وہوا ‘ لورالائی دہشتگردی حملے میں شہید ہونیوالے ا;203; نواز کی نماز جنازہ ادا

  وہوا ‘ لورالائی دہشتگردی حملے میں شہید ہونیوالے ا;203; نواز کی نماز جنازہ ادا

  

وہوا(نمائندہ پاکستان) لورالائی میں پولیس لائن پر دہشت گردی کے حملہ میں شہید ہونے والے وہوا کے رہائشی پولیس اہلکار اللہ نواز کھتران کی نماز جنازہ آبائی گاءوں لتڑا میں ادا کردی گئی ، پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی دی اور میت کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کردی گئی قل خوانی آج بروز جمعہ آٹھ بجے ادا کی جائے گی دہشت گردی کے واقعات پولیس اور عوام کے حوصلے پست نہیں کرسکتے شہید (بقیہ نمبر39صفحہ12پر )

نے وطن کی خاطر قربانی پیش کرکے خود کو امر کرلیا ان کا نام رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا ایڈیشنل ڈی آئی جی ڈیرہ غازی خان ریحان رسول اور ڈی ایس پی سٹی ڈیرہ غازی خان ضیاء الحق کی شہید کے ورثاء سے تعزیت کے موقع پر اظہار خیال، تفصیل کے مطابق گذشتہ روز لورالائی پولیس لائن میں دہشت گردوں کے حملہ میں شہید ہونے والے وہوا کے نواحی قصبہ لتڑا کے رہائشی پولیس اہلکار اللہ نواز کھتران کی میت آبائی قصبہ لتڑا لائی گئی جہاں پر اس کی نماز جنازہ ادا کردی گئی نماز جنازہ میں ایڈیشنل ڈی آئی جی ڈیرہ غازی خان ریحان رسول ، ڈی ایس پی سٹی ڈیرہ غازی خان ضیاء الحق، ایس ایچ او تھانہ وہوا رانا غلام شبیر خان، ایس ایچ او تھانہ ریتڑا بخت نصر خان، پولیس اہلکاروں ، سیاسی و سماجی شخصیات سمیت شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی اس موقع پر پولیس کے ایک دستے نے میت کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کی گئی اس موقع پر ایڈیشنل ڈی آئی جی ریحا ن رسول اور ڈی ایس پی ڈیرہ غازی خان ضیا ء الحق شہید کے گھر پر گئے اور اس کے ورثاء سے تعزیت کی اس موقع پر انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تمام سیکیورٹی فورسز بشمول پولیس وطن کے چپہ چپہ کی دفاع کے لیے کوشاں ہے اور اپنا فریضہ بخوبی سرانجام دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ہمارے جوانوں کے حوصلے پست نہیں کرسکتے ہمارے پولیس کے جوان اپنے وطن کے دفاع کے لیے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ شہید اللہ نواز کھتران ایک جری جوان تھے انہوں نے وطن کے دفاع کے لیے جو قربانی پیش کی ہے اسے تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے یاد رکھا جائے گا شہید اہلکار کی روح کو ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی آج بروز جمعہ صبح آٹھ بجے لتڑا میں ہوگی ۔

نماز جنازہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -