اب دیر نہیں ہوگی

اب دیر نہیں ہوگی
اب دیر نہیں ہوگی

  

ڈاکٹر بابر اعوان نندی پور مقدمہ میں بری کر دیئے گئے ہیں اور اس فیصلہ پر صدر مملکت نے انہیں مبارکباد پیش کر دی ہے، جبکہ پیپلزپارٹی کے سابق وزیراعظم پرویز اشرف کی درخواست بریت مسترد کر دی گئی ہے۔ پرویز اشرف کی درخواست مسترد ہونے پر کسی رائے کی ضرورت اس لئے نہیں کہ موصوف بطور وزیراعظم نندی پور کے معاملات سے جڑے رہے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ وہ پیپلزپارٹی کے ان ہنرمندوں میں سے ہیں، جنہوں نے سیاست کو انتہائی سوچ بچار کے ساتھ استعمال کیا ہے۔

سیاست سے پہلے وہ ایسے ثروت مند نہ تھے، جیسے سیاست میں آنے کے بعد ہوئے، لیکن یہ ہنر مندی صرف انہی کا حصہ نہیں۔ آصف علی زرداری سے لے کر ناہید خان تک سبھی اس حوالے سے یادگار کھلاڑی ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب پیپلزپارٹی اور نندی پور پراجیکٹ پر سوال اٹھے تو خود بابر اعوان بھی پیپلزپارٹی میں تھے۔ اب وہ اس ساری صورت حال میں کس طرح غیر متعلق رہے یہ تو مقدمہ کے حقائق سے ہی پتہ چل سکتا ہے، جو یقینا معزز عدالت کے سامنے ہوں گے۔ اس فیصلہ پر سابق صدر زرداری نے طنزیہ لہجے میں کہا ہے کہ ”بابر اعوان ہی بری ہوں گے“۔ یہ طنزیہ جملہ ادا کرتے ہوئے شاید سابق صدر نے یہ نہ سوچا ہو گا کہ آج بابر اعوان جو بھی ہے وہ صرف ان کی کرم فرمائیوں کی ایک داستان ہے۔

بابر اعوان کو جب وزیرقانون بنایا گیا تو انہوں نے پیپلزلائرز فورم کے وکلاء سے لاہور میں ملاقات کی، تاکہ ان کے لئے کچھ مناسب بندوبست کیا جا سکے۔ ایک وکیل نے اپنے ان ساتھیوں کی بات کی جو ضیاء الحق کی آمریت کا نشانہ بنے تھے۔ ابھی بات جاری ہی تھی کہ بابر اعوان صاحب نے انتہائی خشمگیں نظر ڈالتے ہوئے داستان گو سے کہا مجھے پچھلی صدی کی کہانیاں نہ سنائیں۔ یہ تعلق تھا بابر اعوان کا پیپلزپارٹی اور اس کی تحریک کے ساتھ، لیکن زرداری صاحب نے جس طرح رحمن ملک کو وزیر داخلہ بنا دیا تھا، اسی طرح بابر اعوان بھی ان کے پسندیدہ تھے۔ وقت پڑا تو بابر اعوان پی ٹی آئی میں پہنچ گئے اور پارلیمانی معاملات کے ایڈوائزر بھی بنے۔ نندی پور پاور پراجیکٹ کی جب بطور منصوبہ وزارتِ قانون سے رائے مانگی گئی تو اس وقت بابر اعوان وزیر قانون تھے۔ یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ یہ منصوبہ دونوں ملکوں کے لئے اہم ہے اور اس کی منظوری اقتصادی رابطہ کمیٹی دے چکی ہے اور اس کے لئے کنسورشیم بھی طے پا چکے ہیں۔

بابر اعوان نے اس پر رائے دینے میں تاخیر سے کام لیا۔ وہ جو کہتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ تو باعثِ تاخیر بھی ہوتا ہے۔ چینی کمپنی اس حوالے سے کیا کہانی بتاتی ہے اس کا ہمیں علم نہیں ہے۔ بہرحال نیب کا خیال ہے کہ ڈاکٹر بابر اعوان نے ملک کو کئی ارب روپے کا نقصان پہنچانے میں کردار ادا کیا تھا، لیکن عدالت یہ تسلیم کرنے سے انکاری رہی۔ راجہ پرویز اشرف اس حوالے سے بھی مطلوب تھے کہ جب نندی پور منصوبہ منظور ہوا وہ وزارت پانی و بجلی کے وزیر تھے۔ شاید اس لئے وہ بری نہیں ہوئے۔ اس منصوبہ میں تاخیر اور اس پر قومی نقصان کے حوالے سے ایک انکوائری سابق وزیر اعظم اور حال مقیم کوٹ لکھپت جیل میاں نوازشریف نے کروائی تھی۔ ان کے برادرِ خورد نے جس ”ہنر مند“ کو نندی پور پاور پراجیکٹ کا مختار کل مینجنگ ڈائریکٹر بنایا تھا انہوں نے مشینری میں غلط تیل استعمال کیا۔ اور مشینری صرف پانچ روز چلنے کے بعد فیل ہو گئی۔ یہ ہنر مند ایک بیورو کریٹ تھے۔ سابق کپتان تھے اور اپنی نوکری کے استحقاق کے خلاف کئی گنا زیادہ تنخواہ اور مراعات پر کام کر رہے تھے اور صرف پانچ دنوں میں ایک اہم منصوبہ کو سکریپ میں تبدیل کرنے کا باعث بن گئے۔ یہ منصوبہ بھی ان چھپن کمپنیوں کی داستانوں میں سے ایک داستان ہے۔

یہ منصوبہ جس کے لئے وزارت قانون نے 2008ء میں رائے دینی تھی۔ اسے 2011ء میں رائے ملی۔ ڈاکٹر بابر اعوان کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بہر حال اب وہ بری کر دیئے گئے ہیں، اور عدالت کی نظر میں بے قصور ہیں۔ ہمارے صدر مملکت کیسے وضع دار ہیں کہ انہوں نے ایک مقدمہ میں بری ہونے والے اپنی پارٹی کے ”اہم“ رکن کو فوری طور پر مبارکباد بھی دے ڈالی۔ اب بریت کے بعد ڈاکٹر بابر اعوان شاید کابینہ کا حصہ بھی بن جائیں۔

آخر انہوں نے بھی تو جمہوری روایات کا احترام کرتے ہوئے نیب کے مقدمہ کے آغاز ہی میں بھی اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا تھا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ نندی پور چلتا رہے یا رک جائے بابر اعوان نہیں رکیں گے۔ اور وزیر اعظم عمران خان نے،علیم خان، سبطین خان وغیرہ وغیرہ کے احتساب کے ساتھ یہ ثابت کر دیا ہے کہ احتساب سب کا ہوگا۔ اور مہنگائی کی بڑھتی تلوار سے احتساب عوام کا ہی ہوگا۔ گلی محلے کے دکانداروں کو بھی ایف بی آر کا ایک ورق مل چکا ہے اب ہر طرف احتساب، احتساب ہوگا۔ ٹیکس اکٹھا ہوگا اور نیا پاکستان بننے میں دیر نہیں ہو گی۔

مزید :

رائے -کالم -