کرپٹ عناصر نے جمہوریت کے نام پر لوٹ مار کی، شہباز گل

  کرپٹ عناصر نے جمہوریت کے نام پر لوٹ مار کی، شہباز گل

  

اسلام آباد (آئی این پی) معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ ماضی میں کرپٹ عناصر نے جمہوریت کے نام پر لوٹ مار کی لیکن ملک میں اب غریب کے پیسوں پر عیاشیوں کا رواج نہیں۔قومی اسمبلی میں رانا ثنا اللہ کی تنقید کے جواب میں شہباز گل نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کو لگ رہا ہے کہ وزیراعظم آفس میں نوازشریف ہیں جو قوم کا پیسہ اندھے دھند لوٹ رہے ہیں،عمران خان ایک ایک پیسے کا حساب لیتے ہیں، آپ کا کام دن رات جھوٹ بولنا ہے اور اس کے علاوہ آپ نے سیکھا ہی کیا ہے، ایمانداری میں آپ اور آپ کے آقاؤں کا عمران خان سے کیا مقابلہ، کہاں عمران خان اور کہاں ٹھگوں کا میلہ؟۔ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ اب بادشاہ سلامت والا دور نہیں رہا، اب غریب کے پیسوں پر عیاشیوں کا رواج نہیں، بیرونی دوروں پر پوتے، نواسے، سمدھی اور پورا ٹبر لے کر جانے والوں کو قوم بھولی نہیں، سابق حکومتوں نے سرکاری پیسہ بے دریغ اڑایا اور شاہانہ انداز زندگی اپنائے، کرپٹ عناصر نے جمہوریت کے نام پر لوٹ مار کی، وزیراعظم عمران خان نے کفایت شعاری کی مثال قائم کی ہے، غریب عوام کا درد رکھنے والے وزیراعظم اور جمہوریت کے نام پر لوٹ مار کرنے والوں کا فرق واضح ہے۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ڈیوس دوروں پر نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور یوسف رضا گیلانی نے خطیر رقم خرچ کی، سب سے زیادہ اخراجات نواز شریف کے دورے پر آئے تھے، نواز شریف نے 7 لاکھ 62 ہزار ڈالرز، شاہد خاقان عباسی نے 5 لاکھ 61 ہزار ڈالرز جب کہ یوسف رضا گیلانی کے دورے پر 4 لاکھ 59 ہزار ڈالرز کا خرچ آیا، وزیراعظم عمران خان کے 3 روزہ دورے پر صرف 68 ہزار ڈالرز خرچ ہوئے۔ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے دورہ امریکا پر بھی کفایت شعاری کی مثال قائم کی تھی، جولائی 2019 میں عمران خان کے دورہ واشنگٹن پر 67 ہزار 180 ڈالرز خرچ ہوئے تھے، نواز شریف نے 2013 میں 5 لاکھ 49 ہزار 853 ڈالرز، 2009 میں آصف زرداری نے 7 لاکھ 52 ہزار 688 ڈالرز خرچ کیے، وزیراعظم عمران خان نے دورہ نیویارک بھی کم ترین اخراجات میں مکمل کیا تھا، آصف زرداری نے نیویارک دورے پر 13 لاکھ 9 ہزار 620 ڈالرز، نواز شریف نے 11 لاکھ 13 ہزار 142 ڈالرز جب کہ شاہد خاقان عباسی نے نیویارک کا دورہ کیا تو 7 لاکھ 5 ہزار 19 ڈالرز خرچ کر ڈالے تھے۔

شہباز گل

مزید :

پشاورصفحہ آخر -