سٹیمولس کلائیمٹ لائنچ پیڈ پاکستان کے تربیتی بوٹ کیمپ کا آغاز

سٹیمولس کلائیمٹ لائنچ پیڈ پاکستان کے تربیتی بوٹ کیمپ کا آغاز

  

لاہور(پ ر) کلائیمٹ لائنچ پیڈ پاکستان مقابلہ دوسرے مرحلے میں داخل ہوگیا، 2روزہ تربیتی کیمپ کا آغازکردیاگیا جس میں 25جدید انوویٹرز جو ماحولیاتی تبدیلی اور آلودگی کے خاتمہ کیلئے اپنے آئیڈیاز پیش کریں گے۔ کلائیمٹ لائچ پیڈ کے بانی فرانس نوٹا کا کہنا تھا کہ اس مقابلہ کا آغاز 2014سے کیا گیا، اس سال 25ٹیمیں جن کا تعلق کراچی، اسلام آباد، پشاور، ملتان، ساہیوال، مردان، سوابی اور گلگت سے ہے حصہ لیں گی۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ اس مقابلہ کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں اسٹیمولس شراکت دار ہے۔ اسٹیمولس نے حکومت پاکستان اور وزارت ماحولیاتی تبدیلی سے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت کلائیمٹ لائنچ پیڈ پاکستان 2019کے ذریعہ وزیر اعظم کی کلین گرین پاکستان مہم کی معاونت کریں گے۔ اس کوشش میں لکی سیمنٹ، شیل تعمیر، سٹی ایف ایم 89، ڈالڈا، امپیکٹ نیٹ ورک پاکستان، ویمن انجینئرز پاکستان، فن ورکس گلوبل، میڈورٹائزنگ اور ایکو گارڈز امپیکٹوری بھر پور تعاون کرکے اسٹیمولس کے مشن کو آگے بڑھانے میں مدد کر رہے ہیں۔اس مقابلہ کیلئے پاکستان بھر سے100سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں جس میں زراعت، صحت، توانائی، پانی اور فضلہ کے انتظام سمیت دیگر مسائل کے حل پیش کئے گئے تھے۔ تاہم ان 100میں سے 25سرفہرست ٹیمیں 2روزہ تربیت، 6کوچنگ سیشنز سے آگے جا کے مد مقابل ہوں گی۔ صف اول کی 2ٹیمیں نومبر میں منعقدہ عالمی مقابلے میں 49ممالک کے درمیان پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔

اسٹیمولس نے کلائیمٹ لائچ پیڈ پاکستان کے سلسلے میں گزشتہ ہفتہ اسلام آباد میں ایک تعارفی تقریب کا اہتمام کیا تھا جس میں وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل،ہالینڈ کی سفیر آرڈی اسٹوئس بارکن، وزارت تجارت کی پالیمانی سیکریٹری شاندانہ گلزار خان، ٹیرا ڈیٹا کے سی ای او ہارون کانتھ، لکی سیمنٹ کے زین العابدین سمیت دیگر سماجی، صنعتی اور سرکاری اداروں کے معززین نے شرکت کی۔

اس موقع پر وفاقی وزیربرائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات اور صنعتی ترقی کو جاری رکھنے کیلئے جدت اور نت نئی ایجادات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ہمیں آئندہ نسلوں کیلئے سرسبز اور شاداب پاکستان اور ماحول فراہم کرنا ہے۔ جبکہ ہالینڈ کی سفیر نے اس موقع پر کہا کہ تحقیق و تخلیق سے ہی ماحول دوست کاروباری اسباب، نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ اس مقابلہ کے نتیجے میں سامنے آنے والی تحقیق اور تخلیق سے زراعت، پانی کے ضیاع، آلودہ پانی کی صفائی، قابل تجدید توانائی اور مواصلات کے نئے طریقوں سے مسائل پر قابو پایا جاسکے گا۔ انہوں نے اسٹیمولس کو کلائیمٹ لائچ پیڈ پاکستان کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے زور دیا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی میں ایسے اقدام کی اشد ضرورت تھی۔

مزید :

کامرس -