معیشت سنبھلنے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی ،حکومت ماضی کا رونا رو کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے:نصر اللہ ملک

معیشت سنبھلنے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی ،حکومت ماضی کا رونا رو کر خود کو ...
 معیشت سنبھلنے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی ،حکومت ماضی کا رونا رو کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے:نصر اللہ ملک

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر تجزیہ کار اور معروف صحافی  نصر اللہ ملک نے کہا ہے کہ معیشت کے سنبھلنے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی ،حکومت ماضی کے حکمرانوں کا رونا رو کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے،خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہوتی جائے گی ،عمران خان کی ماضی میں کی گئی  باتیں شائد وہ خواب تھا جو آج بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا ۔نجی ٹی وی چینل ’’نیو نیوز‘‘ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نصر اللہ ملک کا کہنا تھا کہ  اگر ملک میں مہنگائی کا طوفان آتا ہے، افراط زر ہوتی ہے یا پھر ڈالر اونچی اڑان پکڑتا ہے تو حکومت کی طرف سے صرف ایک ہی جواب ملتا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں  نے ایسی ناقص پالیسیاں اپنائی جس کے نتیجے میں آج مشکل دن دیکھنے پڑ رہے ہیں،جگہ جگہ لوگ مہنگائی کے خلاف آواز اٹھاتے اور کہتے ہیں کہ روپے کی قدر مسلسل گرتی جا رہی ہے اور اس مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا جینا مشکل ہو گیا تو پھر آگے سے جواب آتا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے قرضے لئے ،آج قرضے اتارنے کے لئے ٹیکسوں کی بھرمار کرنی پڑ رہی ہے ،جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ حکومت میں گورنس نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی ،مہنگائی کنٹرول نہیں کی جا رہی ،بازاروں میں اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں تب بھی حکومت کی جانب سے یہی جواب ملتا ہے کہ ماضی کے حکمران ملک کو لوٹتے رہے ،اس لئے ملک کو موجودہ مشکل حالات سے نکالنا ابھی بڑا مشکل کام ہے ،گویا حکمرانوں کے پاس ایک ہی جواب ہے ’ماضی کے حکمران اور ماضی کے حکمران ،حالانکہ ماضی میں یہی عمران خان تھے جو کہتے تھے کہ جب روپے کی قدر گرتی ہے ،جب ڈالر کی قیمت بڑھ جاتی ہے،جب مہنگائی کا طوفان آتا ہے تو سمجھ لیں کہ چور حکمران ہیں ،لوٹنے والے حکمران ہیں جو پیسہ لوٹتے ہیں ،اس لئے جب پیسہ ان کی جیبوں میں چلا جاتا ہے تو مہنگائی ہو جاتی ہے ،پچھلے ایک ماہ کے دوران ڈالر کی قیمت میں 17 روپے اضافہ ہوا تاہم حکومت خاموش تماشائی بنی رہی ،ایک روز وزیر اعظم نے گورنر سٹیٹ بینک کو بلایا اور ان سے پوچھ گچھ کی تو ڈالر کی قیمت تین روپے کم ہو گئی مگر خدشہ یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں روپے کی قدر مسلسل گرتی چلی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ کہیں سے کوئی امید نظر نہیں آتی کہ معیشت سنبھل پائے گی ؟کیونکہ آج وزیر مملکت حماد اظہر خود کہتے نظر آئے ہیں کہ چار فیصد ٹیکس اور بڑھانا پڑے گا ،اگر ٹیکس نہ بڑھایا تو ملک بینک کرپٹ ہو سکتا ہے ،یہ آوازیں وہ حکمران  لگا رہے ہیں جنہوں نے ماضی میں بڑے بڑے دعوے کئے تھے اور کہا تھا کہ جب اُن کی حکومت ہو گی تو باہر سے پیسہ آئے گا، ڈالروں کی برسات ہو جائے گی اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا لیکن آج کے حکمران تباہی کی ساری ذمہ داری سابق حکمرانوں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں،عمران خان کی باتیں شائد وہ خواب تھا جو آج بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا ۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -