ایمنسٹی میں توسیع ہو سکتی ہے: عمران خان، ڈالر مزید 2.34روپے مہنگا، سٹا ک میں مندی، مہنگائی بڑھے گی شرح نمو ہدف سے کم رہے گی: فچ

ایمنسٹی میں توسیع ہو سکتی ہے: عمران خان، ڈالر مزید 2.34روپے مہنگا، سٹا ک میں ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے اثاثہ جات ظاہر کرنے کی اسکیم کی ڈیڈ لائن میں توسیع کا اشارہ دیتے ہوئے اصلاحات پر عملدرآمد کیلئے ایف بی آر میں چھانٹی کا اعلان کردیا۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ شہریوں کو مشکلات سے نکالنے کے لیے اثاثے ظاہر کرنے کی ایمنسٹی اسکیم کی 30 جون کی ڈیڈ لائن میں توسیع کرسکتے ہیں۔انہوں نے یہ ریمارکس پی ٹی وی نیوز میں کاروباری برادری کے ساتھ خصوصی ٹرانسمیشن میں ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔پروگرام میں معروف تاجر عقیل کریم ڈھیڈھی کی جانب سے ایمنسٹی اسکیم کی ڈیڈ لائن میں توسیع کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کا وطیرہ کے ہر کام کو آخری لمحے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں، اور اس ہی وجہ سے بہت زیادہ لوگ ایک ساتھ اثاثے ظاہر کرنے کے لیے اچانک سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں '۔ان کا کہنا ہے کہ 'ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں، اور میں وفاقی بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے چیئرمین اور وزیر اعظم کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ سے اس کے بارے میں بات کروں گا اور 30 جون کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کے حوالے سے اگلے 48 گھنٹے میں لائحہ عمل سامنے لے آئیں گے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام سمجھتی ہے کہ ان کے ٹیکس کا پیسا ضائع ہو جائے گا، لوگوں کو احساس دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قوم کا پیسا قوم پر خرچ ہو گا، اگر عوام ٹیکس نہیں دیں گے تو قرضوں کی دلدل سے نہیں نکل پائیں گے، ہمیں مل کر ملک کو قرض کی دلدل سے نکالنا ہے۔عمران خان نے کہا کہ قوم چاہے تو ہم 8 ہزار ارب روپے ٹیکس آسانی سے وصول کر سکتے ہیں، قوم فیصلہ کرے کہ ہم نے مل کر ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق حکمرانوں کی وجہ سے ملک میں ٹیکس کلچر فروغ نہ پا سکا، ملک میں سب سے بڑا مسئلہ کرپشن کا ہے، کرپشن کی وجہ سے مہنگائی اور بے روز گاری ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اوپر کی کرپشن ملک کے ادارے تباہ کر دیتی ہے، معاشرہ اس وقت اوپر جاتا ہے جب حکمران قانون کے نیچے ہوں، حکمران اگر کرپشن کرتا ہے تو وہ ملک کے ادارے تباہ کرتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ جب حکمران جماعت ٹیکس چوری کرتی ہے تو سب چوری کرتے ہیں، جب حکمران جوابدہ ہوتا ہے تو ملک میں قانون آ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو سابق کرپٹ حکمرانوں نے تباہ کیا، ایف بی آر کی خرابی سے چھوٹی اور درمیانی انڈسٹریز کو نقصان پہنچا۔ ہم جب تک بزنس کمیونٹی کو پیسا بنانے کا موقع نہیں دیں گے حالات بہتر نہیں ہوں گے، ہم نے اپنی بزنس کمیونٹی کو اٹھانا ہے، ہماری حکومت بزنس فرینڈلی ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر پر عوام کو اعتماد نہیں ہے، ایف بی آر میں لوگوں کی چھانٹی کرنی ہے اور اصلاحات کرنی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر ایف بی آر کو ٹھیک نہ کیا تو ملک چلانے کے لیے پیسا نہیں رہے گا، چیئرمین شبر زیدی کے ساتھ مل کر ایف بی آر میں اصلاحات کروں گا۔ان کا کہنا تھا نان فائلر کو غیر قانونی سمجھا جائے گا، لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ فائلر بننے کے بعد کوئی حکومتی ادارہ کسی کو تنگ نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں انڈسٹری، بزنس کمیونٹی اور برآمدات کو بڑھانے کی پوری کوشش کی ہے، جتنا ہم نے ٹیکس اکٹھا کیا ہے وہ ماضی کے قرضوں کے سودمیں چلا گیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں مشکل سے 20 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں جو دنیا میں سب سے کم شرح ہے، اس طرح سے تو کوئی بھی ملک آگے نہیں چل سکتا۔انہوں نے کہا کہ 21 کروڑ لوگ اگر تھوڑا تھوڑا حصہ بھی ڈالیں تو حالات بہتر ہوں گے، میں چاہتا ہوں ہم ایک سچی قوم بنیں کیونکہ رشوت دینے والی قوم عظیم نہیں ہو سکتی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے پاس ملک چلانے کے لیے پیسہ نہیں ہے، قوم سے کہتا ہوں اپنے آپ کو پہچانیں، یہ قوم دنیا کو ایک مثال دینے کے لیے بنی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، دنیا میں کوئی کام بھی ناممکن نہیں ہے، جب قوم ارادہ کر لے تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم آفس کا 30 کروڑ روپے کا خرچہ کم کیا جب کہ پاک فوج نے اپنے اخراجات کم کرنے کا فیصلہ کیا، مشکل وقت چل رہا ہے، یہ ہونا ہی تھا، جب تک آمدن نہیں بڑھتی مسائل رہتے ہیں، ہم فضول خرچی کم کر کے آمدنی بڑھائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، قوموں کی زندگی میں ایسا وقت آتا ہے، انشاء اللہ ہم اس مشکل وقت سے نکل جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک پر حکومت کرنے والوں کا رہن سہن دیکھیں، یہ لوگ ڈرے ہوئے ہیں کہ یہ آدمی این آر او نہیں دے گا، این آر او نے 10 سال میں ملک کا قرضہ 6 ہزار سے 30 ہزار ارب تک پہنچا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 3 بار کے وزیراعظم کے بیٹے 9 کروڑ پاؤنڈ کے گھر میں رہتے ہیں، کہتے ہیں ہم پاکستانی نہیں ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس دینے والوں کو وی آئی پی کرنا ہے اور کرپشن کرنے والوں کو اصل ٹھکانے یعنی جیل پہنچانا ہے۔وزیراعظم عمران خان سے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے دوسرے روز بھی ملا قات کی جس میں ڈالر کی اڑان کے معاملہ پر بات چیت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق مسلسل دوسرے روز ہونے والی اہم ملاقات میں مالیاتی معاملات سے متعلق امور اور ڈالر کی قدر میں اضافے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعظم نے گزشتہ روز بھی گورنر سٹیٹ کو ملاقات کیلئے بلایا تھا،ملاقات میں پی ٹی آئی رہنماء جہانگیر ترین بھی موجود رہے۔ ذرائع کے مطابق گورنر سٹیٹ بینک نے ڈالر کی قدر میں اضافے پر وزیراعظم کو بریفنگ دی جبکہ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ سٹیٹ بینک تمام امور سے متعلق مسلسل آگاہ رکھے۔دریں اثنا ء وزیر اعظم عمران خان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور انتظامیہ کی جانب سے اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تمام صوبائی چیف سیکرٹریز بشمو ل چیف کمشنر اسلام آباد کو فوری اقدامات لینے اوراس سلسلے میں خصوصی مہم شروع کرنے کی ہدایت کر دی اور کہا قیمتوں کے کنٹرول سے متعلق قوانین پر موثر عمل درآمد کیلئے فوری طور پر لائحہ عمل تشکیل دیا جائے، پرائس اور مارکیٹ کمیٹیوں کو مزید موثر بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف متعلقہ قوانین کے تحت سخت کاروائی عمل میں لائی جائے، مقامی اور مخصوص قوانین پر مکمل عملد ر آمد کے ذریعے سروس ڈیلیوری کو یقینی بنانااور عوام الناس کو ریلیف فراہم کرنا فیلڈ انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، یہ تمام تر ہدایات جمعرات کووزیراعظم آفس کی طرف سے جاری کردہ مراسلے میں کی گئیں، جس میں وزیر اعظم عمران خان کا مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اوردیگر بد عنوانیوں کی روک تھام کیلئے تمام صوبائی چیف سیکرٹریز بشمو ل چیف کمشنر اسلام آباد فوری اقدامات اٹھائیں۔متعلقہ اہلکاروں کے درمیان باہمی روابط کا فقدان، قوانین کا سطحی علم، غیر موثر عمل درآمد اور ذمہ داریوں سے احتراز کی روش نے جہاں متعلقہ قوا نین کو غیر موثر بنا دیا ہے وہاں عام آدمی کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے حکم دیا پرائس اور مارکیٹ کمیٹیوں کو مزید موثر بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف متعلقہ قوانین کے تحت سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔ وزیراعظم نے فیلڈ افسران کو ہول سیل مارکیٹوں کا دورہ کرنے اور نیلامی کے دوران قیمتوں کے مناسب تعین کو یقینی بنانے اور اسپیشل برانچ کوروازنہ کی بنیاد پران احکامات پر عمل درآمد کی رپورٹ متعلقہ وزیر اعلیٰ اور چیف سیکریٹری کو پیش کرنے کی ہدایت کی

وزیر اعظم

کراچی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک میں ڈالر کی اڑان جاری ہے جس کے نتیجے میں امریکی کرنسی کی قدر میں تقریباً2.34 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔ انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں 2 روپے 34 پیسے کا اضافہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ڈالر کی قدر 164 روپے 50 پیسے ہوگئی۔انٹر بینک میں اضافے کے بعد اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر تگڑا ہوگیا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 1 روپے مہنگا ہوا اور اس کی قیمت 164 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ دریں اثنابین الاقومی گولڈ مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 1ڈالرکااضافہ ریکارڈ کیاگیا،جس کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونامزید500روپے مہنگاہوکرملکی تاریخ کی نئی بلندترین سطح 81500روپے پر پہنچ گیا۔آل کراچی صراف اینڈجیولرزایسوسی ایشن کے مطابق کراچی،حیدرآباد، سکھر، ملتان، فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 500روپے اور10گرام سونے کی قیمت میں 428روپے کااضافہ ریکارڈ کیاگیا،جس کے نتیجے میں فی تولہ سونے کی قیمت81000روپے سے بڑھ کر81500روپے اور دس گرام سو

مزید :

صفحہ اول -