پٹرولیم……ایک نیا بحران؟

پٹرولیم……ایک نیا بحران؟
پٹرولیم……ایک نیا بحران؟

  

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران اہم شخصیات کی یکے بعد دیگرے دُنیا سے عدم کی طرف روانگی نے اہل ِ پاکستان کو دُکھی کیا، ابھی حضرت مفتی محمد نعیم،علامہ طالب جوہری اور مغیث الدین شیخ جیسے حضرات کے غم میں مبتلا تھے کہ جماعت اسلامی کے سابق مرکزی امیر پروفیسر منور حسن کے انتقال پُرملال کی خبر بھی آ گئی۔یوں انہی اموات کے حوالے سے غور ہو رہا تھا کہ ایسے لوگ چلے جا رہے ہیں،لیکن زمانہ حال میں پیدا ہونے والا خلا پُر ہوتا نظر نہیں آ رہا،دُنیاوی نقطہ نظر سے بھی حالات کچھ بہتر نہیں ہیں،اس کا اندازہ یوں لگا لیں کہ اس کورونا وائرس کے بارے میں ہی ابھی تک کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکی۔ سوشل میڈیا پر تو اِدھر اُدھر سے گمراہی کا بہت سامان موجود اور آتا رہتا ہے،تاہم سرکاری اور ماہرانہ آراء میں بھی کئی تضادات ہیں، صرف ہاتھ دھونے اور منہ ڈھانپنے پر مکمل اتفاق پایا جاتاہے اور اب تو نقاب، معاف کیجئے گا، ماسک نہ پہننے پر جرمانے بھی ہو رہے ہیں،نقاب کا ذکر کیا تو آپ خود سوچ لیں کہ ”ماسک“ کا معتبر ترجمہ تو یہی ہے۔

بہرحال ہم مرحومین کے لئے بلند درجات اور مغفرت کی دُعا کرتے ہوئے حال،بلکہ معروضی حالت میں واپس لوٹ آتے ہیں،جنہوں نے حکومت ِ وقت کے ایک اور اہم ”بے وقت کارنامے“ کی وجہ سے نئی کروٹ لی اور تحریک انصاف کے دلی حامیوں کے لئے بھی عوامی اعتراض کا جواب دینے کی ہمت میں کمی ہو گئی ہے۔ حکومت ِ وقت نے دو ماہ کے دوران دو بار پٹرولیم مصنوعات میں کی گئی کمی ایک ہی وار میں نہ صرف واپس لے لی، بلکہ پہلی قیمت میں مزید اضافہ کر دیا، اب پٹرول 98روپے فی لیٹر(یہ کمی سے پہلے والی قیمت تھی) سے بھی دو روپے زیادہ ایک سو روپے فی لیٹر سے بڑھ گیا اور عوام چلا اُٹھے ہیں، علی الصبح ایک بہت ہی پرانی پنجابی کہاوت سنی۔وہ کچھ یوں ہے ”نانی خصم کیتا، بُرا کیتا، کر کے چھڈیا، ہور بُرا کیتا“ اس کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ کسی نے کہا نانی جان نے نکاح کر کے شوہر چن لیا ہے، جواب آیا یہ اچھا نہیں، بُرا کیا، پہلے والے نے پھر اطلاع دی کہ نانی نے نکاح کر کے شوہر ڈھونڈا بھی اور پھر چھوڑ دیا،جواب ملا اور بھی بُرا کیا،تو قارئین! صبح دم کچھ ایسی ہی صورت حال تھی اور اسی نوعیت کے تبصرے ہو رہے تھے، مطلب یہ کہ اس حکومت نے ایک ماہ قبل پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں جو کمی کی وہ عالمی مارکیٹ کے حوالے سے کم تھی، تاہم عوام مطمئن ہوئے تھے۔ پھر یکم جون کو جو قیمت کم کی گئی اس سے پٹرول75روپے فی لیٹر ہو گیا،لیکن یہ کمی عوام کے لئے خواری کا باعث بن گئی اور پورے ملک میں پٹرولیم کی اتنی شدید قلت ہوئی کہ لوگ موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں تک کو دھکا لگا لگا کر پٹرول پمپوں پر پہنچے اور پھر مایوس ہوئے۔پھر یہی پٹرول بلیک میں ایک سو اور اس سے بھی زیادہ قیمت پر لینا پڑا۔تمام تر حکومتی دعوؤں کے باوجود صورت حال بالکل بھی واضح نہ ہو سکی یا پھر بتائی نہ گئی اور نہ ہی ذمہ دار کو سامنے لایا گیا، حالانکہ واضح ہو گیا تھا کہ جب پٹرولیم کے نرخ صفر تک آ گئے اور دُنیا میں خریدار کوئی نہیں تھا،اس وقت پاکستان میں کسی ہستی نے درآمد بند کرا دی کہ ملک میں استعمال کم ہو گیا،جس کی وجہ کورونا وبا کا پھوٹنا تھا، تب یہ خیال نہ کیا گیا کہ ملک کے اندر پٹرولیم کا اتنا ذخیرہ ہونا تو ضروری ہے کہ جب لاک ڈاؤن میں نرمی ہو تو کسی نوعیت کی کمی سے پریشانی نہ ہو، ایسا نہ ہوا، اور جون میں کم کی جانے والی قیمت سے عوام کو فائدے کی بجائے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا،پورا مہینہ دھکے کھائے اور اب یہ ”مہربانی“ فرما دی گئی کہ قیمت پہلے سے بھی زیادہ کر دی۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کے لئے یکم جولائی کا بھی انتظار نہ کیا گیا اور چار روز قبل ہی یہ کارنامہ سرانجام دے لیا،ابھی تو وفاق اور صوبوں کے بجٹ بھی زیر بحث ہیں اور منظور نہیں ہوئے کہ یہ منی بجٹ پہلے ہی عوام پر لاد دیا گیا۔یکم جولائی سے گیس اور ستمبر سے بجلی کے نرخ بڑھانے کا فیصلہ بھی پہلے ہو چکا ہوا ہے۔یوں ایک کے بعد ایک بجٹ آتا چلا جائے گا۔

اب ذرا ہمارے ایک مالیاتی ماہر دوست کی قیمتی رائے سے مستفید ہوں تو آپ کے علم میں اضافہ ہو جائے گا کہ حکومت نے کیسے کیسے اعلیٰ دماغ ماہرین پال رکھے ہیں جو ریونیو کی کمی کے ایسے راستے نکاتے ہیں تو حضرات حکمرانوں نے پٹرول کی قیمت میں براہِ راست اضافہ نہیں کیا،بلکہ اس پر لیوی سرچارج زیادہ کر دیا ہے،جس کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات اتنی زیادہ مہنگی ہوئیں اور اب اس ”لیوی“ کی حکمت پر غور کر لیں تو وہ یہ ہے کہ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور ایسے دوسرے وفاقی ٹیکس وفاق کی مجموعی آمدنی شمار کی جاتی ہے۔اس میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کا بھی حصہ ہوتا ہے،لیکن ”لیوی“ خالصتاً وفاقی آمدن ہے۔اس کا تعلق این ایف سی ایوارڈ سے نہیں اور لیوی کی صورت میں جو رقم ملے گی وہ وفاق کی شمار ہو گی تو مہربانو! مزہ لے لو، گھر لے جاؤ، 18ویں ترمیم کو اتنا شور مچا رکھا تھا، ہمارے اس دوست کی اس وضاحت نے تو معاملہ اور بھی واضح کیا یا اُلجھا دیا،اس کا فیصلہ بھی اب ماہرین ہی کو کرنا ہو گا۔

اب بات مکمل کرنے سے قبل وزراء کی وضاحت کا بھی ذکر کر دیں،ان حضرات نے عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کا واویلا کیا ہے،اس سلسلے میں عرض ہے کہ عالمی مارکیٹ میں یقینا نرخ بڑھے جو8ڈالر فی بیرل سے چلتے چلتے39 ڈالر فی ڈالر تک آ گئے، یقینا نظر بظاہر، بلکہ بادی النظر(قانونی زبان) میں یہ چار گنا اضافہ ہے، لیکن یہ کیوں بھول گئے کہ جب پاکستان میں پٹرول 98روپے فی لیٹر تھا تو عالمی مارکیٹ میں یہ نرخ59 سے60 روپے فی ڈالر فی بیرل سے زیادہ نہ تھے اور ان میں کمی کے بعد ہی یہاں نرخ کم کئے گئے تھے۔ لہٰذا قارئین کرام! یہ وہ باتیں ہیں جو ماہر مالیات (ٹیکس امور وغیرہ) سے حاصل کی ہیں، جو ردعمل عوام میں ہوا اور جو لاہوری…… زبان استعمال کی گئی،اس کا ذکر ممکن نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -