کچھ فوج اور فوجیوں کے بارے میں (آخری قسط)

کچھ فوج اور فوجیوں کے بارے میں (آخری قسط)
کچھ فوج اور فوجیوں کے بارے میں (آخری قسط)

  

دوسری بڑی اور اہم وجہ جس نے روشن خیال اور ذہین نئی پود کو بطورِ کمیشنڈ آفیسر، فوج میں جانے کے لئے متذبذب کیا وہ گزشتہ چند عشروں میں پاکستان میں دہشت گردی کی لہر تھی۔ اس لہر کا نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کے سارے ہی ممالک شکار ہوئے۔ ان ملکوں میں دہشت گردی کی وجوہات مختلف تھیں۔ بعض نے ایک دوسرے پر الزام لگایا جیسا کہ انڈیا اور پاکستان میں دیکھنے کو ملا۔ دونوں نے اس کی وجوہات کا مختلف جواز پیش کیا۔ اس موضوع پر زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں لیکن ایک بات جو پاکستان کے صاحبانِ فکر و نظر کو اچھی طرح سے معلوم ہے وہ یہ ہے کہ خود انڈیا نے اس کے باوجود کہ اپنی نئی پود کو فوج میں کمیشن دینے کے لئے بہت سی ترغیبات دیں اور ان کی ”دل کھول“ کر تشہیر بھی کی لیکن پھر بھی بھارت کی نئی نسل فوج میں جانے کی طرف راغب نہ ہوئی بلکہ دوسرے میدانوں کا رخ کیا جن میں انفرمیشن ٹیکنالوجی، ابلاغِ عامہ، بینکاری اور مصنوعی ذہانت (A.I) وغیرہ پیش پیش تھے۔

پاکستان میں، جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا، ایک طویل عرصے کی دہشت گردی کی وجہ سے فوج میں آپریشنل مصروفیات اتنی بڑھ گئیں اور ان میں جانی نقصانات کا گراف اتنا اونچا چلا گیا کہ نئی نسل میں فوج کی سروس ایک مشکل چیلنج نظر آنے لگی۔ اس میں میڈیا کا بھی ایک بلواسطہ (Indirect) رول تھا۔ ذرائع ابلاغ نے دہشت گردی کی وارداتوں کی تفاصیل کی جو منظر کشی کی اس سے نوجوان نسل کے والدین سہم گئے اور اپنے بچوں کو فوجی ملازمت میں بھیجنے سے پہلے کئی بار سوچنے پر مجبور ہو گئے۔

فوج اور میڈیا کے چند حلقوں نے مل کر اگرچہ اس فکر کے سامنے بند باندھنے کی بھی کوشش کی۔ لیکن یہ کوشش قوانینِ فطرت کے منافی تھی…… کسی ماں کا جواں سال بیٹا جب دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گیا تو اس نے بظاہر میڈیا پر آکر انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنے جذبات کو آنکھوں کی راہ باہر آنے سے روکے رکھا لیکن اس کے سینے میں اپنے لختِ جگر کی شہادت کا زخم کیسے چھپ سکتا تھا؟وہ اس کی ویران آنکھوں میں صاف جھلکتا محسوس ہوا…… شہید نوجوانوں کے والد صاحبان کا بھی یہی حال تھا۔ ان کا یہ فقرہ کہ: ”میرا اگر کوئی اور بیٹا بھی ہوتا تو میں اپنی قوم اور ملک پر اسے بھی قربان کر دیتا“ہم نے کئی بار میڈیا پر سنا لیکن نجانے کیوں مجھے ہر بار یوں محسوس ہوا کہ اس باپ کا یہ دعویٰ اس کی اعماقِ جاں سے نہیں نکل رہا بلکہ اس نے کسی مجبوری کے تحت یہ غیر فطری بیان دے  دیا ہے۔ پاکستانی پرچم میں لپٹی ہوئی جواں سال بیٹے کی لاش کا تابوت جب اس کے سامنے آتا تھا تو اس کے سینے میں شفقتِ پدری کا جو سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا تھا، وہ چھپائے نہیں چھپتا اور روکے نہیں رکتا تھا۔ اگر یہ شہادت کسی باقاعدہ جنگ میں دشمن کے ساتھ لڑتے ہوئے ملتی تو ایک بات بھی تھی۔ لیکن قاتل دہشت گرد تو باریش بھی تھا اور کلمہ گو بھی تھا۔ بعض حالات میں حافظ اور قاری اور پنج وقتہ نمازی بھی تھا۔ اس کے ساتھ نبردآزمائی کی وجوہات کیسی بھی وزنی ہوں لیکن روائتی مفہوم میں تو وہ دہشت گرد ایسا دشمن نہیں تھا جس کے لئے شہید نے اپنی ٹریننگ کے دوران اس کا سرایا، اس کی قوم اور اس کا مذہب دیکھا تھا اور جس کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہو جانے کو وجہِ افتخار جانا تھا۔

دہشت گردی کے خلاف آپریشنوں کے نتیجے میں جوشہادتیں میڈیا نے سکرین پر دکھائیں اس نے بھی سارے ماحول کو  مضطرب اور بوجھل بنا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد صرف انہی نوجوانوں نے فوج کا رخ کیا جن کی تشویق (Motivation) کا معیار لافانی اور بے بدل تھا…… اور ایسے نوجوانوں کی تعداد، معاشرہ کوئی بھی ہو، آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ تھا کہ ایسے دماغ اور اذہان جو  غیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں سے متصف ہوتے ہیں انہوں نے فوج میں جانے کا سوچا ضرور لیکن قرعہ ء فال غیر عسکری پیشوں اور سرگرمیوں کے نام نکلا۔

تیسری وجہ جو اگرچہ نئی نہیں اور روزِ اول سے موجود ہے وہ فوج کا کڑا ڈسپلن ہے۔ بعض نوجوان طبعاً مشکل پسند ہوتے ہیں اور وہ سخت نظم و ضبط کے بھی عادی ہوتے ہیں۔ پی ایم اے میں ٹریننگ کے دوران کیڈٹوں کو اپنے سینئرز کی طرف سے ریگنگ کے جو ”تحائف“ ملا کرتے تھے (اور آج بھی ملتے ہیں گو کہ ان کا کیف و کم پہلے جیسا نہیں رہا) ان کے بارے میں تقریباً 90% کیڈٹس کا استدلال یہی ہوا کرتا تھا کہ اس رگڑے کی یہی سختیاں اور اکیڈمی کا یہی شدید انضباطی ماحول انہیں دل و جان سے عزیز ہے۔ لیکن بعض دوسرے نوجوانوں کی نفسیات ان سے بالکل مختلف اور معکوس ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں نئے پروفیشنوں کی چکا چوند میں ڈسپلن کا عنصر تقریباً غائب ہوتا ہے۔ جوں جوں وقت گزر رہا ہے اور نئی ٹیکنالوجی کے مظاہر سامنے آ رہے ہیں ان میں سہل انگاری اور آسان زندگی کی نئی روایات تشکیل پا رہی ہیں۔

فوج میں ہر ایک دو برس بعد پوسٹنگ آ جاتی ہے۔ نئے لوگ، نئی جگہ، نیا ماحول اور نئی آب و ہوا کے علاوہ بچوں کی تعلیم کے نئے ادارے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ فوج اس اکھاڑ پچھاڑ کی زیادہ پروا نہیں کرتی۔ پاکستان میں نان فیملی اسٹیشن بمقابلہ فیملی اسٹیشن، کہیں زیادہ ہیں۔ جدید الیکٹرانک آلات نے ان خاندانی بندھنوں کو زیادہ شدت سے باہم جکڑ رکھا ہے جو پہلے ناپید تھے۔ اب تو ہر فوجی کے اور اس کے اہل خانہ کے پاس ایک موبائل موجود ہے جو ان کو ہمیشہ ایک دوسرے سے پیوست کئے رکھتا ہے۔ یہ ایک لحاظ سے اگر نعمت ہے تو دوسرے اعتبار سے زحمت ہے۔ فوج میں پہلے ایک مقولہ مشہور تھا کہ No news is a good newsلیکن آج یہ مقولہ اپنی Goodnessکھو چکا ہے۔ فوج اگرچہ اپنے وابستگانِ دامن کے بچے بچیوں کے لئے تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام کرتی رہتی ہے لیکن سویلین محکموں کی ”ساکن تعلیم“ اور اس متحرک محکمے (آرمی) کی ”متحرک تعلیم“ میں آج بھی زمین و آسمان کا فرق ہے…… یہی فرق ہے جو روز بروز آرمی میں جانے والوں اور خود آرمی کے لئے مزید مشکل آزما (Challenging) ہوتا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی ملک خواہ کتنا ہی ترقی یافتہ اور امیر کبیر کیوں نہ ہو اس کی مسلح افواج اس ”آزار“ سے مبّرا نہیں۔

چوتھی وجہ جو پبلک سیکٹر کے دوسرے پیشوں اور پیشہ ء سپاہ گری کے درمیان ایک حدِ فاصل کھینچتی ہے وہ فوجی پروفیشن کا انجماد اور کڑا پن ہے۔ فوج میں آپ کی پروموشن ایک بندھے ٹکے ضابطے کی پابند ہے۔ اس سے کسی کو بھی مفر نہیں۔تاہم اس پر کتنی ہی بحثیں کی جائیں، نتیجہ صفر نکلے گا۔ آرمی میں جا کر آپ کو ترقی اسی وقت مل سکتی ہے جب آپ خود کو اس کا اہل ثابت کریں۔ میری مراد آپ کی ”سالانہ خفیہ رپورٹ“ (ACR) سے ہے۔ یہ رپورٹ ہر آفیسر کو ایک سخت انضباطی کھونٹے سے باندھ کر رکھتی ہے۔ اکثر سویلین محکموں میں آپ کی پروموشن کی اساس آپ کا عرصہ ء ملازمت ہے۔ آپ بہتر کام کریں یا روٹین کو فالو کریں آپ کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا۔ آپ جب 60 برس کے بعد ریٹائر ہوتے ہیں تو آپ کی پنشن اور آپ کی دیگر جملہ مراعات خود بخود آپ کو مل جاتی ہیں …… آرمی میں ایسا نہیں ہے…… وہاں ہر رینک کا اپنا معیار اور اپنی کسوٹی ہے۔ دورانِ سروس آپ کو نصف درجن سے زیادہ ایسے پروفیشنل کورسوں سے سابقہ پڑتا ہے جن میں آپ کی کارکردگی کی پرکھ آئنہ ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔ لیکن سویلین ملازمت میں ایسا نہیں ہوتا۔ فوج میں جو مراعات ملتی ہیں اور جو میڈل اور دلیری کے جو انعامات و اعزازات (Gallantry Awards)آپ کو دیئے جاتے ہیں، ان کا حقدار ثابت کرنا کوئی آسان کام نہیں اور ہر آن اپنی جان کو خطرات میں ڈال کر ان اعزازات کا مستحق بننا کوئی خالہ جی کا باڑا نہیں۔ فوج میں کم لوگ ہوتے ہیں جو سینئر رینک حاصل کرتے ہیں۔ اکثریت وسطانی رینکس (میجر) میں ریٹائر ہو جاتی ہے اور آپ 40 سے لے کر 52برس تک کی عمر میں پنشن پا کر گھر چلے جاتے ہیں۔ 45،50برس کی عمر میں ریٹائر ہونا اور بعد ازاں کسی اور نئے پروفیشن کو ڈھونڈنا اور اختیار کرنا سب سے مشکل چیلنج ہے۔

اگر امارت اور بھاری جیب کا حصول مقصود ہو تو اس کے لئے فوج ہرگز کوئی موزوں پیشہ نہیں۔اس پیشے میں آپ کو اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلانے پڑتے ہیں اور چادر اتنی وسیع و عریض نہیں ہوتی کہ آپ چوکڑیاں بھی بھریں اور ننگے نہ ہوں۔لگی بندھی ماہوار تنخواہ ہوتی ہے جس کے اندر آپ کو گزارا کرنا ہوتا ہے۔

اگلے روز ایک سابق انڈین آرمی چیف جنرل جے این چودھری کی ایک کتاب میری نظر سے گزری جس میں لکھا تھا کہ فوج کی چھاؤنیاں، سول آبادیوں سے علیحدہ کیوں بنائی جاتی ہیں۔ لکھا تھا کہ دیگر وجوہات کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ فوجیوں کے متوسط الحال گھرانے سویلین گھرانوں سے زیادہ میل جول نہ رکھ سکیں۔ خدشہ ہوتا ہے کہ کھاتے پیتے سول گھرانوں کی چکا چوند آپ کے اہلِ خانہ کو کسی احساسِ کمتری میں گرفتار نہ کر دے۔ چھاؤنی میں آفیسرز فیملیز کا رہن سہن مالی امارت کے مظاہرے سے عاری ہوتا ہے۔ فوجی آفیسرز کی بیویوں کو ایک محدود مشاہرے میں مہینہ گزارنا ہوتا ہے اور ساتھ ہی گھر گرہستی کا ایک ایسا ماحول بنانا ہوتا ہے جس میں صفائی ستھرائی تو ہو لیکن بے جا نمود و نمائش نہ ہو۔ جنرل چودھری کا یہ مشاہدہ اور استدلال حق گوئی کا مظہر ہے۔۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ جن چھاؤنیوں میں سول اور فوجی آبادیاں اکٹھے گھل مل کر رہ رہی ہیں وہاں فوجی گھرانوں کی بیویاں واقعی ایک ایسے احساسِ کمتری کا شکار رہتی ہیں جس کا اظہار وہ کھلے بندوں نہیں کر سکتیں۔ کھاتے پیتے فوجی گھرانوں کا تصور، کھاتے پیتے سول گھرانوں سے مختلف ہے۔ ایسے ماحول میں پرورش پانے والے بچے بچیاں جب جوان ہو جاتی ہیں تو ان کو کفائت شعاری اور جزرسی کے مقابل اسراف اور بے جا زیبائش و آرائش میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے اور پلڑا ہمیشہ موخر الذکر رہن سہن کی طرف جھکتا ہے۔ چنانچہ فوجی زندگی پر فریفتگی کا وہ رجحان جو پہلے ہوا کرتا تھا اب مرورِ ایام سے کمتر ہو رہا ہے اور نوجوان نسل دوسرے غیر فوجی آفاق کی متلاشی رہتی ہے۔

فوجی سروس، دوسری سروسز کے مقابلے میں ایک اور لحاظ سے بھی ظالمانہ کلچر کی حامل ہے۔ یہاں غلطی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ آپ نے کوئی دانستہ یا نادانستہ غلطی کر ڈالی ہے تو اس کا خمیازہ آپ کو فی الفور بھگتنا پڑتا ہے اور آپ کو مکھن میں سے بال کی طرح کھینچ کر باہر نکال دیا جاتا ہے۔ جرم و سزا کا یہ حساب کتاب بڑی حد تک اسلامی قوانین و ضوابط کے شوائد کا مماثل ہے۔ اِدھر آپ سے کوئی لغزش ہوئی اور اُدھر آپ کو بازو سے پکڑ کر گیٹ سے باہر نکال دیا گیا۔ ڈسپلن کی برقراری کے لئے ایسا کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے اور آپ پر عسکری تعزیرات کی شمشیر بے نیام ہمیشہ لٹکتی رہتی ہے…… ملٹری ایک ”فخریہ سروس“ (Service with Pride) ضرور کہلاتی ہے۔ لیکن جو نوجوان ذہانت کی نعمت سے زیادہ مالامال ہین، جن کی موٹیویشن اس سکیل کی نہیں ہوئی جہاں ملک و قوم کا مفاد ان کے ذاتی مفاد سے برتر تسلیم کیا جاتا ہے، جن کے سامنے فوج کے علاوہ بہتر سروس کے دوسرے مواقع دیدہ دل فرشِ راہ کئے ان کے راستے میں کھڑے ہوتے ہیں، وہ فوج کو ایک بھاری پتھر سمجھ کر چومنا چاہیں بھی توچومے بغیر چھوڑنا سہل تر گردانتے ہیں!

سطور بالا میں، جن وجوہات کا ذکر کیا گیا ہے وہ اضطراری طور پر میرے ذہن میں آئیں اور میں نے آپ کی سامنے رکھ دیں۔ ممکن ہے میں نے اس تجزیئے میں کہیں ٹھوکر یا ٹھوکریں کھائی ہوں، ممکن ہے فوج کے اربابِ اقتدار اس تبصرے اور جائزے سے اتفاق نہ کریں اور ممکن ہے قارئین کے سامنے ان وجوہات کا کوئی کاؤنٹر بھی موجود ہو، اس لئے ان سے معذرت خواہ ہوں اور اس تجزیئے کو سراسر ایک ذاتی اندازِ فکر سمجھتا ہوں۔

اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شائد کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -