جنوبی وزیرستان میں کمیٹیوں کے نام پر متوازی حکومت کا قیام خطر ناک: سیاسی رہنما

جنوبی وزیرستان میں کمیٹیوں کے نام پر متوازی حکومت کا قیام خطر ناک: سیاسی ...

  

ٹانک(نمائندہ خصوصی)جنوبی وزیرستان میں ایک بار پھر کمیٹیوں کے نام پر متوازی حکومتوں کے قیام سے خطرناک صورت حال پیدا ہوگئی ہے، برامتہ اور خالوت کے نام پر غریب قبائلیوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ جاری حکومتی اداروں کی پراسرار خاموشی سے طالبان دور جیسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، سیاسی رہنما جھگنو وزیرستانی تفصیلات کے مطابق جنوبی وزیرستان میں گزشتہ دور میں انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے کامیاب آپریشنوں کے باعث پورے جنوبی وزیرستان میں مثالی امن قائم ہونے کے بعد علاقے میں دوبارہ آبادی کاری پروگرام کے تحت ترقیاتی منصوبوں کا ایک جال بچا دیا گیا ہے جس سے نہ صرف مقامی قبائل مستعفید ہورہے ہیں بلکہ پاکستان کے کونے کونے سے سیاح بھی سیر و تفریح کیلئے آکر علاقے کے ٹھنڈے موسم سے لطف اندوز ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ ایک عرصہ سے سب ڈویژن لدھا کے علاقہ مکین میں کمیٹیوں کے نام پر متوازی حکومت قائم ہوگئے ہے، جنھوں نے مکین کمرشل مارکیٹ میں باقاعدہ دفاتر کھول کر خود ساختہ عدالتیں قائم کی ہیں جو علاقے کے لوگوں کو زبردستی بلا کر ان پر اپنے فیصلے مسلط کرتے ہیں اور خلوت اور برامتہ کے نام پر لوگوں سے زبردستی لاکھوں روپے وصولی کی جاتی ہے، طاقتور مقامی کمیٹی نے پاک آرمی کی جانب سے مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے دوبارہ آبادی کاری پروگرام کے تحت تعمیر کیا جانے والا 780 دوکانوں پر مشتمل مکین کمرشل مارکیٹ پر قبضہ جمایا ہے اور مارکیٹ کے دوکانداروں سے زبردستی کرایہ وصول کرتے ہیں اور مارکیٹ کے اصل مالکان کو بے دخل کیا گیا ہے، قبائلی رہنما جھگنو وزیرستانی کے مطابق مذکورہ کمیٹی نے مکین کمرشل مارکیٹ کا اب تک دس کروڑ روپے سے زیادہ کرایہ ہڑپ کیا ہے، اور مارکیٹ کے اصل مالکان کو ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا ہے، جھگنو وزیرستانی کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں پاک آرمی کی بدولت مثالی امن قائم ہوچکا ہے لیکن علاقے میں کمیٹیوں کے نام پر قائم متوازی حکومتوں کی قیام سے خطرناک صورت حال پیدا ہو گئی ہے اور مقامی کمیٹیوں نے حجاموں پر نوجوانوں کی داڑھیوں کی شیو اور ڈیزائن بنانے پر پابندی عائد کر دی ہے جس سے سابقہ طالبان دور کی بھیانک یادیں تازہ ہو گئی ہیں اور دوبارہ وہی نظام نافذ العمل ہونے کا قومی امکان ہے، جھگنو وزیرستانی نے کہا کہ قبائلی علاقے صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے کے ہم سمجھ رہے تھے کہ پولیس اور عدالتی نظام سے علاقے میں سابقہ خود ساختہ کمیٹیوں کے نام پر مقامی حکومتوں کا خاتمہ ہوجائیگا لیکن بدقسمتی سے علاقے میں پولیس اپنی عملداری قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہے جس سے پاک فوج کا جنوبی وزیرستان میں امن بحالی کیلئے دی جانے والی قربانیوں پر پانی پھیرنے کا شدید خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جھگنو وزیرستانی نے حکومتی اداروں سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مکین میں کمیٹیوں کے دفاتر کو بند کرکے اس میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ علاقے کے لوگوں میں پائی جانے والی تشویش کا خاتمہ اور حکومتی عملداری بحال ہوسکے، کیونکہ موجودہ حالات میں شریف آور سفید پوش لوگوں کا جنوبی وزیرستان میں رہنا مشکل بن کر ایک بار پھر علاقے سے عوام کی نکل مکانی شروع ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -