وزارت صنعت و پیداوار کیلئے 18ارب 41کروڑ کے 5مطالبات زر کی منظور

وزارت صنعت و پیداوار کیلئے 18ارب 41کروڑ کے 5مطالبات زر کی منظور

  

اسلام آباد (این این آئی)اپوزیشن کی مخالفت کے باوجودقومی اسمبلی نے وزارت صنعت و پیداوار کے لئے 18 ارب 41 کروڑ 54 لاکھ 60 ہزار روپے مالیت کے 5 مطالبات زر کی منظوری دے دی ،پاکستان میں افغانستان کے زریعے انڈیا مصنوعات کی سمگلنگ ہورہی ہے جس سے ہماری پراڈکٹ متاثر ہورہی ہے،جب ملٹی نیشنل کمپنیوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے تو سمال انڈسٹریز تو ویسے ہی تباہ حالی کو پہنچ جائیں گی۔ ہفتہ کو قومی اسمبلی میں وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے اس ضمن میں تحاریک ایوان میں پیش کیں۔ اپوزیشن کی طرف سے کٹوتی کی تحاریک کی وزیر صنعت و پیداوار نے مخالفت کی۔ کٹوتی کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رانا ارادت شریف نے کہاکہ پاکستان میں افغانستان کے زریعے انڈیا مصنوعات کی سمگلنگ ہورہی ہے،سمگلنگ سے ہماری پراڈکٹ متاثر ہورہی ہے،پولٹری سیکٹر کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حلال فوڈ کے زریعے کروڑوں ڈالر کما سکتے ہیں،سمال بزنس کو فروغ دینے کی ضروت ہے۔،ایز آف ڈوئنگ بزنس کیلئے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،نیب بھی بزنس مین کو ہراساں کرتا ہے جس سے سرمایہ کار سرمایہ لگانے سے ڈرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کہا جا رہا ہے کہ اب پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں بنیں گی،پہلے بھی جو گاڑیاں پاکستان میں اسمبل ہوتی ہیں ان میں سفٹی کا سسٹم بالکل نہیں ہے،پاکستان کے کاروباری لوگ ملک سے باہر جا کر کاروبار کر رہے ہیں۔ رکن اسمبلی ذو الفقار بچانی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ پاکستانی کی انڈسیریز آہستہ آہستہ بیٹھتی جارہی ہے،ہمارے ہاں سے انڈسٹریز بنگلہ دیش منتقل ہورہے ہیں،کوشش کرے کہ ان انڈسٹریز کو واپس لانے کے اقدامات کئے جائے۔۔رومینہ خورشید عالم نے کہاکہ،ایک طرف کہا جارہا ہے کہ ٹیکس نہیں لگائے گیے جبکہ 50 فیصد انڈسٹری پر ٹیکس عائد کردیے گیے ہیں،صنعت و پیداوار کے تحفظ کے لئے سمگلنگ کو روکنا ہوگا کیونکہ اسی وجہ پاکستانی سرمایہ کار باہر جارہا ہے،حکومت کاٹیج انڈسٹریز میں بھی ناکام ہوچکی ہے، زراعت کے شعبے کی صورتحال بہتر نہیں،ڈیری فارمنگ کے حوالے سے بھی دنیا سے پاکستان انتہائی پیچھے ہے،جب ملٹی نیشنل کمپنیوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے تو سمال انڈسٹریز تو ویسے ہی تباہ حالی کو پہنچ جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ ٹڈی دل پر ہم کب سے چیخ رہے ہیں مگر حکومت نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا جس کا اثر کاٹن پر بھی پڑ رہا ہے،ہم زرعی ملک ہیں ہمیں آسٹریلیا سے سیکھنا چاہیئے جہاں ہر چار ماہ بعد ایک نیا تجربہ کیا جاتا ہے،تمام ارکان سے استدعا ہے وہ غریب عوام کی طرف دیکھیں جن سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رمیش لال نے کہاکہ صنعت کا شعبہ معیشت کو چلانے کے لیے اہم ہے،ملک کی معیشت تو پہلے ہی تباہ تباہ ہو چکی ہے۔ بحث سمیٹتے ہوئے وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہاکہ آٹو موبیل سے متعلق پالیسی 2016 میں بنی اور اب 2021 میں دبارہ بنے گی،کابینہ نے 29 سیفٹی اسٹینڈرڈ پاس کیے۔ انہوں نے کہاکہ کرونا سے قبل برآمدات میں 14 فیصد اضافہ ہو رہا تھا،کرونا کی وجہ سے اس پر فرق پڑا،سمال انڈسٹری کیلئے پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے،مسلم لیگ (ن)کے دور میں پاکستان گرے لسٹ میں گیا،کرونا کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف کی کارروائی 6 اکتوبر تک بند ہے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ کابینہ نے حال ہی میں بین الاقوامی معیار کے سیفٹی فیچرز متعارف کرانے کی منظوری دی ہے۔ بعدازاں ایوان نے وزارت صنعت و پیداوار کے لئے 18 ارب 41 کروڑ 54 لاکھ 60 ہزار روپے مالیت کے 5 مطالبات زر کی منظوری دیدی۔قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کی تنقید پر وزیر مملکت علی خان نے سابق اور موجودہ حکومت کا موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے کے لیے مختص اخراجات میں ایک سال میں 29 فیصد بچت کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ ملازمین کی تعداد میں کمی کی گئی، گاڑیاں واپس کی گئیں،خرچہ ایک ارب روپے سے کم ہو کر 67 کروڑ روپے پر آگیا، کوئی کیمپ آفس نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ رائیونڈ کے محل میں ملازمین کی تعداد کیا تھی آج دیکھ لیں کہ کیا ہے؟،بنی گالا گھر کے باہر کی سڑک بھی وزیراعظم نے اپنے پیسوں سے بنوائی،غیر ملکی دوروں کے اخراجات میں بھی بہت کمی کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی میں شرکت پر اخراجات کا موازنہ کرے،آصف زرداری نے تیرہ لاکھ ڈالر کا خرچہ کیا جبکہ نواز شریف نے گیارہ لاکھ ڈالرکا خرچہ کیا،عمران خان نے اقوام متحدہ اسمبلی میں شرکت پرتقریبا ڈیڑھ لاکھ ڈالر خرچہ کیا،پاکستان کا ایک وزیر خزانہ اب بھی مفرور ہے، اگر میاں نواز شریف کی صحت بہتر ہے تو وہ پاکستان کیوں نہیں آتے؟

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -