یہ کون مرد اٹھ گیا ہر آنکھ اشکبار ہے لحد میں سو گیا مگر قوم کو جگا گیا   ہر اک محاذ حریت پر دھاک بٹھا گیا وہ بجھتے بجھتے زندگی کو راستہ دکھا گیا

یہ کون مرد اٹھ گیا ہر آنکھ اشکبار ہے لحد میں سو گیا مگر قوم کو جگا گیا   ہر اک ...

  

             ”صبح منور شام منورروشن تیرا نام منور،،

چراغ علم و آگہی تمام سوگوار ہیں 

چوہدری فرحان شوکت ہنجرا

صبح منور شام منور روشن تیرا نام منور۔تقویٰ کا زاد راہ ستم کا آشنا تھا سبھی کے دل دکھا گیا حق گوئی،جرات،اصولی موقف،اخلاقی اقدار، اسلامی معیار، درویش صفت سادگی کی بلندی کی انتہا، توکل اللہ، قناعت پسندی،حق پرستی،حق بات کہنا اور دٹ جانا،ایمان،تقوی،جہاد فی سبیل اللہ،طاغوتی طاقتوں کے سامنے سینہ سپر چٹان، امانت دیانت، شرافت،صداقت کا مینار نور،خشوع خضوع کے ساتھ ایسی اللہ کی عبادت کہ نظر آئے ولی اللہ،دنیاوی فائدے سے بے نیاز،دینی، دنیاوی علم کا چراغ راہ،الفاظ کی ادائیگی ایسی کہ دشمن پاکستان واسلام پر ہیبت طاری ہوتی کیفیت محسوس ہوتی،عالم اسلام مجاہدین اسلام، غلبہ دین کے پشتیبان و ترجمان،سیاست کا مثالی کردار،،دئیے بہرسو جلا چلے ہم تم ان کو آگے جلائے رکھنا روایتیں کچھ چلا چلے ہم تم ان کو آگے چلائے رکھنا،،مولاناسید ابو اعلیٰ مودودی،میاں طفیل محمد،قاضی حسین احمد کے بعد سید منور حسن رب کے حضور پیش روشنی تجھ پہ ابتلا ہے آج جو منور تھا بجھ گیا ہے آج سید منور حسن گوشہ جنت بنا مسکن،سید منور حسن کے لیے اور بھی القابات کہے لکھے جائیں تو یہ سلسلہ نہ رکے تقوی کا یہ عالم کہ منصورہ میں 22 برس ایک کمرے میں گزارے ایک انٹرویو میں صحافی نے سوال کیا کہ منور صاحب آپ اپنے اثاثوں کے بارے میں بتائیں تو سید منور حسن نے لاجواب کر دیا کہا اثاثوں کا اعلان کرنے کے لیے پہلی شرط یہ ہونی چاہیے کہ اثاثے ہونے چاہیے لیکن میرے پاس کوئی اثاثہ نہیں۔جس مکان میں رہتا ہوں وہ میری اہلیہ کا ہے۔ الحمد اللہ بہت اچھی گذر بسر ہو رہی ہے دین اور دنیاداری الگ چیز نہیں ہے بلکہ دین دنیا کی زندگی سلیقے سے گزارنے کا نام ہے دنیاوی زندگی کو آخرت کی فکر پر بسر کرنے کی کوشش کی ہے الحمد اللہ آج ہر ذی شعور فرد یہ گواہی دے رہا ہے کہ سید منور حسن نے پوری زندگی اقامت دین کی جد وجہد میں گزاری ان کو دیکھ کر منہ سے بے ساختہ الفاظ نکلتے تھے کہ بندہ اللہ کا ولی دکھتا ہے منبر پر بیٹھ کر قرآن پاک کی روح پر ور تلاوت لوگوں کو سحر میں مبتلا کر دیتی منہ سے نکلے ہر الفاظ ہیرے موتی کی مالا محسوس ہوتی۔مرشد سید منور حسن نے دلوں کی کیفیت کو بدلا جب ایک طرف طاغوتی طاقتوں اور ان کی ہمنواؤں نے اسلام پاکستان کی نظریاتی،اسلامی،تہذہبی،اخلاقی اقدار پر ہر طرح کی پر اکسی وار کی دہشت گردی کی نام نہاد جنگ میں پاکستان اور پاکستانی قوم،قومی سلامتی کے اداروں کو ٹارگٹ کیا پاکستان پر دہشت گردی مسلط کر کے الٹا پاکستان کو ہی مود الزام ٹھہرایا تو مرد درویش نے آلائے کلمتہ اللہ کی صدا کو بلند کیا گو امریکہ گو تحریک برپا کی جو پورے ملک کے تمام طبقوں کی آواز بن گئی آج امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں جس ذلت رسوائی کا آشکار ہوئے ہیں سید منور حسن کے جہاد فی سبیل اللہ کا موقف اس کا روشن باب ہے تقوی کا یہ عالم تھا کہ جب ان کی صاحبزادی کی شادی ہو ئی راقم الحروف بھی اس شادی کی تقریب میں شریک تھا اس موقع پر لوگوں نے جو تحائف دئیے سید منور حسن نے سارے تحائف جماعت اسلامی کے بیت المال میں یہ کہہ کر جمع کرا دئیے کہ یہ تحائف جماعت اسلامی کے امیر ہونے کی وجہ سے میری بیٹی کو ملے ہیں لہذا یہ جماعت اسلامی کے ہیں میری بیٹی کے نہیں سید منور حسن لوگوں کی نظریاتی تربیت کرتے رہے اور لاکھوں نوجوانوں کو ملک میں دین کی خدمت کے لیے تیار کیا اللہ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -