اے پی سی کا نتیجہ کچھ نہیں رہا

اے پی سی کا نتیجہ کچھ نہیں رہا
اے پی سی کا نتیجہ کچھ نہیں رہا

  

کچھ ہو یا نہ ہو، کوئی نتیجہ نکلا ہو یا نہیں، مصروفیت تو درکار ہوتی ہے جو سیاسی رہنماؤں کی کانفرنس کے سبب ہی میسر ہوئی۔ اے پی سی میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا،البتہ سینٹ کے چیئر مین کو ہٹانے کے معاملہ پر اتفاق ہو گیا۔ جہاں تک یوم سیاہ منانے کا تعلق ہے وہ کوئی ایسا سیاسی قدم نہیں ہے جس سے حکومت کو زیر کیا جاسکے۔ ویسے بھی اس ملک میں حکومت مخالف سیاسی عناصر نے حکومتوں کو ہٹانے کی جب جب مہم جوئی کی ہے وہ سیاسی لحاظ سے فائدہ مند ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ مہم جوئی کے نتیجے میں غیر آئینی اقدامات ہی ہوئی ہے جسے سیاست دانوں نے ہی طویل عرصے تک بھگتا ہے۔ ملک کو تو جو بھی نقصانات ہوئے، انہیں تو سیاست دان جرنیلوں کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ جمہوریت کو جو نقصان ہوا، اس کی ذمہ داری بھی جرنیلوں پر ڈال دی جاتی ہے۔

ایوب خان کا مارشل لاء، دس سال کھا گیا۔ ان کی حکومت کے خلاف مہم جوئی کے نتیجے میں یحییٰ خان کامار شل لاء آگیا۔ اس مار شل لاء کے دور میں ایک شخص ایک ووٹ کا حق تو ملا، پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت کے بارے میں طے کیا گیا، لیکن پاکستان تو دو لخت ہو گیا۔ بھٹو حکومت کے خاتمہ کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق دس سال حکومت کر گئے۔ ایم آر ڈی کمی دو مرتبہ کی مہم جوئی جو 1983ء اور 1986ء میں کی گئی کا نتیجہ بھی نہیں نکل سکا تھا۔ جنرل ضیاء کی حکومت کا خاتمہ تو فضائی حادثہ کی وجہ سے ہی ممکن ہوا تھا۔ جنرل مشرف کی حکومت سے علیحدگی عام انتخابات کے بعد ہی اور وہ بھی وکلا تحریک کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ آخر یہ مہم جوئی کیوں کی جاتی ہے؟ کیا سیاست دانوں کو صرف مصروفیت درکار ہوتی ہے یا حکومت کو اپنے وجود کا احساس دلانا ہوتا ہے؟

حکومت میں شامل یا حکومت سے علیحدہ سیاست دانوں کو خوب معلوم ہے کہ پاکستان کے معاشی حالات کیوں خراب ہیں اور وہ کس طرح بہتر ہو سکتے ہیں؟ ملک کی پیدا واری صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے اسی وجہ سے برآمدات کا حجم محدود ہے۔ پیدا واری صلاحیت میں ا ضافہ کرنے اور بر آمدات بڑھانے کے لئے جن اقدامات کی ضرورت ہے، وہ حکومت کے بس میں نہیں ہیں۔ حکومت صنعتوں کو سبسڈی دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے، بجلی کی فراہمی غیر یقینی ہے، بجلی مہنگی بھی ہے۔ زراعت کو سہارا دینے کے لئے ضرورت کے مطابق پانی کی فراہمی اس کے بس میں نہیں ہے۔ ایسی صورت میں تو گرانی میں اضافہ ہی ہوگا اور معاشی مسائل ہی پیدا ہوں گے۔ اے پی سی میں شامل اکابرین بہتر طور پر جانتے ہیں کہ اس کو مسائل کے انبار سے نکالنے کے لئے ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانا ہوگا، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اگر ان کے ذہنوں میں کوئی بہتر تجاویز ہیں تو عوام کی خاطر ہی سہی، حکومت کے سامنے پیش کریں۔ وگرنہ اسی رفتار سے چلنے دیں۔ بیانات دینے سے تو مسائل پہلے حل ہوئے ہیں نہ ہی آئندہ حل ہو سکیں گے۔

اے پی سی میں شامل دو بڑی جماعتوں کے سوا جو قومی اسمبلی میں نمائندگی رکھتی ہیں، باقی جماعتوں کی کوئی نمائندگی نہیں،اسی لئے تو اے پی سی کے میزبان مولانا فضل الرحمان کی اس تجویز کا خوش دلی کے ساتھ خیر مقدم نہیں کیا گیا کہ اسمبلیوں سے استعفے دے دئے جائیں۔سب ہی پر خاموشی طاری رہی۔ مولانا اگر خود بھی اسمبلیوں کی رکنیت رکھتے ہوتے تو وہ بھی خاموش ہی رہتے۔ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویز اس لحاظ سے بہتر ہے کہ حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے،لیکن قومی احتساب بیورو میں تفتیش اور احتساب عدالتوں میں مقدمات کا سامنے کرنے والے مستعفی ہونے کی صورت میں تو پروڈکشن آرڈر کا سہارا لیتے ہوئے، باہر آکر اپنی بات بھی نہیں کر سکیں گے۔ اسمبلیوں کی رکنیت تو ان کے لئے ایک بڑا سہارا ہے، اس سہارے کو آصف علی زرداری یا شہباز شریف کیوں کر ہاتھ سے جانے دے سکتے ہیں؟ حکومت پر داباؤ ڈالنے یا بڑھانے سے بظاہر کوئی فائدہ بھی نظر نہیں آتا ہے۔

رہ گیا چیئرمین سینٹ کو ہٹانے کا معاملہ، یہ سیاست دان خصوصاً آصف علی زرداری بہتر جانتے ہیں کہ یہ ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ آصف زرداری نے کیوں کر صادق سنجرانی کو منتخب ہونے میں مدد کی تھی؟ وہ کیا اسباب تھے کہ آصف علی زرداری نے قلابازی کھائی اور انہیں منتخب کرایا۔ جن قوتوں نے انہیں منتخب کرایا، وہ کیوں کر سیاست دانوں کو اجازت دیں گی کہ صادق سنجرانی کو ہٹانے میں کامیاب ہو جائیں؟ پاکستان کے لئے موجودہ سیاسی اور معاشی صورتِ حال دِل گرفتہ کرنے والی ہے۔ اس تماش گاہ میں سیاست دانوں کو احتساب کے عمل کا سامنا کرنا چاہئے اور بقایا کو آئندہ انتخابات کا انتظار کرنا چاہئے اور اگر ایجنڈا کوئی اور ہے تو سیاست دانوں کو ایک بار پھر غیر آئینی تبدیلی اور اس کے نتائج کے لئے تیار بھی رہنا چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -