نِگہ بلند……سخن دل نواز……جاں پرْسوز سید منورحسن کون تھے؟

نِگہ بلند……سخن دل نواز……جاں پرْسوز سید منورحسن کون تھے؟

  

پیدایش:

سید منور حسن کی جہد مسلسل کی داستان نصف صدی پر محیط ہے۔وہ اگست1941ء میں دہلی میں پیدا ہوئے، والد سید اخلاق حسین دہلی کے ایم بی ہائی اسکول میں پڑھاتے تھے۔ قیام پاکستان کے وقت وہ ایم بی ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ ان کی والدہ بچوں کو قرآن مجید پڑھاتی تھیں۔ وہ دہلی کے ایک ایسے معزز گھرانے کے چشم و چراغ تھے جو 47ء میں ہجرت کے زخم جھیلتا ہوا پہلے دہلی سے لاہور اور پھر لاہور سے کراچی پہنچا۔ سید منور حسن جن کی عمر اس وقت سن شعور کو چھو رہی تھی، اس خون آشام سفر میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تھے۔ یوں ان کے سینے پر تمغہ ہجرت بھی سجا ہوا ہے، روشن درخشاں نیر و تاباں۔

تعلیم:

سید منور حسن نے ابتدائی تعلیم جیکب لائن کے ایک اسکول سے حاصل کی،نے1963ء اور 1966ء میں جامعہ کراچی سے عمرانیات اوراسلامیات میں ”ایم اے“ کے امتحانات امتیازی حیثیت سے پاس کیے۔

طلبہ سیاست میں حصہ:

انہوں نے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے اپنی طلباء سیاست کا آغاز کیا لیک،وہ 1959میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر بھی رہے تاہم کچھ ہی عرصے بعد سید ابو الاعلیٰ مودودی مرحوم کے انقلاب آفرین لٹریچر کے زیراثر ان کی ایسی قلبی ماہیئت ہوئی کہ وہ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے نکل کر اسلامی جمعیت طلبہ کے ہر اول میں شامل ہوگئے۔

زمانہ طالب علمی میں ہی سید منورحسن اپنی برجستگی اور شستہ تقریر میں معروف ہوگئے۔وہ کالج میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے۔علاوہ ازیں بیڈمنٹن کے ایک اچھے کھلاڑی بھی رہے۔

اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی:

٭……سید منورحسن جون 1960ء میں اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہوئے۔

٭…… اکتوبر 1962ء میں، انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

٭……سید منورحسن1962میں اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ کراچی کے ناظم بھی رہے۔

٭……سید منورحسن 1963میں اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے ناظم رہے۔

٭…… 27 دسمبر 1964ء کے سالانہ اجتماع میں جمعیت کے ارکان نے انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم اعلیٰ منتخب کیا۔

٭……وہ مسلسل تین مرتبہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ منتخب ہوئے۔

٭……ان کے دورِ نظامت میں جمعیت نے طلبہ کے مسائل،نظام تعلیم، اور تعلیم ِ نسواں کو درپیش مسائل کے حل کے سلسلے میں رائے عامہ کو بیدار کرنے کے لیے متعدد مہمات کا آغاز کیا۔

٭…… سید منورحسن نے 27 دسمبر 1964ء سے 19 نومبر 1967ء تک اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔

٭……وہ 13جنوری 1968میں اسلامی جمعیت طلبہ سے فارغ ہوئے۔

جماعت ِ اسلامی میں شمولیت:

٭……سید منور حسن نے 1968ء میں ”جماعت اسلامی پاکستان“ میں شمولیت اختیار کی۔

٭…… سید منورحسن جماعت اسلامی کراچی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور نائب امیرکی حیثیت سے بھی اپنے فرائض انجام دیے۔

٭……وہ جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عاملہ کے بھی رکن منتخب ہوئے۔

٭…… 1977کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی جانب سے کھڑے کیے جانے والے امید وار جمیل الدین عالی کا مقابلہ کیا، قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور ملک بھر میں سب سے زیادہ ووٹ لینے کا ریکارڈ قائم کیا۔

٭……انہوں نے1977میں جماعت اسلامی کراچی کے سیکریٹری جنرل کے طور پر بھی فرائض انجام دیئے۔

٭……انہوں نے1977میں چلائی جانے والی تحریک نظام مصطفی کو کراچی میں منظم کیا۔

٭……وہ اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی کے ڈائریکٹر بھی رہے،ان کی نگرانی میں اس اکیڈمی نے 70سے زاید علمی کتابیں شایع کیں۔

٭……انہوں نے اسلامک ریسرچ اکیڈمی سے شایع ہونے والے جریدے The Criterionاور The Universal Message کی ادارت بھی کی۔

٭……انہوں نے متعدد بین الاقوامی فورمز پر جماعت اسلامی کی نمائندگی کی۔

٭……وہ جنوری1989سے نومبر1991ء تک جماعت اسلامی کراچی کے امیر کے منصب پر فائز رہے۔

٭…… انہیں 1992 میں جماعت اسلامی پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مقرر کیے گئے۔

٭……وہ 2009 میں بھاری اکثریٹ سے جماعت اسلامی پاکستان کے چوتھے امیر مقرر ہوئے۔وہ 2014تک بطور امیر جماعت اسلامی پاکستان،اس منصب پر فائز رہے۔

ژژژژژ

مزید :

ایڈیشن 1 -