الیکشن ٹربیونل صرف کاغذات نامزدگی سے متعلق فیصلہ کرنے کا مجاز

الیکشن ٹربیونل صرف کاغذات نامزدگی سے متعلق فیصلہ کرنے کا مجاز
الیکشن ٹربیونل صرف کاغذات نامزدگی سے متعلق فیصلہ کرنے کا مجاز

  

تجزیہ : سعید چودھری

لاہورہائیکورٹ کے جسٹس عباد الرحمن لودھی پر مشتمل الیکشن اپیلٹ ٹربیونل نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو حلقہ این اے 57 سے آئین کے آرٹیکل(1)62 ایف کے تحت نااہل قرار دیا ہے۔ چند ہفتے قبل چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کا لارجر بنچ اس آرٹیکل کی تشریح کا فیصلہ جاری کرچکا ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق آئین کے آرٹیکل (1)62 ایف کے تحت نااہلی تاحیات نااہلی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی روشنی میں الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے تحت شاہد خاقان عباسی تاحیات نااہل قرار پائے ہیں۔ جب تک ٹربیونل کا یہ فیصلہ موجود ہے خاقان عباسی نااہل تصور کئے جائیں گے۔ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں جب تک کوئی عدالتی حکم نافذالعمل رہتا ہے، اس سے روگردانی نہیں کی جاسکتی تاہم آئینی ماہرین کے مطابق الیکشن ٹربیونل صرف کاغذات نامزدگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔وہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ اس فیصلے کو رٹ درخواست کے ذریعے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق شاہد خاقان عباسی کیس کا فیصلہ حتمی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے، جس کاعدالتی جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔

تجزیہ : سعید چودھری

مزید : تجزیہ