مریم نواز نے لاہور میں اپنا حلقہ کیوں تبدیل کرلیا ؟ بالآخر اصل وجہ سامنے آگئی

مریم نواز نے لاہور میں اپنا حلقہ کیوں تبدیل کرلیا ؟ بالآخر اصل وجہ سامنے آگئی
مریم نواز نے لاہور میں اپنا حلقہ کیوں تبدیل کرلیا ؟ بالآخر اصل وجہ سامنے آگئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما مریم نواز کی جانب سے تیسری بار اپنا حلقہ تبدیل کیا گیا ہے، وہ اب لاہور کے حلقہ این اے 127 سے الیکشن لڑیں گی جبکہ این اے 125 سے ن لیگ لاہور کے سربراہ پرویز ملک انتخابات میں حصہ لیں گے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آخری وقت میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اس حلقے میں آجائیں کیونکہ وہ تحریک انصاف کے انتہائی مضبوط امیدوار عبدالعلیم خان کا مقابلہ کرنے سے کترا رہے ہیں۔ مریم نواز کی جانب سے ناراض لیگی چیئرمینوں، آرائیں برادری کی اکثریت ، مذہبی طبقے کی مخالفت اور ڈاکٹر یاسمین راشد کی مسلسل ڈور ٹو ڈور مہم کے باعث این اے 127 سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لیگی قیادت کی جانب سے مریم نواز کو این اے 125 کی امیدوار کے طور پر لانچ کیا گیا تھا ، کیونکہ انہوں نے اسی حلقے میں جو نئی انتخابی حلقہ بندیوں سے قبل این اے 120 تھا سے 2013 میں اپنے والد میاں نواز شریف اور گزشتہ برس ان کی نا اہلی کے بعد اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز کی انتخابی مہم بہترین انداز میں چلائی تھی۔ والدہ کا الیکشن جیتنے کے بعد بھی مریم نواز حلقے کے مسلسل دورے کرتی رہیں اسی لیے انہیں اس حلقے سے الیکشن لڑانے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن گزشتہ ہفتے مسلم لیگ ن کے آفیشل ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر اعلان کیا گیا کہ مریم نواز این اے 127 سے الیکشن لڑیں گی لیکن پھر یہ فیصلہ بھی واپس ہوگیا جس کے بعد مریم نواز کی این اے 125 میں واپسی ہوئی لیکن بدھ کے روز مریم نواز کو این اے 127 کا ٹکٹ جاری کردیا گیا ۔

انگریزی روزنامے ڈان نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ این اے 125 میں مریم نواز کے الیکشن نہ لڑنے کی سب سے بڑی وجہ ن لیگ کے یوسی چیئرمینوں کی قیادت سے ناراضی ہے۔ لیگی چیئرمین کسی طور بھی مریم نواز کی کیمپین چلانے کیلئے راضی نہیں ہوں گے ۔

این اے 125 میں برادری فیکٹر بھی کار فرما ہے جس نے مریم نواز کو حلقہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا کیونکہ اس حلقے میں آرائیں برادری کثیر تعداد میں آباد ہے اور ن لیگ کی قیادت سمجھتی ہے کہ یہ سارا ووٹ تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد کو جائے گا۔این اے 125 میں موجود مذہبی حلقے کا ووٹ بھی ختمِ نبوت ﷺ کے مسئلے کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی مخالفت میں جانے کا امکان ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے حلقے میں سروے بھی کرایا گیا ہے جس میں یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ اگر مریم نواز این اے 125 سے الیکشن لڑتی ہیں تو انہیں اس حلقے میں بہت زیادہ محنت کرنی پڑے گی اور اسی قسم کی کیمپین چلانی پڑے گی جیسی انہوں نے گزشتہ سال اپنی والدہ کیلئے چلائی تھی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تحریک انصاف کی مضبوط رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں جنہوں نے حلقے میں مسلسل ڈور ٹو ڈور اپنی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔لیکن مریم نواز اپنی بیمار والدہ کے پاس لندن میں موجود ہونے کے باعث اس قسم کی مہم چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ حکمران خاندان سے ضمنی الیکشن ہارنے کے باوجود وہ لوگوں میں شعور بیدار کرنے کیلئے گھر گھر جارہی ہیں اور انہیں امید ہے کہ ان کی مہم ضرور ثمر لائے گی۔

مزید : قومی /سیاست /علاقائی /پنجاب /لاہور