کراچی،حلقہ این اے 248،قاری عثمان اور قادر پٹیل میں سخت مقابلہ متوقع

کراچی،حلقہ این اے 248،قاری عثمان اور قادر پٹیل میں سخت مقابلہ متوقع

کراچی (رپورٹ/غلام مرتضیٰ) کراچی کے ضلعی غربی کا شمار شہر کے گنجان آباد اضلاع میں ہوتا ہے ۔ایشیا کی سب سے بڑی کچی آبادی اورنگی ٹاؤن بھی ضلع میں غربی میں واقع ہے ۔ضلع کی کل آبادی 3914757نفوس پر مشتمل ہے جس میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 1660057ہے جن میں مرد ووٹرز 1000387جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 659670ہے ۔ اس ضلع میں مختلف زبانیں بولنے والے افراد آباد ہیں ۔مشرقی پاکستان سے ہجرت کرنے والے افراد بھی بڑی تعداد بھی یہاں رہائش پذیر ہیں ۔ماضی میں یہاں سے قومی اسمبلی کی چار نشستیں تھیں تاہم نئی مردم شماری کے بعد کی گئی حلقہ بندیوں کے بعد یہاں قومی اسمبلی کی ایک نشست کا اضافہ کردیا گیا ہے ۔نئی حلقہ بندیوں کے مطابق ضلع غربی میں قومی اسمبلی کی نشستوں میں این اے 248,249,250,251اور 252شامل ہیں ۔این اے 248 میں ماری پور، گابوپٹ، ہاکس بے، مشرف کالونی، بدھنی گوٹھ، کسٹم ہاوس، پی اے ایف بیس مسرور، مواچھ گوٹھ،این اے 249: بلدیہ ٹاون،این اے 250: سائٹ سب ڈویژن، اورنگی ٹاون،این اے 251: مومن آباد سب ڈویژن،این اے 252: گلشن معمار، تیسر ٹاون، منگھوپیر، سرجانی ٹاون اور بند مراد کے علاقے شامل ہیں ۔این اے 248میں شامل علاقے پہلے حلقہ این اے 239کا حصہ تھے ۔2002کے انتخابات میں یہاں سے متحدہ مجلس عمل کے قاری گل رحمن 22164لے کر کامیاب ہوئے تھے جبکہ ان کے مدمقابل پیپلزپارٹی کے افتخار حسین نے 21461ووٹ حاصل کیے تھے ۔2008میں اس حلقے سے پیپلزپارٹی کے عبدالقادر پٹیل 66840ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جبکہ 2013کے انتخابات میں حیرت انگیز طور پر ایم کیو ایم کے سلمان مجاہد بلوچ 39251ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی ۔اس حلقے کے ماضی کے انتخابی نتائج کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس حلقے میں آخری تین انتخابات میں تین مختلف جماعتوں کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے ۔2013کے انتخابات میں ایم کیو ایم کے سلمان مجاہد بلوچ کی کامیابی پر بہت سی انگلیاں اٹھی تھیں لیکن ہمیشہ کی طرح ایم کیو ایم کو سیاسی فائدہ پہنچایا گیا ۔سلمان مجاہد بلوچ کی کامیابی کو ’’ٹھپہ مافیا‘‘ کی کارستانی قرار دیا گیا ۔2018کے عام انتخابات میں اب یہ حلقہ این اے 248ہے ۔دینی جماعتوں کا اتحاد ایم ایم اے ایک مرتبہ پھر معروض وجود میں آگیا ہے اور جے یو آئی کے رہنما قاری محمدعثمان کو یہاں سے امیدوار نامزد کیا گیا ہے ۔مسلم لیگ (ن) کے محمد سلمان خان ،پیپلزپارٹی کے عبدالقادر پٹیل ،پی ٹی آئی کے سردار عزیز ،پی ایس پی کے یوسف شاہوانی بھی یہاں سے میدان میں موجود ہیں ۔ایم ایم اے کی بحالی کے بعد اس حلقے میں اس کی پوزیشن نہایت مضبوط نظر آرہی ہے اور یہاں اصل مقابلہ ایم ایم اے کے قار ی عثمان ،پیپلزپارٹی کے عبدالقادر پٹیل اور پی ٹی آئی کے سردار عزیز کے درمیان متوقع ہے ۔پیپلزپارٹی کے عبدالقادر پٹیل 2008کے انتخابات میں یہاں سے کامیابی حاصل کرچکے ہیں لیکن ایم این اے بننے کے بعد وہ اپنی کارکردگی سے حلقے کے عوام کو مطمئن نہیں کرسکے جس کی وجہ سے 2013کے انتخابات میں ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔2002کے انتخابات میں یہاں سے ایم ایم اے کے قاری گل رحمن نے کامیابی حاصل کی تھی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس حلقے میں مذہبی جماعتوں کے ووٹ جماعتوں کا ووٹ بڑی تعداد میں موجود ہے ۔قاری عثمان ایک سرگرم مذہبی رہنما ہیں اور علاقے کی مختلف برادریوں کی جانب سے ان کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے ۔ایم ایم اے کے امیدوار نے اگر منظم انداز میں اپنی انتخابی مہم چلائی تو یہ حلقہ کراچی کے ان حلقوں میں شامل ہے جہاں سے ایم ایم ایم کی کامیابی کے امکانات انتہائی روشن ہیں ۔دوسری جانب پی ٹی آئی میں ٹکٹس کی تقسیم کا تنازع اس حلقے پر اثر انداز ہوگا ۔2013کے انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والے سبحان علی ساحل کو اس مرتبہ ٹکٹ نہیں دیا گیا ان کی جگہ نسبتاً غیرمعروف سردار عزیز پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں جس کا نقصان پاکستان تحریک انصا ف کو پہنچ سکتا ہے ۔2013کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے سلمان مجاہد بلوچ کی کامیابی اس وقت کی ٹھپہ مافیا کی کارستانی تھی ۔اس مرتبہ یہاں سے ایم کیو ایم کو قابل ذکر ووٹ ملنے کی امید نہیں ہے ۔پی ایس پی پہلی مرتبہ انتخابی میدان میں اتری ہے ۔اس کے امیدوار یوسف شاہوانی رکن سند ھ اسمبلی رہ چکے ہیں ۔اس حلقے سے پی ایس پی کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر