھری برادران نے پی ٹی آئی کے امیدوار چوہدری سلیم سرور جوڑا کے حق میں زبردستی دستبردار کرا دیا میاں عمران مسعود کی رہائشگاہ پر ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس سے خطاب کرتے سابق صوبائی وزیر تعلیم میاں عمران مسعود نے کہا کہ انہوں نے 8مرتبہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا 6مرتبہ کامیابی حاصل کی انکا خاندان گجرات کا سب سے بڑا سیاسی خاندان ہے مگر اپنے قائدین کے حکم پر وہ اپنے کاغذات واپس لے رہے ہیں وہ ق لیگ کے کارکنوں کو کہیں گے کہ وہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیں پی ٹی آئی کے امیدوار چوہدری سلیم سرور جوڑا نے جو اس سے قبل اپنی نجی محفلوں میں اس کا برملا اظہار کرتے رہے ہیں کہ وہ پرویز الٰہی کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے بھی تیار نہیں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انکے جو ذاتی جذبات تھے وہ کارکنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ انہیں پچیس جولائی تک پس پشت ڈال دیا جائے مگر میں عمران خان کے نظریے کو لیکر چل رہا ہوں جس پر گامزن رہوں گااب وہ اپنے کارکنوں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ قومی اسمبلی کی سیٹ پر ٹریکٹر کو ووٹ دیں اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کے باوجود انہوں نے انتہائی ماہرانہ انداز سے چودھری پرویز الٰہی کا نام گول کر دیا اور صر ف ٹریکٹر کا نام لیااس موقع پر پی ٹی آئی کے امیدوار حلقہ پی پی 30افتخار احمد سماں نے جنہیں مونس الٰہی کے مقابلے میں پی ٹی آئی نے ٹکٹ جاری نہیں کیانے اس پریس کانفرنس کے بارے میں کہا کہ سلیم سرور جوڑا کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ پورے ضلع کی نمائندگی کریں وہ اپنے حواریوں کو اس امر پر مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ٹریکٹر پر مہریں لگائیں انہوں نے کہا کہ وہ پانچ جولائی کو سماں ہاؤس میں پی ٹی آئی کی ٹکٹوں سے محروم رہ جانیوالے امیدواروں کا ایک اکٹھ کر رہے ہیں اور آئندہ کی حکمت عملی مرتب کرینگے چودھری برادران پی ٹی آئی سے خوفزدہ تھے اور انہوں نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے لیے قربانیاں دینے والے سیاسی رہنماؤں کو اپنے راستے سے ہٹایا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ق لیگ کے وائس چیئرمین وحید مراد مرزا نے کہا کہ وہ چوہدری برادران کے ووٹراور سپورٹر ہیں مگر سلیم سرور جوڑا کو ہر گز ووٹ نہیں ڈالیں گے یہ امر قابل ذکر ہے کہ چودھری برادران کی کامیاب سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے انکی قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹیں محفوظ ہو گئی ہیں چودھری پرویز الٰہی کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے محروم رہ جانے والے امیدوار محمد افضل گوندل جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں چالیس ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے نے کہا کہ پی ٹی آئی کا کارکن ٹریکٹر پر مہر لگانے کی بجائے موت کو ترجیح دیگا کیونکہ تبدیلی کا نعرے کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کے پیچھے نمازنیت لی جائے اور جو شخص ٹریکٹر پر مہریں لگانے کا حکم جاری کرتا ہے اس پر ان کی طرف سے ہزار بار لعنت‘پریس کانفرنس کے اختتام پر ایک مقامی صحافی ارشد علی نے چودھری سلیم سرور جوڑ اپر سوال کیا کہ کل تک وہ جن کے بارے میں اپنی نفرت اور غلیظ ترین الفاظ کا استعمال کر رہے تھے اب وہ ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں اس پر انکا کیا موقف ہے جس پر سلیم سرور جوڑا نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذاتی خیالات کو 25جولائی تک پس پشت ڈال دیا جائے وہ صرف عمران خان کی کامیابی اور حکم کے پابند ہیں۔

گجرات

مزید : علاقائی