اپوزیشن کا احتجاج کسی کام نہ آیا،سندھ اسمبلی میں بجٹ اکثریت سے منظور

اپوزیشن کا احتجاج کسی کام نہ آیا،سندھ اسمبلی میں بجٹ اکثریت سے منظور

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ حکومت نے اسمبلی میں آدھے گھنٹے میں نئے مالی سال کا بجٹ منظورکرالیا۔ اپوزیشن کٹوتی کی تحاریک پیش کرنے کے باوجود بحث نہ کر سکی اور شور شرابہ کرتی رہ گئی۔تفصیلات کے مطابق دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہونے والے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی حکومت نے محض آدھے گھنٹے میں ہی نئے مالی سال کا بجٹ اکثریت رائے سے منظور کروالیا۔وزیر اعلیٰ سندھ نے ایوان میں 77 کروڑ 93 لاکھ 84 ہزار کے اضافی اخراجات کے گوشواروں کی منظوری لی۔ اس دوران اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے بات کرنے کی کوشش کی تو وزیر اعلیٰ نے انہیں بتایا کہ انہیں طریقہ کار کے مطابق کٹوتی کی تحاریک پیش کرنا تھیں۔اپوزیشن اراکین نے ایوان میں شور شرابہ کرنا شروع کردیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے تقریرجاری رکھی اور بتایا کہ کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے 72 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ فیصلے پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ بجٹ صوبائی حکومت بناتی ہے اور اسمبلی اس کی منظوری دیتی ہے کوئی ادارہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کرسکتا لیکن حکومت سندھ عدلیہ کو اپنا جواب دے گی۔اپوزیشن کے احتجاج کے دوران ہی سندھ اسمبلی نے نئے مالی سال 21-2020کے لیے 12کھرب 41ارب روپے سے زائد کا بجٹ کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ ایوان نے 30ارب 16کروڑ روپے کے ضمنی بجٹ کی بھی منظوری دے دی۔ جس کے بعد اجلاس پیر تک ملتوی کردیا گیا۔

بجٹ منظور

مزید :

صفحہ آخر -