وکلاء دو جولائی کویوم سیاہ و یکجہتی منائینگے ، امان اللہ کنرانی

        وکلاء دو جولائی کویوم سیاہ و یکجہتی منائینگے ، امان اللہ کنرانی

  

کوءٹہ (این این آئی) سپر یم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے کہا ہے 2جولائی کو وکلاء یوم سیاہ و یکجہتی منائےنگے ،14جون کو وکلاء کے احتجاج کو روکنے کےلئے ریاستی مشینر ی اور خزانے کا استعمال کیا گیا ،بلوچستان کو دیوار سے لگا نے کے مثبت نتاءج مرتب نہیں ہونگے ، اگر صدر مملکت بلوچستان سے ہوں تو چےئرمین سےنےٹ کو مستعفی ہو جانا چاہیے،ان کی برطرفی ،عدم اعتماد کے مطالبے کی مخالفت کرتا ہوں اس اقدام سے بلوچستان کے زخموں کی گہرائی میں اضافہ ہوگا، سیاسی سور ما بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ممبر کی تعینانی میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، جمعرات کو کوءٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکا مزید کہنا تھا 2جولائی کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سپریم جوڈیشل کونسل کی پےشی کے موقع پر وکلاء یوم سیاہ و یکجہتی منائےں گے اس روز پورے ملک میں تمام وکلاء تنظیموں کے عہدیداران اور سابق صدور کو سپریم کورٹ کی عمارت میں مدعو کیا گیا ہے تمام وکلاء کاروائی ختم ہونے تک سپریم کورٹ میں پر امن دھرنا دیں گے اور کارروائی پر نظر رکھیں گے جبکہ اسی روز آئندہ کا لاءحہ عمل بھی طے کیا جائےگا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف ریفرنس کی باقاعدہ سماعت شروع نہیں ہوئی ہ میں امید ہے سپریم جوڈیشل کونسل آئےن، قانون اور بلوچستان کےساتھ انصاف کرےگی اور بلوچستان کو اسکے جائز حق سے محروم نہیں کیا جائےگا ،ہمارا مطالبہ اب بھی یہی ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف ریفرنس واپس لیا جائے ، بلوچستان سند ھ اور سپریم کورٹ میں ویسے ہی عدالتی تعطےلات ہیں لہٰذا ہم عدالتوں کے بائےکاٹ یا ہڑتال کی کال نہیں دے رہے بلکہ بار رومز میں وکلاء سیاہ پرچم لہرائےں گے اور بازءوں پر سیاہ پٹیاں با ندھیں گے،ہم وکلاء میں عدم اتفاق پیدا نہیں کرنا چاہتے وکلاء متحد اور اپنے موقف پر قائم ہیں ، چےئر مین سےنےٹ کو ہٹانے کا عمل ملک کی سیاسی عدم پختگی اور انتقامی رویوں کو پروان چڑھانے کے مترادف ہوگا ۔ چےئرمین سےنےٹ کےخلاف عدم اعتماد کی باتیں ترک ،بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ممبر کی تعیناتی کی جائے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واپس لیا جائے ۔

امان کنرانی

مزید :

صفحہ آخر -