عدلیہ کے فیصلے صرف ایک پارٹی کوٹارگٹ کر رہے ہیں: معروف آئینی ماہر

عدلیہ کے فیصلے صرف ایک پارٹی کوٹارگٹ کر رہے ہیں: معروف آئینی ماہر
عدلیہ کے فیصلے صرف ایک پارٹی کوٹارگٹ کر رہے ہیں: معروف آئینی ماہر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف آئینی ماہر علی احمد کرد نے کہا ہے کہ عدلیہ کے فیصلے صرف ایک پارٹی کوٹارگٹ کر رہے ہیں،لوگ ان فیصلوں کو تسلیم نہیں کر رہے ۔

جیو نیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ “ میں گفتگو کرتے ہوئے علی احمد کرد نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں بڑے جج بیٹھے ہیں ان کوسوچنا چاہتے کہ الیکشن کا مہینہ ہے، پاکستان کے 21کروڑ لوگ الیکشن کو دیکھ رہے ہیں ۔ ان کو سوچنا چاہئے ۔ آج کے فیصلے سے لوگوں میں تاثر پیدا ہوا ہے کہ عدلیہ ناجائز کر رہی ہے ۔ عدلیہ صرف ایک پارٹی کو ٹارگٹ کرکے فیصلے دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ توہین عدالت کاقانون 70سال سے موجود ہے لیکن عدالتوں نے اس کا استعمال کبھی اس طرح سے نہیں کیا ۔ ڈیڑھ سال سے ہمار ی عدالتیں یہی کر رہی ہیں۔ اب تو یہ ہورہا ہے کہ اگر کسی نے بات کی نہیں اور وہ سپریم کورٹ پہنچ جاتی ہے اور پھر سپریم کورٹ گلے سے پکڑ لیتی ہے ۔پچھلے دو سال سے جو فیصلے آئے ہیں لوگ ان فیصلوں کو تسلیم نہیں کررہے ہیں۔

مزید : قومی