ثقافتی برادری کے مستحق افراد کے علاج معالجہ کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی:دوست محمد خان

ثقافتی برادری کے مستحق افراد کے علاج معالجہ کے اخراجات حکومت برداشت کرے ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان نے ثقافتی برادری کے مستحق افراد کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات مہیا کرنے کا یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے علاج کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ انہوں نے اس سلسلے میں انڈومنٹ فنڈ کے اجراء کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے مجوزہ انڈومنٹ فنڈ کو باضابطہ قانون اور رولز کے ذریعے دیر پا بنانے کا بھی عندیہ دیا اور انہیں میڈیا کے ذریعے مشتہر کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ آئندہ کوئی بھی تہذیب اور تمدن کے محافظوں کی مالی معاونت کیلئے اس اہم اقدام کو ختم یا تبدیل نہ کرسکے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی ذاتی پسند و ناپسند کا دخل ممکن ہو سکے ۔انڈومنٹ فنڈ کے تحت ون ونڈو آپریشن کے ذریعے متعلقہ ہسپتال انتظامیہ کی فراہم کردہ معلومات و سفارشات پر متعلقہ بینک کراس چیک کے ذریعے ہسپتال کو براہ راست فنڈ منتقل کرے گا۔ ثقافتی برادری نے اپنی زندگی کے بہترین ایام قوم کی تفریح کیلئے وقف کئے ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ثقافتی برادری کے مستحق افراد کو نقد مالی امداد دینے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ ثقافت کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مالی امداد وصول کرنے والوں میں غلام عباس گل ڈیروی، مسعود انور خان، حشمت خان، ممتاز علی شاہ، اکمل لیونے، سخی داد، یونس قیاسی، ہدایت اﷲ،نظر محمداور بلقیاس شامل تھے ۔نگران وزیراعلیٰ نے مستحقین کو اپنے صوابدیدی فنڈ سے نقد مالی امداد فراہم کی اورثقافتی برادری کے مستحقین کی بلا تعطل مالی معاونت کیلئے کروڑوں روپے کے انڈومنٹ فنڈ کے اجراء کا اعلان کیا اور اس سلسلے میں صوبائی بجٹ میں بھی خطیر رقم رکھنے کا یقین دلایا۔انہوں نے عندیہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر نگران وزراء کو بھی تنخواہیں نہ لینے کا کہہ سکتا ہوں ۔انہوں نے کہاکہ کرسی اور اختیارات 3 کروڑ عوام کی امانت ہیں حکمرانوں کو اپنا آرام چھوڑ کر دن رات کام کرنا چاہیئے اور شہریوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیئے تاکہ حقدار کو حق کی فراہمی ممکن ہو سکے ۔ وزیراعلیٰ نے ثقافتی برادری کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ دُکھ اس بات کا ہے کہ جب یہ لوگ اپنے عروج پر ہوتے ہیں تو سب ان کے مداح ہوتے ہیں اور یاد کرتے ہیں لیکن جب یہ لوگ عمر کے آخری حصے میں چلے جاتے ہیں اور چارپائی کا حصہ بنتے ہیں تو بھول جاتے ہیں۔ اس معاشرے کو بنانے میں ثقافتی برادری کا بنیادی کردار ہے جن کی معاونت حکومت کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ لوگ اپنی زندگی کے بہترین دن قوم کیلئے صرف کرتے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ شعراء ، ادیبوں ، فنکاروں ،نثر نگاروں اور ثقافت کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے بیمار اور معذور افراد کا ڈیٹا جمع کریں اُن کے علاج کا خرچہ حکومت برداشت کرے گی چاہے سرکاری ہسپتال میں ہو یا وہ کسی پرائیوٹ ہسپتال میں زیر علاج ہوں ۔ اس مقصد کیلئے انڈومنٹ فنڈ کے قیام کیلئے مختلف بینکوں سے رابطہ کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ رعایت دینے والے بینک میں انڈومنٹ فنڈ قائم کیا جائے جس کے تحت مریضوں کو ون ونڈو آپریشن کے ذریعے مالی معاونت دی جا سکے ۔ وزیراعلیٰ نے انڈومنٹ فنڈ سے استفادہ کرنے والوں کی فہرست میں مذکورہ شعبوں کے علاوہ مستحق اساتذہ اور معذورافراد کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی ۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان نے واضح کیا ہے کہ نگران کابینہ کے اراکین کا انتخاب خالصتاً میرٹ پر کیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہاکہ سیاسی پارٹی کیلئے وزیر بنانا مشکل نہیں ہوتا تاہم ایک نگران وزیراعلیٰ کیلئے اراکین کے انتخاب میں کوالیفکیشن کی طویل فہرست سامنے رکھنا ہوتی ہے اور ہم نے اس طریق کار کے تحت قابل اور ماہر لوگوں کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے انتخاب میں کسی علاقے کو محروم نہیں کیا گیا ۔ ہزارہ سے بھی ایک قابل آدمی کا انتخاب کیا تھا مگر عین وقت پر جب اُن سے رابطہ کیا گیا تووہ امریکہ میں تھے اور اُنہوں نے خود ذمہ داری لینے سے معذرت کا اظہار کیا۔ وقت ایسا تھا کہ ہمارے لئے اُن کی جگہ ہزارہ سے ہی دوسرے آدمی کا نئے سرے سے انتخاب کرنا مشکل تھا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ بی آرٹی منصوبے کے حوالے سے ایک سوال پر وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ نگران حکومت کی کوشش ہے کہ عوامی مفاد کے منصوبے جلد مکمل ہوں انہوں نے کہاکہ وہ خود مختلف منصوبوں کا دورہ کریں گے اور جلد تکمیل کیلئے کوشش کریں گے جو لوگ کام کرتے ہیں اُن کو تعریفی اسناد دیں گے اور کام نہ کرنے والوں سے ذمہ داری واپس لیں گے ۔ نگران وزیراعظم کے دورہ پشاور اور اجلاس کے حوالے سے نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ اجلاس میں صوبے میں شامل ہونے والے نئے اضلاع کے مالی ، انتظامی اورسکیورٹی اُمور اور پیچیدگیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذکورہ اُمور کے سلسلے میں مرکزی سطح پر بھی ایک کمیٹی بنائی گئی ہے اور یہاں بھی ہم نے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے ۔اُنہوں نے انکشاف کیا کہ نگران وزیراعظم نے صوبے میں سکیورٹی اقدامات کو سراہا اور کہاکہ یہ صوبہ اس سلسلے میں دیگر صوبوں سے بہت آگے ہے ۔ نگران وزیراعظم نے انتخابات کے حوالے سے بھی ہمارے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور مجموعی طور پر طرز حکمرانی اور امن و امان کی صورتحال کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ غیر جانبدار اور شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے غیر جانبدار حکمرانی ناگزیر ہے ۔ دوست محمد خان نے کہا کہ وہ انتخابات کے دوران سکیورٹی کے سلسلے میں مختلف سکیورٹی اداروں سے بات کرچکے ہیں اور ضرورت پڑنے پر آزاد کشمیر سے بھی نفری لی جا سکتی ہے کیونکہ آزاد کشمیر میں انتخابات نہیں ہو رہے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول