رکھوالے ہی قانون شکن بن گئے ، ڈی آئی جی آپریشنز نے نئی گاڑی پر 1990ء کی نمبر پلیٹ لگادی

رکھوالے ہی قانون شکن بن گئے ، ڈی آئی جی آپریشنز نے نئی گاڑی پر 1990ء کی نمبر ...
رکھوالے ہی قانون شکن بن گئے ، ڈی آئی جی آپریشنز نے نئی گاڑی پر 1990ء کی نمبر پلیٹ لگادی

  

لاہور (ویب ڈیسک) سکیورٹی تھریٹ یا قانون شکن پولیس افسران ،  ڈی آئی جی آپریشنز کے زیر استعمال سفید رنگ کی نیو ماڈل لینڈ کروزر کو 1990ء کا رجسٹریشن نمبر لگا کر کھلے عام قانون کا مذاق بنا لیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد اکبر کے زیر استعمال سفید رنگ کی ٹیوٹا لینڈ کروزر جو لیٹسٹ ماڈل گاڑی ہے جس کی مالیت ایک کروڑ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔

روزنامہ خبریں کے مطابق ، دی آئی جی کی زیر استعمال اس گاڑی کو جو نمبر لگا ہوا ہے وہ ’’ LOD1646‘‘ ہے ، مگر حیرت انگیز طور پر ایکسائز ڈیٹا کے مطابق مذکورہ گاڑی کو جو نمبر لگا ہوا ہے وہ 1990ء ماڈل کی لینڈ کروزر کا ہے جس کے ڈیٹا کی تفصیلات کے مطابق گاڑی کا رنگ نیلا بتایا گیا ہے جبکہ چیسی نمبر 002605، انجن نمبر 004820ہے اور اس کے ٹوکن کی جون 2018ء تک کے لیے مکمل طور پر ادا شد ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جدید سفید لینڈ کروزر کی رجسٹریشن 6سے 7لاکھ روپے میں ہوتی ہے جس وجہ سے بہت سے قانون شکن افراد اپنی نئی گاڑیوں پر پرانے ماڈلز کے نمبر لگا کر ہی چلائے جاتے ہیں تاکہ ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا جا سکے اسی طرح یہ گاڑی بھی رجسٹرڈ نہیں کروائی گئی۔

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نمبر آئی جی آفس کی الاٹمنٹ ہو تو وہ ان کی دی گئی ہر گاڑی کو لگ سکتا ہے مگر اس گاڑی کی مکمل تفصیلات ایکسائز اور متعلقہ محکموں میں جمع کروانا ضروری ہے تاکہ کسی بھی حادثے سے بچا جا سکے اور یہ نمبر مجرمانہ کاروائیوں میں استعمال نہ ہوسکے ۔ دوسری جانب مذکورہ لینڈ کروزر جو لیٹسٹ ماڈل یعنی 2015ء یا 2016ء کی لگتی ہے جسے 1990ء ماڈل کی لینڈ کروزر کا نمبر لگانا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اس لا پروائی سے جرائم پیشہ افراد بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور