ٹیکس دہندگان کو انکی خفیہ معلومات فراہم نہ کرنا خلاف آئین ،لاہور ہائیکورٹ ،شہریوں کو بھجوائے گئے ہزاروں نوٹس کالعدم قرار

    ٹیکس دہندگان کو انکی خفیہ معلومات فراہم نہ کرنا خلاف آئین ،لاہور ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ نے ایف بی آر کی جانب سے آڈٹ سلیکشن کے لئے ٹیکس دہندگان سے ان کی معلومات خفیہ رکھنے کے اقدام کوکالعدم قراردے دیاہے ۔ مسٹرجسٹس عابد عزیز شیخ نے اس سلسلے میں دائر ھیپی مینوفیکچرنگ سمیت دیگر ٹیکس دہندگان کی تمام درخواستیں منظور کرتے ہوئے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 214 (سی )کی ضمنی دفعہ 1( اے) کوآئین سے متصادم قراردے کرکالعدم کردیا،فاضل جج نے قراردیا کہ یہ دفعہ اطلاعات(بقیہ نمبر23صفحہ12پر )

تک رسائی اورشفاف ٹرائل سے متعلق آئین کے آرٹیکل 19 (اے )اور آرٹیکل 10 (اے) سے متصادم ہے،عدالت نے مذکورہ دفعہ کے تحت ایف بی آر کی طرف سے ہزاروں شہریوں کو بھیجے گئے نوٹس بھی کالعدم کردیئے ہیں ، فاضل جج نے قراردیا کہ ایف بی آر نے کسی اورکو نہیں بلکہ ٹیکس دہندگان کو ان کی معلومات فراہم کرنی ہیں ،اس لئے ان معلومات کو خفیہ رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ درخواست گزاروں کی طرف سے محمد اجمل خان اور نوید اندرابی ایڈووکیٹس نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ایف بی آر کا معلومات خفیہ رکھنے کا اقدام آئین کے آرٹیکل 19 (اے )کی خلاف ورزی ہے ، ہر قانون ملزم کو یہ حق دیتا ہے کہ اس پر لگے الزامات کا اسے پتہ ہونا چاہیے ، صرف ایف بی آر چاہتا ہے کہ وہ ٹیکس بھی لے اور ٹیکس دہندگان کے خلاف کارروائی پر انہیں ان کی معلومات بھی نہ دے، اپنے آڈٹ کے لئے پیرامیٹرز کا ٹیکس دہندگان کو پتہ نہیں ہوگا تو وہ اپنا دفاع کیسے کریں گے اور آڈٹ کیسے کروائیں گے، عدالت سے استدعاہے کہ ایف بی آر کا ٹیکس دہندگان سے آڈٹ سلیکشن کے دوران ان کی معلومات خفیہ رکھنے کا اختیار غیرآئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے، ایف بی آر کے وکیل نے ٹیکس درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پارلیمنٹ کی منظوری سے ہی 214 (سی ) میں ضمنی دفعہ 1(اے )شامل کی، ٹیکس دہندگان کی معلومات تک کسی کو بھی رسائی نہیں دی جا سکتی، درخواستیں مسترد کی جائیں ۔

ٹیکس دہندگان

مزید :

ملتان صفحہ آخر -