قومی اسمبلی، شہباز شریف کا عمران خان کو سلیکٹڈ وزیر اعظم کہنے پر حکومتی ارکان کا احتجاج 

قومی اسمبلی، شہباز شریف کا عمران خان کو سلیکٹڈ وزیر اعظم کہنے پر حکومتی ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے عمران خان کی موجودگی میں وزیر اعظم کوسلیکٹیڈ کہہ دیا جس پر حکومتی ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور شورشرابہ کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا جس کے جواب میں اپوزیشن ارکان نے بھی جوابی نعرے لگائے،شدید احتجاج کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے سلیکٹڈ لفظ حذف کرادیا۔ قومی اسمبلی کااجلاس وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوا تو شہباز شریف نے اپنے خطاب کے دوران عمران خان کو ان کی موجودگی میں سلیکٹڈ وزیر اعظم کہہ دیا جس کے بعد حکومتی ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور شور شرابہ شروع کر دیا، حکومتی ارکان نے گلی گلی میں شور ہے شہباز شریف چور کے نعرے لگائے تاہم حکومتی ارکان کے شدید احتجاج کے بعد سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہاکہ آپ یہ لفظ استعمال نہیں کر سکتے اس لفظ پر ایوان میں پابندی ہے۔انہوں نے کہاکہ لفظ سلیکٹڈ حذف کرتا ہوں۔اجلاس کے دور ان حکومتی ارکان کے جواب میں اپوزیشن ارکان نے بھی حکومت اوروزیر اعظم مخالف نعرے بازی کی۔اجلاس کے در ان حکومتی چیف وہپ اپوزیشن بینچوں پر پہنچ گئے، نعرے بازی کرنے والے محسن شاہ نواز اور مریم اورنگزیب کو نشستوں پر بیٹھے کی درخواست کرتے رہے۔اپوزیشن نے جواب دیاکہ پہلے حکومتی ارکان کو خاموش کرائیں۔ شہباز شریف کے بعد حماد اظہر نے اظہار خیال کیا تو اپوزیشن ارکان نے جھوٹا جھوٹا کے نعرے لگائے۔قبل ازیں وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے متعدد اداروں، ڈویژن اور وزارتوں کیلئے مطالبات زر کا تخمیہ پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پیش کردہ 200 سے زائد کٹوتی کی تحاریک مسترد کردی گئیں۔دوسری جانب قومی اسمبلی میں بغیر کسی رکاوٹ کے ایک کھرب روپے دفاعی بجٹ کیلئے منظور کرلیے گئے جس پر اپوزیشن کی جانب سے کوئی کٹوتی کی تحریک پیش نہیں کی گئی تھی۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سید نوید قمر نے کہاکہ یہ ایوان مکمل نہیں،2 ارکان غیر حاضر ہیں، پاس ہونے والا بجٹ مشکوک رہے گا جسے چیلنج کیا جاسکے گا لہٰذا دونوں غیر حاضر ارکان کے پروڈکشن جاری کئے جائیں۔شاہد خاقان عباسی نے گیس کی قیمتوں میں اضافے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں گیس کی قیمتیں بڑھا کر متوسط طبقے پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت سرکاری اداروں کے دفاتر اسلام آباد منتقل کرنا چاہتی ہے تاہم ایسے انتظامی فیصلے مسائل کا حل نہیں ہیں۔پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے بجلی کی قیمتوں سے متعلق کہا کہ لوگوں کی بڑی تعداد بجلی کے بل ادا کرنے سے قاصر ہیں۔انہوں نے طنزیہ کہا کہ وزارت توانائی کو اپنا نام تبدیل کرکے وزارت قیمتوں میں اضافہ رکھ لینا چاہئے۔نفیسہ شاہ نے کہاکہ قومی اسمبلی کے دو ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہیں کئے گئے،ہم بطور احتجاج بجٹ بحث میں حصہ لے رہے ہیں لہٰذا مطالبہ کرتی ہوں کہ دونوں منتخب اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جاہئیں۔ خواجہ محمد آصف نے کہاکہ 1994 اور 2002 کی انرجی پالیسی کے تحت بہت سے منصوبے لگے۔جن کے مکمل ہونے سے آئندہ چند برسوں میں ملک میں اضافی بجلی ہو گی۔ وفاقی وزیر عمر ایوب خان نے کہاکہ اپوزیشن ارکان ایوان میں غلط اعداد وشمار پیش کرتے ہیں،وزیراعظم ہاؤس کے گزشتہ پانچ سال کا بجلی کا بل ہم نے10 کروڑ روپے ادا کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ سابق حکومتوں نے ہمارے راستے میں بارودی سرنگیں بچھائی ہوئی تھیں۔انہوں نے کہاکہ بجلی کے نرخوں کا اطلاق 3سو یونٹ تک استعمال کرنے والوں پر نہیں ہو گا جبکہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق بھی 45 فیصد صارفین پر نہیں ہو گا۔مسلم لیگ(ن) کے خرم دستگیر،عائشہ غوث پاشا نے بھی اظہار خیال کیا۔

 قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -