کراچی ،مشتاق احمد یوسفی کی یاد میں ’’ادبی ریفرنس ‘‘ کا انعقاد

کراچی ،مشتاق احمد یوسفی کی یاد میں ’’ادبی ریفرنس ‘‘ کا انعقاد

کراچی( اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام پاکستان کے ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی یاد میں ’’ادبی ریفرنس ‘‘ کا انعقاد اکادمی کے کراچی دفتر میں کیا گیا۔ اس موقع پر اظہار خیال مسلم شمیم نے کہا کہ نقوش چھوڑ گئے میں وہ زندہ رہیں گی اور لیجنڈا شخص تھے ۔ آپ خود نہیں ہنستے دوسروں کو ہنساتے ہیں اپنے حاضر ین قارئین اور سامعین کے سامنے نہ مرزا فرحت اللہ بیگ کی طرح تاوے کاٹتے ہیں نہ رشیداحمد صدیقی کے عالمانہ مزاح کی جھلک دکھاتے ہیں نہ پطرس اور شفیق الرحمن کے ماند ہلکے پھلکے مزاح کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ تو روشنی کا ایک غبارہ چھوڑتے ہیں جس سے مسکراہٹیں پھوٹی رھتی ہیں روشنی مسکراہٹ اور پے درپے بدلتے ہوئے رنگ مزاح یوسفی کا نیرنگ ہیں۔ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی نے کہا کہ اہل یوسفی پر جیتے تھے اب سحر یوسفی پر جیتں گے اس میں ایک جملے میں پورے برصغیر کا بیان کرنے کی صلاحیت تھی۔ پاکستان ٹیلویز کے جنرل مینجر امین میمن نے کہا کہ لکھاری کسی بھی زبان کا ہو وہ تمام زبانوں کی دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ اس موقع پر قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ ایک ایساشخص اور بھرپور زندہ شخص جس نے اردو کے شگفتہ ادب کو اسلوب دیا ہو ایسا اسلوب جس میں دانش بصیرت لطافت برجستگی ایسی ہوکہ اس کے اندر سے زندگی رنگ پچکاری ہوکر پھوٹ نکلتی ہو جس نے بہت تکلف سے بے تکلفی کشیدگی کی ہو اور تضاد کی صنعتوں کو استعمال میں لاکر جملے بنائے ہوئے اتنی ریاضت کی ہوکہ وہ بے ساختہ لگیں جس نے محبتیں بانٹیں ہو اور بہت سی محبتیں سمیٹیں ہوں اتنی کہ وہ زندگی میں لیجنڈ ہوجائے اس کے بغیر وقت میں ا یک کہانچا پڑہی جاتاہے جسے کوئی اورپُر نہیں کرسکتا۔اس موقع پردیگر مقرین میں راحت سعید، ساجدہ سلطانہ ،نشاط غوری، سمین خوان، پروفیسر فرزانہ خان، نصیر سومرو، رفیق مغل ،محمود حسن ، محمودہ خان،میاں بخش میرانی،نے اظہار خیال کیا۔ آخر میں مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا۔ جن شعراء کرام نے کلام پڑھا اس میں سید صغیر احمد جعفری، سیما عباسی، آئرین فرحت ،سیف الرحمن سیفی، فرح دیبا، زیقرنین کھوکھر، زاہد پرویز، نشاط غوری، عظمی جون،حمیراگل تشنہ، غفران احمد غفران، گوھر فاروقی، غازی غلام رسول طاہر، سجاد میرانی، اقبال رضوی، محمدعلی زیدی، سیف منیف اشعر ،تنویر حسین سخن، اقبال افسر غوری، محمد رفیق مغل، عارف شیخ عارف، صدیق راز ایڈوکیٹ، طاہر سلیم سوز، آتش پہیار، الحاج یوسف اسماعیل، اقبال سہوانی، ڈاکٹر توصیف ہاشمی،نے اپنا کلام سُنایا ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر