لیڈی ڈاکٹرز کی غفلت :حاملہ خاتون نے تڑپ تڑپ کر بچے سمیت جان دیدی

لیڈی ڈاکٹرز کی غفلت :حاملہ خاتون نے تڑپ تڑپ کر بچے سمیت جان دیدی

خانیوال( بیورو نیوز‘ نامہ نگار ،نمائندہ پاکستان ) لیڈی ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت کی باعث حاملہ خاتون نے تڑپ تڑپ کر ہسپتال کے احاطے میں بچے سمیت جان دے دی۔لواحقین نے خاتون کی لاش سڑک پر رکھ کر خانیوال لودھراں روڈ ٹریفک کیلئے بلاک کر دی۔خانیوال کے نواحی علاقہ 53 پندرہ ایل (بقیہ نمبر25صفحہ12پر )

باٹی والا کی رہائشی خاتون منزہ ڈسٹرکٹ ہسپتال میں جاں بحق ہو گی۔ 26 سالہ منزہ کوشدید تکلیف میں گزشتہ روز زچگی کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ ورثا کے مطابق24 گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی خاتون کو لیبر روم میں ڈاکٹروں کی جانب سے بروقت علاج کی سہولت میسر نہ کی گئی یہاں تک کہ اسے شدید تکلیف کے باوجودچیک نہیں کیا گیا، 26 سالہ منزہ خاتون نے تڑپ تڑپ کر سمیت ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ہی جان دے دی، ورثا نے ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈاکٹر اور انتظامیہ کے خلاف خانیوال لودھراں روڈ کو احتجاج کرتے ہوئے بلاک کردیا، ورثا کا کہنا ہے کہ جب تک عملہ کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا، ہسپتال انتظامیہ دفاتر سے غائب جبکہ ڈیوٹی لیڈی ڈاکٹر بھی دفتر سے غائب ہو چکی ہے ورثا کا اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ایم ایس ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال خانیوال ڈاکٹر آصف جاوید نے ہمارے نمائندہ کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ خاتون کے پیٹ میں بچہ گزشتہ کئی روز سے مردہ حالت میں تھااور خاتون کے جسم میں زہر پھیل رہا تھاجیسے 26جون کو دی ایچ کیو علاج کے لیے لایا گیااس سے قبل وہ ٹی ایچ کیو میاں چنوں میں بھی زیر علاج رہی ۔ڈی ایچ کیو میں ڈاکٹر فرح نے اسے چیک کیا اور اسے تشویشناک حالت کے باعث اسی روز نشتر ہسپتال ملتان ریفر کردیا مگر مریضہ کے ورثا اسی روز اسے واپس نشتر سے خانیوال لے آئے اور بضد ہو گئے کہ نشتر میں انہیں کسی نے توجہ نہیں دی لہذا ان کا علاج ڈی ایچ کیو ہی میں کیا جائے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر زاہدہ اور ڈاکٹر مصاحبہ اس خاتون کاعلاج کررہی تھیں۔ واقعہ کی اطلاع میں ڈپٹی کمشنر خانیوال چوہدری اشفاق احمد اور اسسٹنٹ کمشنر ڈی ایچ کیو پہنچ گئے اور انہوں نے متاثرہ خاتون کے ورثا سے ملاقات کرکے انہیں یقین دلایا اورانکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں ڈاکٹر ارشد ملک سی ای او ہیلتھ خانیوال ،ڈاکٹر زاہد جمال خٹک اور ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسرایاز حسین شامل ہیں۔

جان دیدی

مزید : ملتان صفحہ آخر