عائشہ منور کے شوہر……

عائشہ منور کے شوہر……

  

یہ غم اپنی جگہ کہ تہذیبوں کے تصادم میں ہماری تہذیب کی زندہ علامت ایک جی دار فرد ہم میں نہیں رہا مگر…… ہمارا دکھ اس سے سوا ہے۔عائشہ باجی کی بیوگی کا دکھ۔ایک بہن بہنوئی کی رحلت پر اپنی بہن کا چہرہ دیکھ دیکھ کر آنسو کبھی پونچھتی ہے کبھی حلق میں انڈیل لیتی ہے۔ایسا نادرونایاب جوڑا…… دنیا کی انوکھی مثال۔ بے حد محبت کرنے والے…… مگر…… زندگی کا بہترین دور جدائی میں گزار دیا۔ ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا منور صاحب کو لاھور میں ہی پایا۔ دارالضیافہ میں مقیم۔ عائشہ باجی نے اپنے بن شوہر کے گھر کو حلقہ خواتین کا مرکز بنا ڈالا۔ سارا دن گھر کے باہر گاڑیوں کی قطاریں۔ بیرون ملک کی مندوبین ہوں یا طالبات کی نمائندگان ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ہو یا ملازمت پیشہ خواتین تعلمیی ادروں کے مسائل ہوں یا سماجی، تنظیمی الجھنیں اجتماع عام کی منصوبہ بندی ہو یا حلقہ کے دعوتی مسائل وہ پہلی منزل کا بڑا کمرہ ایک تاریخی داستان رکھتا ہے۔دروازہ کھلتے ہی پہلا واسطہ بلیوں سے پڑتا۔درجن بھر بلیاں جو عائشہ باجی اور فاطمہ کی یکساں لاڈلی تھیں۔ عائشہ باجی کے دور نظامت میں حلقہ خواتین نے اتنی وسعت اختیار کی (ہم سہلیاں آپس میں باتیں کرتے ہوئے کہتے) جتنی حضرت عمر فاروق ؓکے دور میں اسلامی ریاستوں کی حدود میں ترقی ہوئی تھی۔ عائشہ باجی سوچتے ذھن کا نام ہیں۔ جو زمانے کے لیے نہیں بنیں زمانہ انکے لیے بنا ہے۔ جنھوں نے زمانے بنائے۔ عائشہ باجی کی جدوجہد پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ تنظیمی سرگرمیوں کے ساتھ ممبر قومی پارلیمنٹ کی حیثیت سے انکی ان تھک کارکردگی۔ صنح اسلام آباد, رات لاھور,اگلے دن کراچی ھفتہ بھر صوبہ خیبر میں صبح ایک ضلع,کئی گھنٹہ کی مسافت۔ رات کو درسرا ضلع۔ اگلے دن فجر سے پھر سفر۔وہ ٹیکنالوجی کیمٹا فاصلوں کے حق میں نہ تھیں۔ افراد کے درمیان رکھنا، انھیں متحرک رکھنا، انھیں سکھانا اپنا فرض منصبی سمجھتیں۔ سب کو اپنے جلو میں لے کر چلنے والی۔ وہ پارس جس پتھر کو چھو لیتا اسے قیمتی بنا دیتا، عائشہ باجی اپنے شوہر کی عاشق۔ دور رہ کر بھی دونوں دن بھر ایک دوسرے کی خبر گیری رکھتے۔ شوری کے اجلاس میں پچھلے برس میں عائشہ باجی کے کمرے میں تھی۔ منور صاحب نے فون پر غالبا تیزابیت کی شکایت کی۔ ان کی پریشانی دیدنی۔دن بھر ان کی خیریت دریافت کرتی اور ھدایات دیتی رہیں۔کچن کے عملہ کو الگ ھدایات دیں۔ وہ دن میں کئی بار اکلوتی بیٹی فاطمہ سے رابطہ کرتیں۔ فاطمہ کو اس کے بھائی طلحہ کے بارے میں ہدایات دیتیں۔ ایک عورت کتنے رشتوں میں گندھی۔

حاضر کہیں اور موجود کہیں۔ وہ تقریبا ایک عشرہ حلقہ خواتین کی قیمہ (صدر) رہی ہیں۔ تب بچے چھوٹے تھے۔گھر کے ساتھ پورے ملک کے تنظیمی دورے کئے، ھفتہ گھر نہ آ پاتیں بچے ننھیال کے محفوظ اور شفیق حصار میں پوتے۔ زندگی تو ہم سب ہی جی رہے ہیں۔ زندگی میں مقصد کے لیے کیا کیا قربان کرنا پڑتا ہے یہ ہم نے عائشہ باجی سے سیکھاسراپا تحریک …… عائشہ باجی آج تو ہمیشہ کی جدائی ھے مگر آپ نے تو زندگی کا بہترین حصہ اپنی انفرادی خوشیوں کو اجتماعیت پر قربان کیا۔ یہ جدائی تو بے اختیار ہے آپ نے تو کئی عشرے اختیاری جدائی برداشت کی۔ایک بار ائیر پورٹ پر ان کی ملاقات ہوئی منور صاحب سے۔

وہ دوسری فلائیٹ سے لاھور سے آئے تھے۔ میں نے کہا عائشہ باجی کتنے عرصے بعد منور صاحب گھر جائیں گے۔ بولیں یہ حساب کتاب تو چھوڑ ہی دیا ہے میں نے۔ میں نے کہا کبھی لگتا ہے کہ بس بہت ہوگیا اب آرام کرنا چاہئے۔ بولیں کوئی تو قربانی دیتا ہی ہے,کتنوں نے قربانیاں دی ہیں اس شجر کی آبیاری میں۔ آرام……وہ تو قبر میں ملے گا اگر نصیب میں ہوا۔ مولا ہم گواہ ہیں اس جوڑے نے سب کچھ قربان کردیا تھا اس قبر کے آرام کے لئے منور صاحب کی قبر کی منزلیں آسان کیجئے گا مولا۔ ان کے قبر میں آنے سے پہلے جنت کی کھڑکیاں کھول دیجیے ان کے آخری مسکن میں۔ اپنے تھکے ہارے بندے کو کروٹ کروٹ سکون نصیب کیجئے گا پرودگار…… آمین ربنا آمین۔

مزید :

رائے -کالم -