نگران وزیر خزانہ کی بی آر ٹی منصوبہ بروقت مکمل کرنے کی ہدایت

نگران وزیر خزانہ کی بی آر ٹی منصوبہ بروقت مکمل کرنے کی ہدایت

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے نگران وزیربرائے خزانہ اورمنصوبہ سازی وترقیات عبدالروف خان نے بی آرٹی منصوبے کی بروقت تکمیل کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس میگا پراجیکٹ میں غفلت برداشت نہیں کی جائیگی تاکہ پشاورکے شہریوں کو جلد از جلد معیاری سفری سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے پراجیکٹ ڈائریکٹر بی آر ٹی کوہدایت کی کہ تعمیراتی کام کی وجہ سے سڑکوں پر دھول اورمٹی کوکم سے کم کرنے کے لئے تین تین بار صبح وشام سڑکوں پرپانی کے چھڑکاؤ کافوری بندوبست کیا جائے ۔یہ ہدایت انہوں نے بی آرٹی منصوبے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی ۔اجلاس میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ کامران خان ،پراجیکٹ ڈائریکٹربی آرٹی اسرار الحق،انجینئرسجاد خان اوردیگر حکام نے شرکت کی ۔اس موقع پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ اورپراجیکٹ ڈائریکٹر نے نگران وزیر برائے خزانہ ومنصوبہ سازی وترقیات عبدالروف خان کو منصوبے پرتفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بی آر ٹی کوریڈور کی لمبائی 27 کلومیٹرہے جس میں 11 کلومیٹر زمین پراور13 کلومیٹرفلائی اوور ز جبکہ 3 کلومیٹرزمین دوز روڈپرمحیط ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے میں 30 بس سٹیشن مختلف جگہوں پرقائم کیے جارہے ہیں۔انہوں نے منصوبے کے بارے میں مزید بتاتے ہوئے کہاکہ مین کوریڈور کے علاوہ 7 فیڈر روٹس ہیں جس کی کل لمبائی 68 کلومیٹر بنتی ہے۔انہوں نے کہاکہ پشاوربی آر ٹی ملک کا واحد منصوبہ ہے جس میں فیڈر روٹس اورپارکنگ ڈپو کے علاوہ سائیکل کے لئے علیحدہ لین بنائی جارہی ہے ۔انٹیلیجینٹ ٹرانسپورٹ سسٹم ،لفٹ سروس اورمتواتر بجلی کی فراہمی کا انتظام بھی منصوبے کاحصہ ہے ۔پہلے مرحلے میں 220 بسیں لوگوں کوسفری سہولیات فراہم کریں گی۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ بی آر ٹی کے ذریعے روزانہ تقریباً 4 لاکھ افراد کم سے کم 15 اورزیادہ سے زیادہ 55 روپے کے کرائے پر سفر کریں گے۔منصوبے کی تکمیل سے لوگوں کو پرانی بسوں سے نجات ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے میں50 مختلف مقامات پر7 ہزار سے 8 ہزار تک مزدور تیزی سے کام کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود تعمیراتی کام کے معیار پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جارہاہے۔نگران وزیر برائے خزانہ نے جاری کام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے پر کام کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ عوام کوجلدازجلدبہترین سفری سہولیات میسر ہوں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر