فاٹا انضمام ،ضلعی انتظامیہ کے اختیارات کیخلاف رٹ پر جواب طلب

فاٹا انضمام ،ضلعی انتظامیہ کے اختیارات کیخلاف رٹ پر جواب طلب

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید اور جسٹس اکرام اللہ پرمشتمل دورکنی بنچ نے خیبرپختونخوامیں فاٹاکے انضمام کے تحت قبائلی علاقوں کی ضلعی انتظامیہ کو دئیے جانے والے اختیارات کے خلاف دائررٹ پراٹارنی جنرل آف پاکستان اورایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخواکونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیاہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے علی عظیم آفریدی ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ کی سماعت کی ا س موقع پر عدالت کو بتایا گیاکہ فاٹاکاخیبرپختونخوامیں جو انضمام ہواہے اس میں یہ بھی کہاگیاہے کہ بیوروکریٹس جوڈیشل اختیارات استعمال کرسکیں گے جبکہ جرگہ کو سول اورفوجداری تنازعات نمٹانے کابھی عارضی اختیار دیاگیاہے جو کہ غیرقانونی اورغیرآئینی ہے انہوں نے عدالت کو بتایاکہ 25مئیء کو ریگولیشن کی منظوری ہوئی جبکہ آئین میں ترمیم جون میں ہوئی اورآئینی طورپر ریگولیشن کو آئینی کورنہیں دیاگیاقوانین کے تحت ڈپٹی کمشنرز کو ا نتظامی اورجوڈیشری دوہرے اختیارات تفویض کئے گئے ہیں جو آئین کے منافی ہیں اورجرگہ مشران بھی ڈپٹی کمشنرتقررکرے گاجبکہ ڈی سی کو ایک جانب سزادینے کااختیار دیاگیاہے تو دوسری جانب معافی کااختیاربھی اسے حاصل ہے عدالت عالیہ نے ابتدائی دلائل کے بعد اٹارنی جنرل آف پاکستان اورایڈوکیٹ جنرل کونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر