ٹورڈی خنجراب سائیکلنگ ریس کا پہلاروز واپڈاکے نام

ٹورڈی خنجراب سائیکلنگ ریس کا پہلاروز واپڈاکے نام

  

پشاور(این این آئی) دوسری ٹور دی خنجراب انٹر نیشنل سائیکل ریس پروقار تقریب کے ساتھ شروع ہوگئی پہلے مرحلہ میں گلگت سے گلمت تک پاکستان واپڈا کے نجیب اللہ نے 67کلومیٹر کا مطلوبہ فاصلہ 2:1:34 سیکند میں طے کرتے ہوئے پہلی پوزیشن اپنے نام کر لی۔ جبکہ پاکستان آرمی کے عبداللہ نے 2:1:35 میں طے کرتے ہوئے دوسری پوزیشن اپنے نام کی جبکہ سری لنکا کے ویران رمیش 2: 2:49 سیکنڈ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ ایونٹ کا دوسرا مرحلہ جو کہ انفرادی ٹائم ٹرائل کا ہوگا جوکل گلمت سے شروع ہو گا یہ مرحلہ 35کلو میٹر پر محیط ہوگا۔ایونٹ کے پہلے مرحلے کے آغاز سے قبل گلگت میں ایونت کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئے جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظٖ الرحمن نے کہا کے کہ انکی حکومت صوبہ میں کھیلوں اور ٹورزم کو فروغ دینے کے لئے اسے اڈونچر ٹورم کا حب بنانے کے لئے کام کر رہی ہے،ٹورڈی خنجراب کا دوسرا ایڈیشن،سر فرنگا کولڈ ڈیثرٹ جیپ ریلی اسکی روشن مثال ہیں،دوسری ٹور ڈی کنجراب انٹر نیشنل سائیکل ریس کے دوسرے ایڈیشن میں سری لنکا اور افغانستان کی ٹیموں کے علاوہ مغربی ممالک کے کھلاڑیوں کی انفرادی حثیت میں شرکت اور یو سی آئی کی جانب سے اس ایونٹ کے لئے انترنیشنل کومیشر کی تقرری خوش آئند ہے جس کے لئے ہم پاکستان سائیکلینگ فیدریشن اور یو سی آئی کے مشکور ہیں۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظٖ الرحمن دوسری ٹور ڈی خنجراب انٹر نیشنل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اس ایونت میں شرکت کے لئے آنے والے کھلاڑیوں اور پی سی ایف و یوسی آئی آفیشلز کو خوش آمدید کہا اور توقع ظاہر کی کہ پاکستان سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے سائیکلسٹ اور میڈیا نمائندگان نہ صرف سائیکلینگ کو انجوائے کریں اور اس ایونٹ کی بھرپور کوریج کریں گے بلکہ گلگت بلتستان کی حسین وادیوں کو بھی دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم پی سی ایف کی مدد سے اس ایونٹ کو یو سی آئی کلینڈر میں شامل کرانے کی کوشش کریں گے تاکہ دنیا بھر سے سائیکلیسٹوں کو یہاں لایا جاسکے اور گلگت بلتستان کی خوبصورتی دیکھائیں، وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ جی بی ھکومت کے ساتھساتھ اس ایونٹ کے انعقاد مین سرینا ہوٹل۔ ایس سی او۔ کراکرم بینک۔اپنا بینک۔بینک الفلاح اور ایف پی سی سی آئی نے بھرپور تعاون کیا ہے جسکے لئے وہ ان سب اداروں کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ماحولیاتی بہتری کے لئے صوبہ میں سائیکلینگ کے کلچر کو فروغ دینا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ سائیکلینگ کے ایونٹ کے دوسرے ایڈیشن پر بے حد خوش ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکر ٹری سپورٹس آصف اللہ خان نے سپورٹس و ٹورزم کے محکمہ کی کار کردگی بتاتے ہو ئے کہا کہ انکا محکمہ صوبوں میں نوجوانوں کو کھیلوں کی جانب متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ کے لئے سال بھر ایکٹویٹی کرتا رہتا ہے۔تقریب کے موقع پر صوبائی وزیر کھیل وسیاحت فدا محمد فدا۔آرگنائزنگ سیکرٹری پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے نائب صدر نثار احمد،کمشنر گلگت عثمان احمداور سابق سیکر ٹری ٹورزم جی بی وقار احمد خان بھی موجود تھے۔گلگت کے مرکزی پارک میں ایک رنگارنگ تقریب میں اس تاریخی ریلی کا آغاز ہوا۔ ایک مقامی بینڈ نے شرکا کو اپنے فن کے زبردست مظاہرے سے لطف اندوز کیا۔ نظر توڑنے کے لیے دھونی اور خوش بینی کے لیے مکھن روٹی کا بندوبست تھا۔ رنگ برنگے غباروں نے آسمان کو سجا دیا۔ جبکہ گلگت کے لوگوں نے بھرپور انداز میں سائیکل سواروں کو اس کے روٹ پر سڑک کے دونوں جانب تالیاں بجا کر داد دی اور ہمت بڑھائی۔ بچوں نے اپنی زبان میں نعرے لگا کر اور جملے کس کر خوب مزا اڑایا۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -