بھارتی وزیر اعظم کا غیر شعوری طور پرکشمیر کو حل طلب مسئلہ قرار دینا ہمارے دیرینہ موقف کی تائید، حقیقت کو لاکھ پردوں میں بھی چھپایا نہیں جاسکتا:سید علی گیلانی

 بھارتی وزیر اعظم کا غیر شعوری طور پرکشمیر کو حل طلب مسئلہ قرار دینا ہمارے ...
 بھارتی وزیر اعظم کا غیر شعوری طور پرکشمیر کو حل طلب مسئلہ قرار دینا ہمارے دیرینہ موقف کی تائید، حقیقت کو لاکھ پردوں میں بھی چھپایا نہیں جاسکتا:سید علی گیلانی

  

سرینگر(ڈیلی پاکستان آن لائن)حقیقت کو لاکھ پردوں میں بھی چھپایا نہیں جاسکتا، سچائی ایک سو تیس کروڑ عوام کے منتخب نمائندوں کے برسوں سے دہرائی گئی غلط بیانی سے بھی بدل نہیں سکتی اور ہمالیہ جیسی ٹھوس حقیقت لگاتار انکار کرنے والے دھانوں سے بھی چھین چھین کر سامنے آہی جاتی ہے،بھارتی وزیر اعظم نے غیر شعوری طور مسئلہ کشمیر کو ایک حل طلب مسئلہ قرار دے کر ہمارے دیرینہ موقف کی تائید کی ہے۔ان خیالات کا اظہار حریت چیرمین سید علی گیلانی نےراجیہ سبھا میں شکریہ کی تحریک پر بھارت کے وزیر اعظم کے دیئے گئے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا جس میں موصوف نے کہا کہ ’’اگر پٹیل بھارت کے پہلے وزیر اعظم بنتے تو مسئلہ کشمیر حل ہوچکا ہوتا‘‘، یعنی کشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے۔حریت راہنما نے کہا کہ پوری کشمیری قوم کا مشترکہ اور متفقہ موقف یہی ہے کہ ریاست جموں کشمیر متنازعہ علاقہ ہے اور اس کا حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے،اس حقیقت کی گواہ پوری دنیا ہی نہیں بلکہ خود اقوامِ متحدہ ہے جہاں اس دیرینہ مسئلہ کے حق میں دستاویزی شواہد اور ثبوت بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’اٹوٹ انگ‘‘ کی راگ الاپنے والے خود ہی یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ ریاست جموں کشمیر کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا ہے،بھرے ایوان میں اکثریتی منڈیٹ حاصل کرنے والوں کا اس حقیقت کا اعادہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ حقائق اور سچائی کو چاہے کتنی ہی طاقت سے دبانے کی کوشش کی جائے یا اس کو کتنے ہی طویل عرصے تک جھٹلایا جائے وہ اپنے آپ کو منوائے بغیر نہیں رہ سکتی۔حریت چیئرمین نے کہا کہ بھارتی عوام کو اپنے حکمرانوں کے قول وفعل میں اس واضح تضاد پر ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کی ضرورت ہے،ایک طرف کشمیر کو حل طلب قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف خود کشمیریوں کے اسی مطالبے کو آہنی ہاتھوں سے کچلنے اور دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں کو اپنے پیش روؤں کے وعدوں کو پورا کرکے ریاست جموں کشمیر کے عوام کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے،برصغیر کی تقسیم کے وقت سے ہی کشمیر ایک سُلگتے انگارے کی طرح یہاں کے خرمن امن کو تہہ وبالا کررہا ہے اور تین نسلوں نے ان بھڑکتے شعلوں اور روزبروز بڑھتی ہوئی  نفرتوں اور کدورتوں میں اپنی زندگی گزاری ہے۔ اکثریتی مینڈیٹ کے سرپٹ گھوڑے پر سوار ہوکر چوڑے سینے کے ساتھ مسند اقتدار پر براجمان ہونے والے موجودہ حکمران اب چوتھی نسل کو بھی اسی آگ وآہن کا ایندھن بننے پر مجبور کررہے ہیں۔آزادی پسند رہنما نے بھارتی وزیر اعظم سے مخاطب ہوکر کہا کہ ریاست جموں کشمیر ہندوستان کا حصہ تھا ہی نہیں، نہ ہی خود بھارت نے انہیں اپنا سمجھا اور نہ کشمیریوں کو زبردستی اپنے ساتھ رکھنے سے وہ ان کے ملک کا حصہ بنا،یہ پچھلے 71برس سے ایک ایسی ناقابل تردید حقیقت ہے جس کو آج آپ کی اپنی جماعت کے منتخب ممبر پوری ڈھٹائی سے کھلے عام کہتے پھرتے ہیں کہ اگر کشمیریوں کو ظلم وستم اور جبر قہر کی بھٹی میں سلگانے سے اُن کے ’’اپنے شہری‘‘محفوظ رہ سکتے ہیں تو یہی سہی۔حریت چیرمین نے بھارتی حکمرانوں کو نیک نیتی پر مبنی ایک مخلص مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انسانی لاشوں اور مصنوعی سرجیکل سٹرائیک کی لہو رنگ اور غیر اخلاقی بیساکھیوں پر کب تک اقتدارحاصل کیا جا سکتا ہے؟ اس لیے برصغیر کے اس دیرینہ مسئلہ کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کے عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس خطے کو نیوکلیائی ٹکراؤ کی وجہ سے تباہی اور بربادی کی ہولناکیوں کی نذر ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا اور جس اقتدار اور کرسی کے لیے اتنی ضد، ہٹ دھرمی اور حقائق سے چشم پوشی کی جارہی ہے نہ وہ اقتدار رہے گا اور نہ ہی جغرافیائی حد بندیاں رہ پائیں گی۔  

مزید :

قومی -