کیمیکل یونٹوں کو سابقہ فارمولا کے تحت 28 فیصدی سسٹم گیس اور 72 فیصدی آرایل این جی کی مکس سپلائی بحال کی جائے،پی سی ایم اے

کیمیکل یونٹوں کو سابقہ فارمولا کے تحت 28 فیصدی سسٹم گیس اور 72 فیصدی آرایل این ...

  

لاہور(نیوز رپورٹر)پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن(پی سی ایم اے) نے کیمیکل یونٹوں کو گیس کی سو فیصدی سپلائی آر ایل این جی ریٹس پر کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ کیمیکل یونٹوں کو سابقہ فارمولا کے تحت 28 فیصدی سسٹم گیس اور 72 فیصدی آرایل این جی کی مکس سپلائی بحال کی جائے۔پی سی ایم اے کے سیکرٹری جنرل سید اقبال قدوائی نے وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت، پیداوار، تجارت، ٹیکسٹائل و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد کو ایک چھٹی میں مطلع کیا ہے کہ آر ایل این جی کے ریٹس سسٹم گیس کی نسبت بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے کیمکل یونٹوں کی پیداوار میں ناقابل برداشت اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتا یا کہ گزشتہ برس اکتوبر میں پنجاب میں واقع کیمیکل یونٹو ں کو حکومت کی طرف سے نوٹس ملے کہ انہیں نومبر 2018 سے فروری 2019 تک صرف تین ماہ کیلئے ساری گیس آر ایل این جی ریٹس پر فراہم کی جائے گی۔

اور تین ماہ بعد یعنی مارچ 2019 سے سابقہ فارمولا بحال کر دیا جائے گا۔ مگر افسوس کی مقررہ مدت ختم ہونے کے باجود تاحال سابقہ فارمولا بحا ل نہیں کیاگیا۔پی سی ایم اے کے سیکرٹری جنرل نے زیرو ریٹیڈ انڈسٹریز کو گیس کی ارزاں سپلائی کے حوالے سے حکومت کے ترجیحی برتاؤ کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلے سے ملک کی دیگر صنعتوں کو شدیدنقصان پہنچ رہا ہے۔ کیونکہ اس سے زیرو ریٹیڈ انڈسٹریز کو گیس پچاس فیصد ی آر ایل این جی ریٹ پر اور پچاس فیصد ی گیس مقامی ریٹ پر سپلائی کی جارہی ہے جبکہ اس کے نتیجے میں کیمیکل یونٹ سسٹم گیس کے 28 فیصدی حصے سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ اقبال قدوائی نے واضح کیا کہ مقامی گیس اور آرایل این جی کی قیمتوں میں ویسے ہی ایک بہت بڑا فرق ہے۔لیکن ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے یہ فرق ناقابل حد تک بڑھ گیا ہے اور اس وقت آر ایل این جی کی قیمتَ 1750 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو چکی ہے جوکہ سسٹم گیس کی قیمت سے تقریباََ 125فیصدی زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گیس کی اس قدر زیادہ قیمت کی وجہ سے پنجاب کے کیمیکل یونٹ بین الاقوامی مارکیٹ تو ایک طرف، دیگر صوبوں میں واقع کیمیکل یونٹوں سے بھی مسابقت کھو بیٹھے ہیں۔لہٰذاہ انہوں نے وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا زاتی طور پر نوٹس لیتے ہوئے جلد از جلد پنجا ب کے کیمیکل یونٹوں کو سابقہ فارمولا کے تحت گیس کی سپلائی ممکن بنائیں او ر اس سلسلے میں زیرو ریٹیڈ انڈسٹریز کے ساتھ کئے جانے والے ترجیحی سلوک کو ختم کرنے کا حکم دیں۔

مزید :

کامرس -