لینڈ ریکارڈ سنٹر میں سہولیات کا فقدان‘ لوٹ مار عروج پر‘ سائل خوار

لینڈ ریکارڈ سنٹر میں سہولیات کا فقدان‘ لوٹ مار عروج پر‘ سائل خوار

ملتان(نیوزرپورٹر) لینڈ ریکارڈ سنٹر ملتان حکام کی مجرمانہ غفلت اور عدم دلچسپی کے باعث عوام کو دی جانے والی سہولیات کوبرباد کرکے رکھا دیا ہے یومیہ لاکھوں روپے ریونیو دینے(بقیہ نمبر45صفحہ12پر )

والے سنٹرپر سہولیات کا شدید فقدان ہے کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے افسران نے عوام کی سہولت کے لئے بنائے گئے سنٹرز کو اجاڑ کے رکھا دیا ہے سنٹرز کے ہالز میں ائیر کنڈیشنر ز ناکارہ ہونے کی وجہ سے شدید گرمی میں خراب پڑے ہیں جس کی وجہ آنے شہریوں کوشدید حبس میں سانس لینا مشکل ہوتا ہے حتی کہ پنکھے بھی خراب ہونے کی وجہ سے انتظار گاہ میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتاہے حبس اور پسینے میں لت پت خواتین اور حضرات کو دھوپ میں کھڑا رہناپڑتا ہے بیشتر سائلیں کے لئے کوئی ٹھنڈے پانی کا انتظام نہیں ہے صفائی تک نہیں کی جاتی ہے نئی بلڈنگ خستہ حالت دیکھائی دیتی ہے لان میں کوئی سایہ دار درخت تک نہیں اگایا گئے لاکھوں روپے کی لاگت سے بنائے گئے واش رومز بھی انتہائی خراب حالت میں بند پڑے ہیں افسران کی گاڑیوں کے لئے شیڈ ز بنایا ہوا ہے سائلین کے لئے شیڈز کی تعمیر مکمل نہیں کی جارہی ہے جبکہ افسران نے اپنے کمروں میں سیٹ کے اوپر اے سی لگوارکھے ہیں اور سٹاف بھی شدید حبس میں کاونٹرز چھوڑ کرغائب ہوجاتے ہیں عوام کی شکایت کے لئے بنایا گیا ہیلپ لائن کو بھی جان بوجھ کر خراب کی ہوئی ہے بزرگ خواتین کے لئے کوئی مناسب الگ جگہ نہیں بنائی گئی ہے ایکسپریس سنٹرز کو وجود تک نہیں ہے شہریوں کو کئی کئی گھنٹوں نیٹ سست ہونے کی سزا دی جاتی ہے لنگ ڈاو?ن کا بہانہ بناکر لوگوں کو پریشان کیا جاتا ہے اور کئی چکر لگوائے جارہے ہیں رش زیادہ ہونے کی وجہ سے درجنوں سائلیں شدید گرمی میں باہر پلاٹوں میں انتظار میں کھڑا رہنا پڑتا ہے جبکہ گزشتہ ایک ماہ میں انتظار گاہ کا شیڈ مکمل نہیں ہوسکا ہے سستی روی سے شیڈ تعمیر کیا جارہا ہے سنٹر میں عوام کے بیٹھنے کے لئے دیئے گئے سٹیل کے بنچ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں فرنیچر خستہ حالت ہوچکا ہے اے ڈی ایل آرز کے دفتر کے اندر بھی خستہ حالت کم فرنیچر پر سائلیں کو گھنٹوں کھڑا کیا جاتا ہے جس سے بزرگوں کی تذلیل کی جاتی ہے فرنیچر کی کمی سے خواتین اور بزرگوں کورفرش پر بیٹھنا پڑتا ہے اس طرح کمپوٹرز اور پرنٹرز تک ناکارہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو کافی پریشانی کاسامنا ہے فرد ملکیت اور دیگر کاغذات کی نقول غیر واضح ہونے کی وجہ سے پڑھی نہیں جاتی ہیں اس کے علاوہ سنٹرز پر آنے والوں لوگوں کو اپنے سواریاں موٹر سائیکل اور گاڑیاں سٹرک پر پارک کرنی پڑتی ہیں جن سے پارکنگ فیس 50سے 60روپے وصول کی جارہی ہے اندر بزرگ شہریوں کو اپنے سواری پر جانے کی اجازت تک نہیں دی جاتی ہے اس طرح لینڈ ریکارڈ سنٹرز عوام کے لئے عذاب سے کم نہیں ہے لوگ سراپا احتجاج ہیں سائلین کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے شہریوں کا کہنا ہے کہ سنٹرپر قلیل عرصہ میں سہولیات کو ختم کردیا گیاہے ون ونڈو کا نظام متعارف کروایا جائے سائلین کو ایک درجن سے زائد کاو?نٹرز کے چکر لگوائے جاتے ہیں بزرگ بیمار سائلین کو بالائی منزل کی سزا بھی دی جاتی ہے سیڑھیوں پر بار چکر لگواکر پریشان کیا جاتا ہے اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے پوچھا گیا تو بتایا گیا ہے ضلعی انتظامیہ ڈی سی کو عوام مسائل پر آگاہ کیاہوا ہے اور لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہوا مگر کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں وہ بے بس ہیں جب عارضی کنٹریکٹ پر افسران تعینات کئے جائیں گئے تو کوئی بھی دلچسپی سے کام نہیں کرے گا اپنی تنخواہوں سے سہولیات دینے سے قاصر ہیں

لینڈ ریکارڈ سنٹر

Back to Conversion Tool

 

مزید : ملتان صفحہ آخر