ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے خلاف پھٹ پڑے، کھری کھری سنادیں کیونکہ۔۔۔

ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے خلاف پھٹ پڑے، کھری کھری سنادیں کیونکہ۔۔۔
ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے خلاف پھٹ پڑے، کھری کھری سنادیں کیونکہ۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)چین کے ساتھ امریکہ کے بڑھتے ہوئے تجارتی تنازعے کو دیکھ کر بھارت بہت خوش ہورہا تھا لیکن اب اس کی اپنی باری بھی آگئی ہے کیونکہ چین کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی توپوں کا رخ بھارت کی جانب بھی کرلیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت امریکا سے درآمد کی جانے والی اشیاءپر 100 فیصد تک ٹیرف چارج کررہا ہے جو کہ امریکہ کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔

امریکہ کی جانب سے دیگر ممالک کی درآمدی اشیاءپر اضافی ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ چین، یورپی ممالک اور بھارت میں بھی امریکہ سے درآمد کی جانے والی اشیاءپر بھاری ٹیکس عائد کیا جارہا ہے لہٰذا امریکہ کو بھی حق حاصل ہے کہ اپنے مفادات کا تحفظ حاصل کرنے کیلئے ان ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیاءپر اضافی ٹیکس لگائے۔

امریکا کے ساتھ بگڑتی ہوئی صورتحال سے بھارت بے حد پریشان ہے۔ بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج اور وزیر دفاع نرملا سیتا رامن نے اگلے ہفتے امریکا جا کر اپنے ہم منصب وزراءکے ساتھ ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن امریکا نے بغیر کوئی وجہ بتائے یہ ملاقات بھی منسوخ کر دی ہے۔

امریکی صدر نے اس تجارتی جنگ کے بارے میں کینیڈ امیں منعقد ہونے والی حالیہ G7کانفرنس کے موقع پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر دیگر ممالک کے ساتھ ہونے والی اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا ”میں نے تجویز دی کہ چلئے سارے ٹیرف اور پابندیاں ختم کرتے ہیں۔ کیا یہ سب کیلئے قابل قبول ہے؟میں نے کہا کہ آپ شکایت کررہے ہیں تو کیا ایسا کرنا آپ کو قبول ہے کہ کوئی بھی دوسرے ملک سے درآمد کی جانے والی اشیاءپر ٹیکس نہیں لگائے گا، تو کسی نے ہاں میں جواب نہیں دیا۔ ہم ایک ایسا ینک ہیں جسے ہر کوئی لوٹنے کی کوشش میں ہے لیکن یاد رکھئے اب مزید ایسے نہیں چلے گا۔ ہم نے گزشتہ سال چین کے ساتھ تجارت میں 500ارب ڈالر کا نقصان برداشت کیا ہے۔ یورپی یونین کے ساتھ تجارت میں ہم نے 151 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کیا ہے۔ اب یہ سلسلہ مزید نہیں چلے گا۔“

مزید : بین الاقوامی