شاہد خاقان ،فواد منظور وسان ،نثار کھوڑو کے کاغذات نامزدگی مسترد

شاہد خاقان ،فواد منظور وسان ،نثار کھوڑو کے کاغذات نامزدگی مسترد

راولپنڈی/خیرپور/لاڑکانہ/بنوں/کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) اپیلٹ ٹریبونل نے این اے 57 سے ٹمپرنگ کے الزام میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، این اے 64 چکوال سے تحریک انصاف کے امیدوار سردار غلام عباس، این اے 67 جہلم سے پی ٹی آئی کے امیدوار اور پارٹی ترجمان فواد چودھری ،پیپلز پارٹی کے منظور وسان اور نثار کھوڑو سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپانے ‘ این ٹی این نمبر ظاہر نہ کرنے پر مسترد کر دئیے۔ الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس عباد الرحمن لودھی نے گزشتہ روزمختلف قومی و صوبائی اسمبلی سے امیدواروں کی جانب سے دائر اپیلوں کی سماعت کی ۔این اے 57کے اپیلٹ ٹربیونل کے جسٹس عباد الرحمن لودھی نے شاہد خاقان عباسی کی اپیل پر سماعت کی۔ ٹربیونل نے کاغذات نامزدگی میں ٹمپرنگ کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار شاہد خاقان عباسی کو این اے 57 الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا۔ ٹربیونل نے فیصلہ میں کہا کہ درخواست گزار کے تمام اعتراضات کو منظور کیا جاتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کے خلاف مسعود احمد عباسی نے درخواست دائر کی تھی۔چکوال کے حلقہ این اے 64 سے تحریک انصاف کے امیدوار سردار غلام عباس اور پی پی 23 سے امیدوار سردار آفتاب اکبر کیخلاف قاضی عمر ایڈووکیٹ کی اپیل کی سماعت کی۔ درخواست دہندہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سردار عباس نے اپنے بہت سے اثاثے ظاہر کئے اور نہ ہی اپنا این ٹی این نمبر لکھا ‘ اپنی زمینوں اور فارم ہاؤسز کو چھپایا جس پر وہ الیکشن لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔ دلائل سننے کے بعد الیکشن ٹربیونل کے جج عباد الرحمن لودھی نے سردار غلام عباس کو الیکشن لڑنے کیلئے نااہل قرار دیدیا۔ اسی طرح جہلم کے حلقہ 67 سے تحریک انصاف کے امیدوار و مرکزی ترجمان فواد چوہدری کو بھی اثاثے ظاہر نہ کرنے اور غلط بیانی پر نااہل قرار دیدیا ۔ دریں اثناء ٹربیونل نے این اے 57 کے ریٹرننگ آفیسر ایڈیشنل سیشن جج حیدر علی کو آر او کے عہدے ہٹانے کا تحریری حکم جاری کر دیا ہے او راس ضمن میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ این اے 57 کیلئے نیا ریٹرننگ آفیسر مقرر کیا جائے جبکہ ٹربیونل کے جج نے رجسٹرار کو ایڈیشنل جج حیدر علی کیخلاف انکوائری کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔پیپلز پارٹی کے صوبائی اسمبلی کیلئے امیدوار منظور وسان کے کاغذات نامزدگی ایپلٹ ٹربیونل نے مسترد کردئیے ۔منظور وسان نے خیرپور کی صوبائی نشست پی ایس 27 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے جس کے خلاف ایپلٹ ٹریبونل نے اعتراض پر سماعت کے بعد اسے مسترد کردیا۔دوسری جانب منظور وسان کا کہنا ہے کہ انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ ان کے نامزدگی فارم کیوں مسترد کیے گئے جبکہ وہ تمام اثاثے ظاہر کرچکے ہیں۔ منظور وسان نے اعلان کیا کہ کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو کے صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے۔الیکشن ٹربیونل نے پی ایس 11 لاڑکانہ 2 سے نثار کھوڑو کے کاغذات مسترد کیے۔الیکشن ٹربیونل کے مطابق نثار کھوڑو نے کاغذات نامزدگی میں 3 کے بجائے 2 بیویاں اور 4 بچے ظاہر کیے تھے۔ٹربیونل کے مطابق ایک بیوی، ایک بیٹی اور 166 ایکڑز اراضی چھپانے پر نثار کھوڑو کے کاغذات مسترد کیے گئے۔دوسری جانب نثار کھوڑونے کہاکہ کاغذات نامزدگی میں کوئی چیز نہیں چھپائی، ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کروں گا۔دوسری جانب جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایپلٹ ٹریبونل نے عمران خان کیخلاف درخواست گزار ہارون ارشد شیخ کی درخواست مسترد کر کے چیئرمین پی ٹی آئی کوقومی اسمبلی کے حلقہ این اے 53 اسلام آبادسے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو این اے 35 بنوں سے بھی الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی۔ پشاور کے ایپلٹ ٹریبونل نے جسٹس ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار انعام اللہ کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے عمران خان کو اہل قرار دیا۔این اے 243 کے الیکشن ٹریبونل نے کراچی سے بھی عمران خان کو الیکشن لڑنے کیلئے اہل قرارد ے دیا۔سندھ میں قائم تین ایپلٹ ٹریبونلز نے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف مجموعی طور پر تمام 206 اپیلیں نمٹا دیں۔ سندھ ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے این اے 243 سے ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے۔خواجہ اظہار نے کاغذات نامزدگی این اے 243 کے بجائے این اے 242 کے ریٹرننگ افسر کو جمع کرا دیے تھے۔واضح رہے کہ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد الیکشن کمیشن نے 19 جون کو ملک بھر میں ہائی کورٹ کے ججز پر مشتمل 21 ایپلٹ ٹریبونلز بنائے تھے، جہاں دائر کی گئی اپیلوں پر فیصلے کے لیے 27 جون تک کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔اسلام آباد کیلئے ایک، خیبر پختوانخوا میں 6، پنجاب میں 8، سندھ میں 4 اور بلوچستان میں 2 ایپلٹ ٹریبونلز قائم کیے گئے ہیں۔الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق امیدواروں کی نظر ثانی شدہ فہرست 28 جون کو جاری ہوگی جبکہ امیدوار 29 جون کو کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے۔شیڈول کے مطابق 29جون کو ہی امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کی جائے گی۔جبکہ 30 جون کو امیدواروں کو انتخابی نشانات جاری کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ عام انتخابات کے لیے پولنگ 25 جولائی کو ہوگی۔

نااہل قرار/اجازت

لاہور(نامہ نگارخصوصی) لاہورہائیکورٹ کے ججوں پر مشتمل الیکشن اپیلٹ ٹربیونلزنے اپنی کارروائی کے آخری روزکاغذات نامزدگی مسترد یا منظور ہونے کے خلاف دائر تمام اپیلیں نمٹا دیں۔فاضل ٹربیونلزنے سابق وزیرمملکت اورمسلم لیگ (ن) کے راہنماعابد شیر علی کے بھائی عمران شیر علی کوحلقہ پی پی 117سے مولانا رحمت اللہ کو پی پی 95چنیوٹ سے ،سابق وفاقی وزیر خالد کھرل مرحوم کے بیٹے حیدر کھرل کو این اے 113ٹوبہ ٹیک سنگھ سے جبکہ تحریک لبیک کے آصف اشرف جلالی کو حلقہ این اے 81گوجرنوالہ سے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نااہل قراردے دیاہے۔الیکشن ٹربیونل نے جھنگ سے قومی اسمبلی کے امیدوار مولانا احمد لدھیانوی کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے ۔ٹربیونلز کے فیصلوں کے خلاف قائم ڈویژن بنچ نے جے یوپی کے امیدوار فائز محمود کی رٹ درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ۔لاہور ہائیکورٹ پرنسپل نشست پر قائم چار الیکشن ٹربیونلز نے عمران شیر علی کو سوئی گیس کا ڈیفالٹر ہونے کی بناء پر نااہل قراردیاجبکہ آصف اشرف جلالی نے اپنی ٹریولنگ ہسٹری ظاہر نہیں کی جس کی بناء پر انہیں نااہل قراردیا گیا۔ٹربیونل نے حلقہ این اے 113ٹوبہ ٹیک سنگھ سے امیدوار حیدر علی کھرل کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کا آراو کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے انہیں الیکشن کے لئے نااہل قراردے دیا ،وہ اولڈ ایج بینفیٹ انسٹی ٹیوشن کے 30لاکھ روپے کے نادہندہ ہیں۔حلقہ پی پی 95 چنیوٹ سے مولانا رحمت اللہ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا فیصلہ برقراررکھا۔الیکشن ٹربیونل نے حلقہ این اے 87 حافظ آباد سے سابق وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت برقرار رکھتے ہوئے ان کے خلاف اپیل خارج کردی۔ٹربیونل نے حلقہ این اے 75 ڈسکہ سے اعجاز چیمہ،پی پی 53 گوجرانوالہ سے ناصر چیمہ،پی پی 124 غلام احمد گاڈی،پی پی 107 سے چودھری زاہد محمود،پی پی 109 فیصل آبادسے ندیم آفتاب سندھو،پی پی 124جھنگ سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار غلام احمد ، پی پی 30سے رضا علی وڑائچ اورپی پی 44 سے ملک منیرکے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف اپیلیں خارج کردیں ۔الیکشن اپیلٹ ٹربیونل کے فیصلوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے پہلا فیصلہ سناتے ہوئے جمعیت علمائے پاکستان نورانی گروپ کے امیدوار فائز محمود کو انتخابات کیلئے اہل قرار دے دیا،الیکشن ٹربیونل نے انتخابی اخراجات کا اکاؤنٹ نہ کھولنے پر فائزمحمود کو انتخابات کے لئے نااہل قرار دیا تھا۔

نااہل قرار

مزید : کراچی صفحہ اول