نواز شریف سمیت 12شخصیات اور سرکاری افسروں کو طلب کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

نواز شریف سمیت 12شخصیات اور سرکاری افسروں کو طلب کرنے کی درخواست پر فیصلہ ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ میں میاں محمدنواز شریف ،میاں شہباز شریف سمیت 12شخصیات اور اعلیٰ سرکاری افسروں کو طلب کرنے کی درخواست پر فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔جسٹس قاسم علی خان کی سربراہی میں قائم 3رکنی فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کی،پاکستان عوامی تحریک نے انسداددہشت گردی کی عدالت کی جانب سے میاں محمدنواز شریف ،میاں شہباز شریف سمیت 12حکومتی اور اعلیٰ سرکاری شخصیات کو استغاثہ میں طلب نہ کرنے کے احکامات کو لاہور ہائیکورٹ کے روبرو چیلنج کر رکھا ہے،پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ میں فرد جرم عائد ہو چکی ہے اور شہادتیں ریکارڈ کی جا رہی ہے،عدالت نے ادارہ منہاج القرآن کے وکیل سے استفسار کیا کہ سیاست دانوں کے خلاف ایسا کیا مواد تھا جسے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نظر انداز کر کے ان کو طلب نہیں کیا،ادارہ منہاج القرآن کے وکیل نے آگاہ کیا کہ سانحہ ماڈل ایک سازش تھی جس کو استغاثہ کی کاروائی مکمل ہونے تک بے نقاب نہیں کیا جا سکتا، ادارہ منہاج القرآن کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ رانا ثنااللہ اور خواجہ سعد رفیق کی جانب سے انہیں دھمکیاں دی گئیں جبکہ سانحہ کے وقت اعلیٰ پولیس افسروں کی موجودگی، پولیس افسران کی جانب سے اہلکاروں کو منہاج القرآن پر قبضہ کرنے اور گولیاں چلانے کا حکم دینے کی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔سابق آئی جی پولیس پنجاب مشتاق سکھیرا کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیاکہ انہیں استغاثہ میں بلاجواز ملوث کیا گیا ،ان کاسانحہ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس

Ba

مزید : علاقائی