کاروباری ہفتے کے آخری روز ڈالر کی قدر میں کمی لیکن آئندہ دنوں میں اس سے بھی زیادہ سستا ہونے کا امکان ہے کیونکہ ۔ ۔ ۔ وجہ بھی سامنے آگئی

کاروباری ہفتے کے آخری روز ڈالر کی قدر میں کمی لیکن آئندہ دنوں میں اس سے بھی ...
کاروباری ہفتے کے آخری روز ڈالر کی قدر میں کمی لیکن آئندہ دنوں میں اس سے بھی زیادہ سستا ہونے کا امکان ہے کیونکہ ۔ ۔ ۔ وجہ بھی سامنے آگئی

  

اسلام آباد،کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کاروباری ہفتے کے آخری روز جمعہ کو کاروبار کے دوران پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قد ر میں چار روپے تک کی کمی دیکھی گئی اور آئندہ دنوں  میں امریکی ڈالر کی قدر میں مزید کمی کی پیشن گوئی سامنے آگئی ہے ۔ 

دنیا نیوز کے مطابق خرم شہزاد نےامید ظاہر کی جولائی میں پاکستانی روپے کی قدر مستحکم ہو سکتی ہے اور جرمن میڈیا کو بتایا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ( آئی ایم ایف) کا وفد تین جولائی کو پاکستان آ رہا ہے اور ایک سے دو ہفتے میں پاکستان کو قریباً پچاس کروڑ ڈالر مل سکتے ہیں۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور عالمی بینک سے بھی ایک سے دو ارب ڈالر مل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ قطر کی حکومت نے بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرح پاکستان کو کیش سپورٹ’ فراہم کرنے کا کہا ہے۔خرم شہزاد نے مزید بتایا کہ پاکستان ہر ماہ قریباً سوا ارب ڈالر کا تیل خریدتا ہے۔ یکم جولائی سے قریباً ماہانہ ستائیس کروڑ ڈالر کی مالیت کا تیل سعودی عرب فراہم کرے گا اور پاکستان کو اس کا معاوضہ فوری طور پر نہیں دینا ہوگا۔ پاکستان کے سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اگر حالات غیر مستحکم ہوئے تو سٹیٹ بینک فوری طور پر اقدامات کرے گا۔سٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر کا کہنا ہے ، پاکستان مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج پالیسی کے تحت کام کرتا ہے جس میں مانگ اور طلب کے تحت روپے کی قدر طے ہوتی ہے لیکن پاکستانی روپے کو مکمل طور پر مارکیٹ کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔

مزید :

بزنس -