مہنگائی مزید بڑھے گی، شرح نمو ہدف سے کم رہے گی، عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ کی رپورٹ

مہنگائی مزید بڑھے گی، شرح نمو ہدف سے کم رہے گی، عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ کی رپورٹ

  

کراچی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک میں ڈالر کی اڑان جاری ہے جس کے نتیجے میں امریکی کرنسی کی قدر میں تقریباً2.34 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔ انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں 2 روپے 34 پیسے کا اضافہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ڈالر کی قدر 164 روپے 50 پیسے ہوگئی۔انٹر بینک میں اضافے کے بعد اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر تگڑا ہوگیا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 1 روپے مہنگا ہوا اور اس کی قیمت 164 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ دریں اثنابین الاقومی گولڈ مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 1ڈالرکااضافہ ریکارڈ کیاگیا،جس کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونامزید500روپے مہنگاہوکرملکی تاریخ کی نئی بلندترین سطح 81500روپے پر پہنچ گیا۔آل کراچی صراف اینڈجیولرزایسوسی ایشن کے مطابق کراچی،حیدرآباد، سکھر، ملتان، فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 500روپے اور10گرام سونے کی قیمت میں 428روپے کااضافہ ریکارڈ کیاگیا،جس کے نتیجے میں فی تولہ سونے کی قیمت81000روپے سے بڑھ کر81500روپے اور دس گرام سونے کی قیمت69444روپے سے بڑھ کر69872روپے کی نئی بلندترین سطح پر پہنچ گئی۔ دوسری طرفپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا تسلسل جاری کاروباری ہفتے کے چوتھے روزجمعرات کوبھی اتارچڑھاؤ کے بعدزبردست مندی رہی اور کے ایس ای100انڈیکس34000،33900اور33800کی نفسیاتی حدوں سے بھی گرگیا،مندی کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے58ارب56کروڑ روپے سے زائدڈوب گئے،کاروباری حجم گذشتہ روزکی نسبت15.44فیصدکم جبکہ53.68فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈکی گئی۔حکومتی مالیاتی اداروں، مقامی بروکریج ہاؤسزسمیت دیگرانسٹی ٹیوشنز کی جانب سے توانائی،بینکنگ اور دیگرمنافع بخش سیکٹرکی نچلی سطح پر آئی ہوئی قیمتوں پرخریداری کے باعث کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہواٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای100انڈیکس34261پوائنٹس کی سطح پر بھی دیکھا گیاتاہم سیاسی افق پر چھائی بے یقینی کی صورتحال،ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس وصولی کیلئے انقلابی اقدامات سے جڑی خبروں اورڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی بے قدری کے باعث مقامی سرمایہ کارگروپ تذبذب کاشکار نظرآئے اور اپنے حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی،جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں تیزی کے اثرات زائل ہوگئے اور کے ایس ای100انڈیکس دوران ٹریڈنگ33521پوائنٹس کی نچلی سطح پربھی دیکھا گیا تاہم غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمایہ کاری کے نتیجے میں مارکیٹ میں ریکوری آئی ا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای100انڈیکس کی33700کی حد بحال ہوگئی تاہم اتارچڑھاؤ کا سلسلہ سارادن جاری رہا۔جمعرات کو مجموعی طور پر326کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا،جن میں سے132کمپنیوں کے حصص کے بھاؤمیں اضافہ،175کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں کمی جبکہ19کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں استحکام رہا۔سرمایہ کاری مالیت میں 58ارب56کروڑ85لاکھ45ہزار977روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی،جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت گھٹ کر68کھرب57ارب11کروڑ76لاکھ53ہزار283روپے ہوگئی۔۔جمعرات کوکے ایس ای30انڈیکس205.49پوائنٹس کمی سے15879.88پوائنٹس،کے ایم آئی30انڈیکس597.54پوائنٹس کمی سے53907.03پوائنٹس جبکہ کے ایس ای آل شیئر انڈیکس212.48پوائنٹس کمی سے24876.55پوائنٹس پربندہوا۔

ڈالر منگا

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)عالمی ریٹنگ ایجنسی ’فچ‘ نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے کہا ہے کہ کاروباری طبقے کا اعتماد کم ہورہا ہے اور سرمایہ کاری منفی اثر لے رہی ہے۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے فچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف سے 8 مہینوں کے بعد معاہدہ طے پاگیا ہے، آئی ایم ایف پروگرام میں اقتصادی اور مانیٹری پالیسیاں سخت رہیں گی، آئی ایم ایف پروگرام قلیل مدت میں معیشت کے لیے منفی ہوگا۔فچ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے بعد سٹیٹ بینک نے 150بیسسز پوائنٹس بڑھائے ہیں، آئی ایم ایف پروگرام کے وقت ڈالر 142 روپے کا تھا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معاشی نمو رورل مالی سال میں 3.2فیصد رہے گی جبکہ مالی سال 2020میں معاشی نمو 2.7فیصد رہے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی بڑھے گی اور قوت خرید کم ہو گی جبکہ معاشی نمو حکومتی ہدف سے کم رہے گا، خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے درآمدات بڑھیں گی، فیچ مزید تبصرہ یہ بھی کیا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کا گرنا معیشت پر اعتماد کو کم کررہا ہے،جولائی 2018سے اسٹاک مارکیٹ 14فیصد گر کر مارچ 2016کی سطح پر آ گئی ہے، کاروباری طبقے کا اعتماد کم ہورہا ہے اور سرمایہ کاری منفی اثر لے رہی ہے جبکہ سی پیک سرمایہ کاری کو سپورٹ فراہم کرے گا۔

فچ رپورٹ

مزید :

صفحہ اول -