سرکاری نیورسٹیوں کیلئے مجوزہ بل جامعات کی خود مختاری کے منافی:ماہرین تعلیم

سرکاری نیورسٹیوں کیلئے مجوزہ بل جامعات کی خود مختاری کے منافی:ماہرین تعلیم

  

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز سمیت سینئر ماہرین تدریس نے سرکاری شعبے کی یونیورسٹیوں سے متعلق مجوزہ ترمیمی بل کو یونیورسٹیوں کی خود مختاری کے منافی قرار دیتے ہوئے اس واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بل کا مسودہ اہم متعلقہ افراد کی مشاورت کے بغیر تیار کیا گیا اور اس نوعیت کے اقدام کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس امر کا اظہار انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی)کے زیر اہتمام ’پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی خود مختاری‘ کے زیر عنوان آن لائن مکالمے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایچ ای سی کی کوالٹی اشورنس ایجنسی کی مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نادیہ طاہر نے مجوزہ بل کے حوالے سے وائس چانسلرز کی طرف اے اختیار کیے جانے والے موقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے زور دیا کہ ہم اس موقع سے معیاری تعلیم کے لیے اصلاحات پیش کرنے کے لیے بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات میں وائس چانسلرز کو درکار خود مختاری کا تعین بھی کر سکتے ہیں جسے بین الاقوامی معیار اور رائج اطوار سے ہم آہنگ ہونا چاہئے۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر فتح مری نے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قانون سازی سے قبل معاملے پر وسیع گفتگو کا عمل شروع کیا جاتا ہے اور اس بحث کو عوامی دائرے میں لایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں سے متعلق قانون میں ماضی میں بھی چند ترامیم دیکھیں گئیں مگر قانون کے بنیادی ڈھانچے کو اس سے قبل کبھی نہیں چھیڑا گیا۔ معیاری اعلیٰ تعلیم کے لیے یونیورسٹیوں کی خود مختاری ناگزیر ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے قبل ازیں موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مسودہء قانون کو عملی شکن ملنے کے اعلیٰ تعلیم پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی اور تھنک ٹینکس اس معاملے کو ہر سطح پر اجا گر کرنے میں ماہرین تدریس کا بھر پور ساتھ دیں گے۔ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے وایس چانسلر ڈاکٹر سید محمد علی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حالیہ قانون میں ترمیم کا مقصد بہتری لانا ہونا چاہئے لیکن مجوزہ ترمیمی بل پر عمدرآمد ہونے کی صورت میں یونیوسٹیاں کسی طور بھی چلنے کے قابل نہیں رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ وائس چانسلرز کو عزت دئے بغیر یونیورسٹیوں سے بہتر نتائج کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوجز(نمل) کے ڈین ڈاکٹر شاہد صدیقی کا کہنا تھا کہ مجوزہ بل معاشرے میں طاقت کے حصول کے لیے اندھی دوڑ کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں اب اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو بھی گھسیٹ لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے خلاف مزاحمت بہر حال ایک حوصلہ افزا پہلو ہے۔ کنیئرڈ کالج یونیورسٹی، لاہور کی پرنسپل ڈاکٹر رخسانہ ڈیوڈکا کہنا تھا کہ ہم اپنی یونیورسٹیوں کا تقابل غیر ملکی یونیورسٹیوں سے کرتے ہیں مگر ایسا کرتے وقت یہ سیکھنے کی کوشش بھی کرنی چاہئے کہ وہ کس ماحول میں کام کرتی ہیں۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار اے خان نے کہا کہ بہتر نتائج دینے کے لیے وائس چانسلرز کا با اختیار ہونا ضروری ہے۔ یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے وائس چانسلر ڈاکٹر نصیر پاشا نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے بارے میں کسی بھی اقدام سے قبل وائس چانسلرز کے ساتھ مشاورت ہونی چاہئے۔ ویمن یونیورسٹی ملتان کی وائس چانسلر ڈاکٹر عظمی قریشی نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں سے خود مختیار چھیننے کی بجائے انہیں مزید خود مختاری دینے کی ضرورت ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب نے مجوزہ بل کو ملک میں اداروں کے انحطاط کی ایک کڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دی جاتی کیونکہ وہ معاشرے کے ایک بڑے مقصد کی تکمل میں مصروف عمل ہوتے ہیں۔

ماہرین تعلیم

مزید :

صفحہ آخر -