ذاتی نمود و نمائش کی بجائے انسانی ترقی کو اپنا محور بنایا ،بچت اور کفایت شعاری کا بجٹ دیا، وزیراعلیٰ آفس کے آپریشنل اخراجات میں 58فیصد کمی کی گئی:سردارعثمان بزدار

ذاتی نمود و نمائش کی بجائے انسانی ترقی کو اپنا محور بنایا ،بچت اور کفایت ...
 ذاتی نمود و نمائش کی بجائے انسانی ترقی کو اپنا محور بنایا ،بچت اور کفایت شعاری کا بجٹ دیا، وزیراعلیٰ آفس کے آپریشنل اخراجات میں 58فیصد کمی کی گئی:سردارعثمان بزدار

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ پنجاب کا بجٹ بچت اور کفایت شعاری کا بجٹ ہے جس کا آغاز پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے خود سے کیا اور ہم نے وزیراعلیٰ آفس کے بجٹ میں سب سے زیادہ کٹوتی کی ہے اوروزیراعلیٰ آفس کے آپریشنل اخراجات میں 58فیصد کمی کی گئی ہے،تحریک انصاف کی حکومت نے جاری اخراجات میں صرف 2.7 فیصد اضافہ کرکے سب سے کم اضافے کی ایک نئی مثال قائم کی ہے، نان سیلری، آپریشنل، ایم اینڈ آر اور دیگر مدات میں 10 سے 20 فیصد تک کمی بچت کیلئے عملی اقدامات کا منہ بولتا ثبوت ہے،ماضی میں ہونے والی شاہ خرچیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے،سیکیورٹی کے نام پر ذاتی رہائش گاہوں کی تعمیر و مرمت کا سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا ہے، جس پر سابق دور میں 28 کروڑ روپے خرچ کئے گئے تھے،سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 2 ہزار سے کم کرکے 5 سو کردی گئی ہے،سابقہ روایات کے برعکس لاہور میں میرا کوئی کیمپ آفس، نجی رہائشگاہ یا کوئی دوسرا دفتر نہیں،ہم قومی خزانے کے امین ہیں اور عوام کا پیسہ عوام کی فلاح وبہبود پر ہی خرچ کریں گے۔وہ آج پنجاب اسمبلی میں نئے مالی سال 2019-20 کے بجٹ کی حتمی منظوری کے بعد اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔وزیراعلیٰ نے اسمبلی سٹاف کے لئے 3ماہ کی تنخواہ بطور اعزازیہ دینے کا بھی اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے گزشتہ سال کی نسبت 47 فیصد زیادہ فنڈز مختص کئے ہیں،ذاتی نمود و نمائش کے منصوبوں کی بجائے انسانی ترقی کو اپنا محور بنایا ہے اور اس کے پیچھے ہمارے قائد وزیراعظم عمران خان کا ویژن ہے،وزیراعظم عمران خان نے مجھ اور میری ٹیم پر جس غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کیاہے ہم اس اعتماد پر پورا اتریں گے،میں سب سے پہلے اللہ رب العزت کا شکر بجا لاتا ہوں جس نے ہمیں عوام کی نمائندگی کا منصب عطا کیا اور کروڑوں لوگوں کی خدمت کی توفیق دی،آج ایک تاریخی اور یادگار دن ہے،جب پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا باقاعدہ بجٹ منظور ہوا ہے اور میں اس پر پورے ایوان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،بہترین بجٹ پیش کرنے پر صوبائی وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم بھی مبارکباد کی مستحق ہے جبکہ سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہٰی نے بھی ایوان کو انتہائی احسن طریقے سے چلایا ہے جس پر میں انہیں مبارکباد دیتا ہوں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اسلامی فلاحی ریاست ہمارا نصب العین ہے اور اسی تصور کے پیش نظر ”پنجاب احساس پروگرام“ کے تحت 65 سال سے زائد عمر کے شہریوں کیلئے ”باہمت“ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، معذور افراد کیلئے ”ہمقدم“ پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے، یتیموں اور بیواؤں کیلئے ”سرپرست“ پروگرام لایا جا رہا ہے،معاشرے کے محروم طبقے کیلئے ”مساوات پروگرام متعارف کرایا جا رہا ہے، تیزاب گردی کا شکار خواتین کی بحالی کیلئے ”نئی زندگی“ پروگرام لائے جا رہے ہیں،دہشت گردی کا نشانہ بننے والے عام شہریوں کے اہل خانہ کی مالی امداد کیلئے ”خراج شہداء پروگرام“ متعارف کرایا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ پنجاب میں صحت کا سب سے بڑا ڈویلپمنٹ بجٹ دینے جا رہے ہیں جو تقریباً46فیصد ہے،ہم پنجاب میں 9 نئے ہسپتال بنا رہے ہیں اور 36 اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کے ذریعے 70 لاکھ خاندانوں کومعیاری نجی ہسپتالوں میں علاج معالجے کی بہترین سہولت فراہم کرنے کا پروگرام بھی روبہ عمل ہے۔انہوں نے کہاکہ ”نیا پاکستان منزلیں آسان“ پراجیکٹ کے تحت پنجاب کے دور دراز کے دیہات کو ترقی کے عمل میں شامل کیا جا رہا ہے اور 15 سو کلو میٹر طویل کارپٹڈ سڑکیں بنائی جا رہی ہیں،ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بےگھر مسافروں کے قیام و طعام کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے دورے حکومت میں لاہور، راولپنڈی سمیت متعدد اضلاع میں پناہ گاہیں قائم کی جاچکی ہیں اور اس سلسلے کو مرحلہ وار ڈویژنل ہیڈکوارٹر اور تمام اضلاع تک بڑھایا جائے گا،ہسپتالوں میں بھی پناہ گاہیں قائم کی جائیں گی،حکومت پنجاب نے وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق صوبہ بھر میں 177 ریسٹ ہاؤس عوام کیلئے کھول دیئے ہیں جس سے نہ صرف سیرو سیاحت کے شائقین کو قیام وطعام کی بہترین سہولتیں میسر آئیں گی بلکہ حکومت کو ریونیو بھی حاصل ہوگا، عام آدمی کیلئے نیاپاکستان ہاؤسنگ سکیم کے تحت اگلے 5 سال میں پنجاب میں 25 لاکھ گھر بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،صوبے میں 6 نئی یونیورسٹیاں بنائیں گے،ننکانہ صاحب میں باباگورونانک یونیورسٹی بھی قائم ہوگی۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں جنوبی پنجاب سمیت تمام پسماندہ علاقوں کے ساتھ زیادتیاں روا رکھی گئیں لیکن ہم نے 35 فیصد ترقیاتی بجٹ جنوبی پنجاب کے لئے مختص کیاہے اوریہ بجٹ کسی اور مقصد کے لئے استعمال نہیں ہوگا جبکہ ماضی میں جنوبی پنجاب کے لئے محض 12فیصد یا 17فیصد ترقیاتی بجٹ رکھا جاتا تھا۔انہوں نے کہاکہ میں نے جس ضلع یا ڈویژن کا دورہ کیا وہاں میں نے جیلوں کا بھی وزٹ کیا،جیلوں میں قیدیوں کی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لئے میں نے ہدایات جاری کی ہیں اور پنجاب میں پہلی مرتبہ ضابطہ فوجداری کے تحت قیدیوں کی سزاؤں میں 2 ماہ کی معافی دی گئی،ایک ہزار قیدیوں کو حکومت اور مخیر حضرات کے تعاون سے تقریباً 28کروڑ روپے جرمانہ اور دیت وغیرہ ادا کرکے رہائی دلائی گئی۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب بھر میں 1122ریسکیو سروسز کا دائرہ کار سب ڈویژنل ہیڈ کوارٹرتک بڑھایاجا رہاہے جبکہ ماضی میں اس اہم ترین ادارے کو نظر انداز کیاگیا،کاشتکاروں کو سہولت دینے کے لئے زرعی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں اور کاشتکاروں کو زرعی کریڈٹ کارڈ بھی دئیے جائیں گے ، پنجاب میں نئی ایگریکلچر پالیسی نافذ کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ گریٹرتھل کینال چوبارہ برانچ میں تعمیراتی سرگرمیوں کو تیز تر کیا جا رہا ہے، اسی طرح تریموں اور پنجند بیراج کی اپ گریڈیشن پر کام ہو رہا ہے،جلالپور کینال پراجیکٹ مکمل ہونے سے جہلم اور خوشاب کے 80 گاؤں کے سوا دو لاکھ مکین اور ایک لاکھ 60 ہزار ایکڑ اراضی کو پانی میسر ہو گا، پنجاب میں نئی لیبر پالیسی تشکیل دی گئی، کارکنوں، مزدوروں اورگھریلو ورکروں کی فلاح و بہبود اور تحفظ کیلئے قوانین متعارف کرائے گئے اور صنعتی مزدوروں کو لیبر کالونیوں میں گھروں کی الاٹمنٹ کیلئے نئی الاٹمنٹ پالیسی بھی تشکیل دی گئی۔انہوں نے کہاکہ پنجاب میں سپورٹس پالیسی کے تحت نہ صرف سپورٹس کیلنڈر بنایا جا رہا ہے ،پنجاب میں پہلی مرتبہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تعیناتی میرٹ پر عمل میں لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پنجاب نے انجینئرز اور ڈاکٹرز کو الاؤنس دینے کا وعدہ پورا کیااور پولیس الاؤنس بھی بڑھایا جا رہا ہے،ماضی کی روایات کے برعکس کابینہ کا اجلاس تسلسل کے ساتھ ہو رہا ہے، کابینہ کے 13اجلاس منعقد ہو چکے ہیں،کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کردہ 1600ایجنڈا آئٹم کی منظوری دی جا چکی ہے اور پنجاب اسمبلی نے قانون سازی میں دیگر اسمبلیوں کے مقابلے میں لیڈ لی ہے اور پنجاب اسمبلی کارکردگی میں سب سے متحرک اسمبلی ہے،میں نے اور میری ٹیم نے عوام کے منتخب نمائندوں کو عزت دی ہے جس کے وہ بجاطور پر حق دار بھی ہیں،ارکان اسمبلی اپنے اپنے حلقے کے سی ایم ہیں اور میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں او ر آپ کی عزت پہلے سے زیادہ ہے

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -