پنجاب اسمبلی ،حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی مخالفانہ نعرہ ایوان مچھلی منڈی میں تبدیل

    پنجاب اسمبلی ،حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی مخالفانہ نعرہ ایوان مچھلی منڈی ...

  

لاہور( این این ;200;ئی)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں رواں مالی سال کیلئے ضمنی بجٹ پر بحث کے موقع پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین کی ایک دوسرے پر شدید تنقید اور مخالفانہ نعرے بازی کے باعث ایوان مچھلی منڈی بنا رہا ،اپوزیشن نے رواں مالی سال کیلئے 90ارب روپے سے زائد کے ضمنی بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے والے کم از کم اس کی لاج ہی رکھ لیتے جبکہ حکومت نے کہاہے کہ 90ارب میں 56ارب روپے سابقہ حکومت کے قرضوں کا بوجھ تھا ۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی ایک گھنٹہ 28منٹ کی تاخیر سے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کی صدارت میں شروع ہوا ۔ سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے کہا کہ پانی کی ٹیلی میٹری نظام ہمارے دور میں شروع ہوا تاہم شہباز شریف کی حکومت میں اس کو;200;گے نہیں بڑھایا گیا او ریہ نظام تباہ ہو گیا ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر لائیو سٹاک حسنین بہادر دریشک نے پانی چوری کی سزاءوں کا ذکر ہی کیا تھا کہ سپیکرنے کہا کہ پہلے نظام ٹھیک کریں پھر سزاءوں کو دیکھیں گے، مجھے اس کا سب پتہ ہے ۔ ملازمین کو ;200;ٹھ ماہ کی تنخواہیں نہیں دی گئیں ،;200;پ نظام کو ٹھیک کریں اسے بند نہ کریں ۔ وارث کلو نے کہا کہ حکومت کا 2018-19ء کےلئے 2026ارب روپے کا بجٹ تھا لیکن ضمنی بجٹ میں 90ارب6کروڑ سے زائد اضافی اخراجات کر دئیے گئے ۔ بلال فاروق تارڑ نے کہا کہ ہماری حکومت نے 56ارب لگائے تو اس سے متعلق منصوبے بھی موجود ہیں جبکہ موجودہ دور میں چند ارب روپے سے زائد کا کام نہیں کیا گیا ۔ وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ اپوزیشن کی مثال ویلے دیاں نمازاں کویلے دیاں ٹکراں جیسی ہے،بجٹ میں اپوزیشن نے بڑے تحمل کا مظاہرہ کیا،تاہم لگتا ہے اب انہیں پیچھے سے ڈانٹ پڑی ہے اسی لئے رویہ تبدیل ہے ۔ صوبائی وزیر صنعت میاں اسلم اقبال نے کہا کہ (ن) لیگ کو ان کا چہرہ دکھایا ہے تو وہ برا مان رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن والے گیلری میں بیٹھ کر کہتے ہیں کہ ہمارے لیڈر چور ہیں ۔ انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ;200;پ ان چوروں کا پیچھا چھوڑ دیں ۔ میاں اسلم اقبال کے ریمارکس پر اپوزیشن رکن اسمبلی شیخ علاءو الدین اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے اور ڈپٹی سپیکر سے بات کرنے کی اجازت طلب کی تاہم انہیں اجازت نہ ملی ۔ جس پر اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور درخواست کی کہ شیخ علاءو الدین کو بولنے کی اجازت دی جائے لیکن ڈپٹی سپیکر نے انہیں اجازت نہ دی جس پر لیگی اراکین نے گو عمران گو، گو نیازی گو ، مک گیا تیرا شو نیازی گو نیازی گو نیازی، علیمہ باجی چور کے نعرے لگائے جس کے جواب میں حکومتی اراکین نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر سپریم کورٹ نے کہا چور ، نواز شریف چور ہے کے نعرے لگائے جس سے ایوان مچھلی منڈی میں تبدیل ہو گیا او رکانوں پڑی ;200;واز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔ سیمابیہ طاہر نے کہا کہ تین دہائیوں تک صوبے پر حکمرانی کرنے والے ہم سے پوچھتے ہےں کہ ہم نے کیا کیا ۔ ان کے دور میں ماڈل ٹاءون میں چودہ افراد کو گولیاں مار دیں گئیں اور کئی روز تک قانونی کارروائی نہ ہو سکی ۔ ملک احمد خان نے کہا کہ ضمنی بجٹ میں 90ارب روپے کے اضافی اخراجات مانگنا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ ریاست مدینہ بنانے کا دعوی کرنے والے اس کی لاج ہی رکھ لیں ۔ شیخ علاءوالدین نے مطالبہ کیا کہ چینی اور ڈالر کی برھتی قیمتوں پر کمیٹی بنانے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا کہ میں بتاءوں کہ 36روپے کس کی جیب میں جارہے ہیں کمیٹی میں ثابت کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دو ر میں ڈالر 121روپے کا تھا اور ;200;ج کہاں ہے ،ڈالر کی بڑھتی قیمت کا کس نے فائدہ اٹھایا یہ بھی کمیٹی میں ثابت کروں گا ۔ وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے گنے کی فی من قیمت 180روپے رکھی اور کاشتکاروں کو 220فی من گنے کی قیمت ملی ۔ ضمنی بجٹ پر بحث میں دیگر اراکین نے بھی حصہ لیا ۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ;200;ج تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا ۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -