ایمنسٹی اسکیم اور ٹیکس اقدامات، کراچی کے تجارتی مراکز ویران ہو گئے 

ایمنسٹی اسکیم اور ٹیکس اقدامات، کراچی کے تجارتی مراکز ویران ہو گئے 

  

کراچی(اکنامک رپورٹر)وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی ایمنسٹی اسکیم اور ٹیکس وصولی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات نے تاجروں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ کراچی میں تجارتی مراکز ویران نظر آنے لگے۔ کاروباری سرگرمیاں بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں، تاجر برادری اپنا کاروبار کرنے کے بجائے حکومتی اقدامات سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ مارکیٹوں سے خریدار بھی غائب نظر آرہے ہیں جبکہ بہت سے تاجروں نے پاکستان چھوڑنے اور دوسرے ملکوں کی شہریت لینے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔ مختلف گروپس نے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے گروپ کے تحت 28 جون کو کنونشن منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اجلاس میں کاروبار کی تالابندی جیسے انتہائی اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔ بڑی تجارتی انجمنوں اور چیمبر آف کامرس نے اپنے تحفظات براہ راست حکومت کے اعلی عہدے داروں سے ملاقات میں گوش گزار کردیے۔ کراچی کے چھوٹے تاجروں کے مسائل جوں کے توں برقرار ہیں اور وہ سب سے زیادہ پریشان ہیں، چھوٹے تاجروں اور ٹریڈرز کا کہنا ہے کہ حکومت جو اقدامات کر رہی ہے اس سے صنعتیں اور ٹریڈرز کا کاروبار بھی بند ہو جائے گا، رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کراچی کے تاجر ٹیکس ایمنسٹی اسکیم اور نان فائلرز کے خلاف تادیبی اقدامات سے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ تاجر رہنماؤں کے مطابق بینک اکاؤنٹس کی بائیو میٹرک تصدیق اور بڑی مالیت کے بانڈز کی ملکیت کی منتقلی پر پابندی سے چھوٹے تاجر براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ ٹریڈرز گروپ نے بجٹ ایمنسٹی اور دیگر ٹیکس اقدامات پر چھوٹے تاجروں کے تحفظات کو اجاگر کرنے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کر دیا ہے۔ چھوٹے تاجروں کے علاوہ الیکٹرانک مارکیٹ، آئرن اسٹیل مارکیٹ، ٹمبر مارکیٹ سمیت کراچی تاجر اتحاد، سندھ تاجر اتحاد، آل سٹی تاجر اتحاد اور مختلف تاجر الائنس اور تنظیموں نے حکومتی اقدامات کو معیشت دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر تاجروں کو ملک سے بھگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن کے سربراہ شرجیل گوپلانی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات سے تاجر سخت پریشان ہیں اور رومانیہ سمیت دیگر چھوٹے ممالک کی شہریت حاصل کرنے اور ملک چھوڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ آل سٹی تاجر اتحاد کے صدر حماد پونا والا نے کہا کہ اگر حکومت تاجروں اور عوام کو سہولیات فراہم نہیں کر سکتی تو ہم سے جبرا ٹیکس کیوں وصول کیے جارہے ہیں، ہم ٹیکس کی ادائیگی کے خلاف نہیں لیکن حکومت وقت اور ایف بی آر کی جانب سے بے بنیاد پالیسیاں بنا کر تاجروں اور انوسٹرز کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ پے در پے نوٹس جاری کرنا، بجلی کے بل کے ساتھ ایف بی آر کے نوٹس جاری کرنا اس طرح سے لوگ بدگمان ہو رہے ہیں۔ یہ تمام کام بالترتیب اور مرحلہ وار ہونے چاہئیں، یکدم عوام پر یہ تمام لوڈ ڈال دینا بالکل ناجائز طریقہ ہے جسے آل سٹی تاجر اتحاد مسترد کرتی ہے، جبکہ ان ڈائریکٹ ٹیکس کی صورت میں حکومت عوام سے کافی سارے ٹیکسز وصول کر رہی ہے جس کے بعد بھی ایک عام شہری پر یہ الزام کیوں لگایا جاتا ہے کہ وہ ٹیکس چور ہیں، کیوں سارا بوجھ اس غریب عوام پر ڈالا جاتا ہے جو مشکل سے پیسے جوڑ کر اپنی فیملی کی کفالت کرتا ہے۔ ایک عام پاکستانی صبح سے شام تک ٹیکس دیتا رہتا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -