عوام کو حقائق بتائیں،عمران خان کی وزرا ترجمانوں کو ہدایت،پاکستان میں اب بھی پٹرولیم مصنوعات عالمی مارکیٹ سے سستی ہیں:حکومت،عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا گیا،وزیر اعظم استعفا دیں:اپوزیشن

عوام کو حقائق بتائیں،عمران خان کی وزرا ترجمانوں کو ہدایت،پاکستان میں اب بھی ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد شدید ردعمل دیکھتے ہوئے حکومتی ترجمانوں کو حقائق عوام کے سامنے رکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم کا معاشی اور توانائی ٹیم سے رابطہ ہوا، وزیراعظم نے ہدایت کی کہ عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے حقائق سے آگاہ کیا جائے، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق بتایا جائے۔ وزراء کوبھارت اور خطے کے دوسرے ممالک سے تقابلی جائزہ رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت جاری کی گئی

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ کے حساب سے پاکستان میں پٹرول اب بھی سستا ہے، عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 112 فیصد اضافہ ہوا، بنگلا دیش، بھارت اور دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں پیٹرول آج بھی سستا ہے،جنوری میں پٹرول کی قیمت 116 روپے تھی، پٹرول کی قیمت جنوری کے مقابلے میں اب بھی 16 روپے فی لیٹر کم ہے، حکومت نے بجلی کے ترسیلی نظام کو ترقی دی، اس وقت ترسیلی نظام کی صلاحیت 26 ہزار میگاواٹ سے زائد ہے۔وہ ہفتہ کو قومی اسمبلی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق پالیسی بیان دے رہے تھے۔ وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ہمارے اپنے وسائل نہیں ہیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی کے مطابق طے ہوتی ہیں، عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت میں 112 فیصد اضافہ ہوا، عالمی مارکیٹ کے حساب سے تیل کی قیمتوں میں کم اضافہ کیا، مجموعی طور پر ابھی تک بین الاقوامی سطح پر تیل کی 48 فیصد قیمتیں بڑھیں، حالیہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود برصغیر اور جنوبی ایشیا میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پاکستان میں کم ہیں،یکم جنوری کو پیٹرول 116 روپے سات پیسے تھا اور پٹرولیم مصنوعات میں کمی کی تھی،جنوری کے مقابلے میں اس وقت بھی 17 روپے فی لیٹر کم اور ڈیزل 26 روپے فی لٹر کم ہے،پاکستان میں 100 روپے لیٹر، بنگلہ دیش، چین میں 138 روپے لیٹریا اس سے زائد ہے جبکہ جاپان، فلپائن جیسے ممالک میں بھی زیادہ ہے،انہوں نے کہا کہ جیسے ہی بین الاقوامی منڈی میں قیمتیں کم ہوئیں ہم نے کم کردیں،ہم نے پٹرولیم مصنوعات پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا،ہماری حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے اتار چڑھاؤ کے ساتھ چلا جائے گا،گزشتہ ادوار میں اپنی ساکھ بنانے کیلئے 24 ارب روپے جھونک کر پٹرول قیمت کم کی گئی۔انہوں نے کہا کہ2014 میں مسلم لیگ (ن)کی حکومت تھی،اس وقت پیٹرول کی قیمت 31 فیصد ایک ماہ میں بڑھی تھی،پیٹرول پر تاریخی ٹیکس لگے ہوئے تھے،یہ مافیا کی بات کرتے ہیں،مافیا کا تحفظ ان لوگوں نے کیا،آج عمران خان کہتے ہیں کہ تحقیقات کریں اور لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچاؤ۔وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کو قرار دیا ہے۔ٹوئٹر پر جاری بیان میں عمر ایوب نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ مجبوری ہے، گزشتہ ماہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بھی 3 روپے کمی ہوئی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ان وجوہات پر پیٹرول کی قیمت میں 31 روپے 58 پیسے اور ڈیزل قیمت میں 24 روپے 31 پیسے اضافہ بنتا تھا لیکن حکومت نے پیٹرول قیمت میں 25 روپے 58 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 21 روپے 31 پیسے اضافہ کیاوزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں کم ازکم ڈیڑھ ہزار غیر قانونی پٹرول پمپس ہیں، جن کا کسی آئل مارکیٹنگ کمپنی سے معاہدہ نہیں ہے، ان پربھی کریک ڈاؤن بہت ضروری ہے،تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے رجسٹرڈ پٹرول پمپس کی فہرست مانگی تھی،غیر رجسٹرڈ پٹرول پمپس کو سیل کر دیا جائے گا جبکہ وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں پچھلے 46 دنوں میں پٹرول کی قیمتیں 112 فیصد زیادہ ہوئی ہیں، ایشیا میں پاکستان کی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں سب سے کم ہیں،ہمارا مقابلہ مافیاز اور ذخیرہ اندوزوں سے ہے، ان کو بھی ہم بے نقاب کریں گے،ن لیگ نے مافیاز کو تحفظ دیا،ہم تحقیقات کریں گے اور مافیاز کو روکیں گے۔ ہفتہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حقائق پیش کریں گے،یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ نہیں ہے، ن لیگ کے دور میں پٹرول میں قیمت 75 سے 108 روپے پر گئی،ن لیگ دور میں بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں ذیادہ نہیں تھی،عمر ایوب خان نے کہا کہ بین الاقوامی منڈی میں پچھلے 46 دنوں میں پٹرول کی قیمتیں 112 فیصد زیادہ ہوئی ہیں اور پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں تقریبا 25 فیصد کے قریب بڑھی ہیں، ایشیا میں پاکستان کی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں سب سے کم ہیں،ہمارا مقابلہ مافیاز اور ذخیرہ اندوزوں سے ہے، ان کو بھی ہم بے نقاب کریں گے، عمر ایوب خان نے کہا کہ اوگرا صرف حساب کتاب کرتا ہے،فیصلہ ہمیشہ وزارت خزانہ کرتی ہے، وزیر توانائی نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دور میں بھی تحقیقات ہوئیں،ن لیگ نے مافیاز کو تحفظ دیا،ہم تحقیقات کریں گے اور مافیاز کو روکیں گے،عمر ایوب خان نے کہا کہ کے الیکٹرک کو اپنا سسٹم اپ گریڈ کرنا چاہیئے، کراچی کے عوام کیلئے حکومت کے الیکٹرک کو ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہاکہ بھارت میں پٹرول کی قیمت 180روپے ہے، چین میں 137 روپے ہے، ندیم بابر نے کہا کہ ملک میں تقریبا 9 ہزار لیگل رجسٹرڈ پٹرول پمپس ہیں اس کے علاوہ کم از کم ڈیڑھ ہزار یا اس سے بھی زیادہ غیر قانونی پمپس ہیں جن کا کسی او ایم سی (آئل مارکیٹنگ کمپنی)سے معاہدہ نہیں ہے، ان پربھی کریک ڈاؤن بہت ضروری ہے، ندیم بابر نے کہا کہ اوگرا کے رولز میں ترمیم کرکے انکے اختیارات بڑھا سکتے ہیں،جرمانے بہت کم ہیں ان کو بڑھانا ہوگا،ندیم بابر نے کہا کہ میرے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں،بطور مشیر میں صرف مشورہ دے سکتا ہوں،ندیم بابر نے کہا کہ تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے رجسٹرڈ پٹرول پمپس کی فہرست مانگی تھی،غیر رجسٹرڈ پٹرول پمپس کو سیل کر دیا جائے گا۔وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہنا تھا کہ ابھی ن لیگ کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس سنی، بڑی ہمت والے لوگ ہیں، کرپشن، پانامہ، منی لانڈرنگ، جعلی میڈیکل رپورٹس، لاہور میں بیمار اور لندن کی واکس کا دفاع کر لیتے ہیں، ہم سے تو 25 روپے تک ڈیفنڈ نہیں ہو رہے۔۔دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو سیاسی رنگ دینا افسوسناک ہے۔پٹرول کی قیمت عالمی منڈی کیمطابق طے ہوتی ہے؛جب دنیا میں قیمت کم ہوئی وزیراعظم نے فوری ریلیف دینے کیلئے قیمتیں کم کرنے کاحکم دیااور اب دنیابھرمیں اضافے کے اثرات سامنے آرہے ہیں؛پاکستان میں قیمت اب بھی خطے میں سب سے کم ہیڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی کے مطابق طے کی جاتی ہیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اب بھی خطے میں سب سے کم ہیں، پٹرول کی قیمت بھارت میں 180روہے، جاپان 196،بنگلہ دیش 174 اور چین میں 138روہے ہے۔تحریک انصاف کے رہنما و رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا موجودہ وقت درست نہیں تھا۔ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر گفتگو نہیں ہوئی تھی اگر کابینہ میں قیمتیں بڑھانے پر گفتگو کر لی جاتی تو اچھی بات ہوتی۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا موجودہ وقت درست نہیں تھا، بجٹ اجلاس ابھی جاری ہے پاس نہیں ہوا اس لیے تھوڑا انتظار کر لیا جاتا۔ علی محمد خان نے کہا کہ قیمتیں اچانک کیوں بڑھائی گئیں اس بارے میں علم نہیں، عالمی سطح پر قیمتیں بڑھ رہی ہیں شاید اس لیے یہاں بھی بڑھائی گئیں۔

وزرا

اسلام آباد،لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان نے خواجہ آصف اور احسن اقبال کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے کہا، مہنگائی کا طوفان سونامی کی صورت اختیار کرچکا۔ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگائے ہیں۔ہم نے 31 مئی 2018 کو جب حکومت چھوڑی پاکستان پٹرول 72.11 روپے میں خریدتا تھا جو ٹیکس ڈال کر 87.70 روپے میں فروخت ہوتا تھا، آج جو پٹرول کی قیمت رکھی گئی اس کی قیمت 55 روپے ہے جبکہ 44 روپے سے زائد ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔ 55 سے 56 روپے پٹرول کی قیمت پر ٹیکس لگا کر اسے 67 کے قریب فروخت ہونا چاہیے۔ انہوں کہا جہاں معیشت تباہ ہے وہاں پٹرول کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ باعث افسوس ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ایوان میں کہتے کہ میرے پاس آپ پر اضافی بوجھ پٹرول کی مد میں ڈالنے کے سوا کوئی حل نہیں، حکومت ٹیکس اکٹھا کرنے، انڈسٹری بڑھانے اور سرمایہ کاری میں ناکام ہوچکی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے حکومت کی ناکامیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک طرف اسمبلی بجٹ پر بحث کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف پٹرول پر 34 فیصد اضافے سے عوام پر بوجھ ڈال دیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان نے 2013 اور 2018 میں پٹرول پر ٹویٹ کیا، آج پٹرول کی قیمتیں بڑھیں، بجلی کی قیمتیں بھی بڑھیں گی۔ عمران خان نے پٹرول کی قیمتوں سے متعلق تنقید کی تھی، اگر جرات ہے تو عمران خان استعفیٰ دیں، پی ٹی آئی اپنا نیا لیڈر چن لے۔ سارا پاکستان عمران خان کی انا کی زد میں ہے۔ مہنگائی کا طوفان یہاں نہیں رکے گا، اپوزیشن کی تمام پارٹیوں سے مل کر مشترکہ لائحہ طے کریں گے۔احسن اقبال نے کہا حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگائے، حکومت نے چور دروازے سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا، پٹرول کی قیمت میں اچانک اضافے سے ملک کی معیشت متاثر ہوگی۔ حکومت جب سے آئی مافیاز کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ شاید حکومت نے الیکشن مہم میں مافیاز سے پیسے لیے تھے۔ پٹرولیم مصنوعات میں 25 روپے اضافہ معیشت کیلئے کمر توڑ وار ہے۔جمعیت علماء اسلام کے سر براہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پٹرولیم کی قیمتوں میں 25روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا جس سے مہنگائی کا طوفان آئے گا۔ پارٹی رہنماء وں مولانا محمد امجد خان،حافظ حسین احمد،محمد اسلم غوری،حاجی شمس الرحمن شمسی،مفتی ابرار احمد سے گفتگو کر تے ہوئے مولا نا فضل الرحمن نے کہاکہ چند دن قبل پٹرول کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کے ساتھ مذاق کیا گیا۔مافیا کو لگام ڈالنے کے دعوے کرنے والے خود مافیا بن گے ہیں۔ کرونا وائرس اورلاک ڈاون سے پریشان قوم کی پریشانیوں میں مزید بے پناہ اضافہ کر دیا گیا ہے جسے عوام برداشت نہیں کرے گی۔ جے یو آئی عوام دشمن اقدام کو مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ چینی مافیاکے بعد پٹرولیم مافیا کو غریب عوام کو لوٹنے کا لائسنس دے دیا گیا ہے۔پی ٹی آئی کے نام نہاد حکومت قوم کے ساتھ گناؤناکھیل کھیلا ہے۔ نام نہاد کی حکومت کو عوام پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ظلم کی حکومت مزید نہیں چل سکتی۔ قومہی اسمبلی میں بھی اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے راتوں رات قیمت بڑھا کر غریب کی جیب پر ڈاکہ ڈالا،جو مافیا کی جیب میں جائیں گے،ڈکیتی پہ ڈکیتی ہورہی ہے،گندم تیل ادویات سب پر ڈاکے ڈالے گئے کہاں تھے خفیہ ادارے؟آٹا مافیا گندم مافیا اور چینی مافیا نے اربوں روپے کے ڈاکے مارے، ایف آئی اے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں ہیں؟انشاء اللہ امید ہے بی آر ٹی قیامت تک مکمل ہو جائے گی،بی آرٹی کی انکوائری بھی ایف آئی اے کرے،پی آئی اے رپورٹ نے دنیا بھر میں بدنامی کروا دی،اپنی نالائقی چھپانے کے لیے ملبہ پائلٹس پر ڈال دیا گیا،چینی کی رپورٹ پر من وعن عمل کیا جائے۔ ہفتہ کو وزارت داخلہ کی کٹوتی کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی رانا ثناء اللہ نے کہاکہ وزارت داخلہ کے ماتحت کئی ادارے ہیں،ان اداروں میں ایف آئی اے اور آئی بی بھی شامل ہیں،ہم نے اپنے آخری بجٹ میں ان کیلئے ایک سو نو ارب رکھے گئے،گذشتہ بجٹ میں ایک سو انتالیس ارب روپے رکھے گئے،اس بجٹ میں ایک سو ستاون ارب رکھے گئے،جب آپ نے کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا تو اس وزارت کے بجٹ میں اضافہ کیوں؟،تنخواہیں اور پنشن میں آپ نے کوئی اضافہ نہیں کیا، پھر بھی بجٹ میں تیرہ فیصد اضافہ کیوں،یہ کھانچے ہوتے ہیں، کیونکہ یہ دیگر اخراجات کیلئے رکھے گئے ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے کہاکہ آپ کی بنیاد جھوٹ، پروپیگنڈا پر ہے،حکومت کا روز کام صرف پروپیگنڈا کرنے پر ہے۔ انہوں نے کہاکہ رات سے پورملک بلبلا رہاہے،لوگ کہ رہے ہیں کہ تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی ہوئی ہے،حکومت نے پیٹرول مافیا کے ساتھ ملکر عام آدمی کی جیب سے ڈکیتی کی ہے،حکومت نے پیٹرول سستا کیا لوگ رل گئے پیٹرول تلاش کرتے کرتے،پیٹرول مافیا نے حکومت کو بلیک میل کیا،حکومت نے راتوں رات قیمت بڑھا کر غریب کی جیب پر ڈاکہ ڈالا جو مافیا کی جیب میں جائیں گے،سونامی براستہ بد ترین ناکامی اور بد نامی کی جانب گامزن ہے۔راناثناء اللہ نے کہاکہ چیئرمین نیب نے جب پریس کانفرنس کی تو اس کی ویڈیو سامنے آ گئی،نیب کے چیئرمین کی ویڈیو کس نے بنائی آپ نے،نیب کی ویڈیو کس نے چلوائی آپ نے،اس کے شوہر کو کس نے رہا کرایا آپ نے۔ ا۔ پیپلز پارٹی کے عبد القادر پٹیل نے کہاکہ سات ارب روپے کا پیٹرول پر ٹیکا لگا،ایف آئی اے کا کام ہے کہ معلوم کریں کہ کون لوگ تھے جنھوں نے سستا پیٹرول اکھٹا کیااور اب مہنگا پیٹرول بیچ رہے ہیں،ایف آئی اے کو معلوم کرانا چاہیے کہ مافیا کے پیچھے کون ہے، ان کے حصہ دار کون ہیں،سہیل ایاز ایف آئی اے کے حوالے ہوا تھا، اس نے تیس بچوں کا ریپ کیا،سہیل ایاز کی تحقیقات آج تک ایف آئی اے نے نہیں کی،انشاء اللہ امید ہے بی آر ٹی قیامت تک مکمل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ایک وزیر ایک کروڑ کے پکوڑے کھا گئے تھے، بل ابھی بھی کراچی پورٹ ٹرسٹ میں پڑا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ رات عوام پر مہنگائی کا بم گرایا گیا،تاریخ میں اس سے پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کبھی اس قدر اضافہ نہیں ہوا،۔ مسلم لیگ (ن) کے خرم دستگیر خان بھی حکومت پر برس پڑے اور کہاکہ یہ حکومت از مافیا ہے،منجانب مافیا ہے،برائے مافیا ہے،گزشتہ رات مافیا جیت گیا،4 روز آپ سے برداشت نہیں ہوا،اس سے لگتا ہے کہ ریونیو ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی آئی اے رپورٹ نے دنیا بھر میں بدنامی کروا دی،اپنی نالائقی چھپانے کے لیے ملبہ پائلٹس پر ڈال دیا گیا،آج پوری دنیا میں بڑی ائیرلائنز ہمارے پائلٹس کو نکال رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ چینی کی رپورٹ پر من وعن عمل کیا جائے،چینی کی قیمت بڑھنے کا کھرا وزیراعظم اور کابینہ تک جاتا ہے،ڈھونڈنا تھا کہ دسمبر 2018 سے ابتک چینی کی قیمت 55 سے 90 روپے کیسے ہوئی،رپورٹ کے مطابق چینی کی قیمت عمران خان کی چینی برآمد کرنے کے فیصلے سے بڑھی۔نوابزادہ افتخار نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ایک سال میں کئی بار پنجاب میں آئی جی بدلے گئے،حکومت کی کارکردگی صرف اجلاس کی حد تک ہے،اپوزیشن ارکان جھوٹے مقدمات بھگت رہے ہیں،آج کرپشن کی ریٹنگ میں پاکستان 2 پوائنٹ اوپر گیا ہے،کرپشن کا ریٹ اب 10 ہزار سے 30 ہزار تک پہنچ گیا ہے

اپوزیشن

مزید :

صفحہ اول -