’’مجھے اس جج نے گالیاں دیں اور۔۔۔‘‘ چیف جسٹس کے پاس سول جج کی شکایت لیکر جانے والی معتبر خاتون کے ساتھ پھر چیف جسٹس نے کیا سلوک کیا ،جان کر آپ کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

’’مجھے اس جج نے گالیاں دیں اور۔۔۔‘‘ چیف جسٹس کے پاس سول جج کی شکایت لیکر ...
’’مجھے اس جج نے گالیاں دیں اور۔۔۔‘‘ چیف جسٹس کے پاس سول جج کی شکایت لیکر جانے والی معتبر خاتون کے ساتھ پھر چیف جسٹس نے کیا سلوک کیا ،جان کر آپ کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(ایس چودھری )موجودہ چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار عدلیہ کی تاریخ بدلنے پر سرگرم عمل ہیں اور روزانہ جہاں مختلف اداروں پر چھاپے مارکر انکی کارکردگی پر سو موٹو ایکشن لے رہے ہیں وہاں عدالتی نظام کی درستگی کے لئے وہ عدالتی عملے اور ججوں کا بھی محاسبہ کرتے ہیں ۔انہوں نے لاڑکانہ میں عدالت کے اندر ایک جج کے موبائل رکھنے پر ان کی سرزنش کرتے ہوئے ان کا موبائل توڑ دیا تھا اور ججوں سے کہا کہ وہ عدالیہ کے احترام میں خود بھی قانون کی پاسداری کریں ۔

ایسے ہی ایک جرات مند چیف جسٹس محمد رستم کیانی تھے جو ساٹھ کی دہائی میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے ۔انہوں نے حکومتی توقعات کے برعکس آئینی و قانونی تقاضوں کے تحت فیصلے تحریرکئے اور عدالتی نظام کو استوار اور فعال کرنے میں جدوجہد کی تھی ۔یہ واقعہ بھی انکی بطور چیف جسٹس اعلی ظرفی کا نمونہ پیش کرتا ہے کہ وہ کس طرح ماتحت ججوں کوقانون و قاعدہ کا پابند بنایا کرتے تھے۔ 

ایک دن سول جج چودھری محمد الیاس کی عدالت میں تحریک پاکستان کی ایک خاتون لیڈر فاطمہ بیگم بطور گواہ پیش ہوئیں تو چودھری الیاس نے کچھ ضرورت سے زیادہ ہی انکو ڈانٹ ڈپٹ کر دی۔وہ اس بدسلوکی پر رنجیدہ ہوئیں۔وہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایم آر کیانی کے پاس پہنچ گئیں اوران سے کہا کہ چودھری محمد الیاس نوآموز سول جج ہیں ،انہیں خواتین سے بات کرنی نہیں آتی اور انہوں نے مجھے گالیاں دی ہیں۔ یہ شکایت سنگین قسم کی تھی اور شکایت کنندہ خاتون بھی معتبر تھی۔ تاہم جسٹس کیانی نے سول جج کی فہمائش کرنے کے لئے بہت باوقار طریقہ اختیار کیا۔ اس نے ڈسٹرکٹ و سیشن جج کو ایک چٹ یہ لکھ کر بھیجی ’’کیا آپ مسٹر الیاس کو کہیں گے کہ وہ کسی دن اپنی عدالت کو جاتے ہوئے مجھے مل لیں۔‘‘

ڈسٹرکٹ سیشن جج نے وہی چٹ چودھری الیاس کو بھیج دی۔ جب چودھری الیاس جسٹس کیانی کوملے تو جسٹس نے پوچھا ’’ کیا فاطمہ بیگم آپ کے روبرو بطور گواہ پیش ہوئی تھی‘‘

چودھری الیاس نے جواب اثبات میں دیا تو پوچھا گیا’’ کیا آپ نے اس کو گالیاں دی تھیں‘‘

چودھری الیاس نے کہا ’’ گالیاں تو نہیں دی تھیں البتہ جھڑکا ضرور تھا۔ کیونکہ وہ جرح میں وکیل کے سوالوں کے جواب ادب کے دائرے میں رہ کر نہیں دے رہی تھیں‘‘۔

اس پر جسٹس کیانی نے کہا ’’میں نے آپ کی طرف سے اس سے معافی مانگ لی تھی۔ آپ کوشش کریں کہ آئندہ مجھے آپ کی طرف سے کسی بھی دیگر شخص سے معافی نہ مانگنی پڑے‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس