آئیے سیدھا راستہ تلاش کریں

آئیے سیدھا راستہ تلاش کریں
آئیے سیدھا راستہ تلاش کریں

  

اسامہ بن لادن کو شہید کہنا چاہیے یا نہیں؟ وزیر اعظم کی تقریر کے اِس نازک پہلو پر میرا منہ کھولنا ویسے ہی ہے جیسے ولیم شیکسپئیر کے بقول شیطان بائیبل کا حوالہ دے رہا ہو۔ در اصل فقہی علم اور عمل کے لحاظ سے میری حالت ٹیکسلا میں اپنے قدیمی دوست شیخ جاوید جیسی ہے جو شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ مونچھوں کو تاؤ دے کر کہا کرتے تھے کہ تیس سال ہوگئے ہیں مسجد میں نہیں گیا ”پر ملک جی، جس وقت آکھنے نیں کہ اسلام خطرے میں ہے تے بہوں جوش آنا اے‘‘۔ شیخ صاحب کا یہ قصہ نوجوانی کا ہے جس کی کیفیت تبدیل ہوئے مدتیں گزر گئیں۔ میرا کیس اِس لئے مختلف ہے کہ وضو کرتے ہوئے ناک میں پانی ڈالنے سے لے کر ہاتھ باندھنے کے مرحلے تک مجھے ہمیشہ پروسیجر کی مار ہی پڑتی رہی۔ پر ہیز گار لوگوں نے اتنی غلطیاں نکالیں کہ ایک روز تنگ آکر ایک سینئر نمازی سے پوچھنا پڑ گیا کہ سر، دورانِ نماز آپ کا دھیان اللہ میاں پہ ہوتا ہے یا میری طرف۔ نماز کی طرح پرو سیجر کی کچھ پیچیدگیاں ہم نے روزہ داری کے ساتھ بھی جوڑ رکھی ہیں۔ چند ہی سال پہلے کی بات ہے کہ رمضان المبارک میں ایک ’ہتھ چھٹ‘ دینی گروپ کی بریفنگ سے فارغ ہوئے تو روزہ کھلنے میں کوئی پون گھنٹہ باقی تھا۔ اُن کے تعلقات عامہ کے خوش مزاج سربراہ نے صلاح دی کہ چلو، مال روڈ کے کسی ریستوراں میں چلیں، وہیں ہلکی پھلکی افطاری بھی ہو جائے گی۔ میز کے گرد بیٹھ کر ٹی وی کے اعلان کا انتطار ہو رہا تھا کہ تنظیم کے ایک سرگرم رکن نے عجیب حرکت کی۔ کہنے لگے ”بس جی، ٹائم ہو گیا ہے شروع کریں‘‘۔ پھر کسی کی طرف دیکھے بغیر وقت سے پہلے ہی منہ میں ایک کھجور ڈالی، پھر دوسری اور اس کے بعد تیسری۔ سبھی حیران و پریشان۔ مَیں نے تھپکی دیتے ہوئے کہا ”مولوی صاحب، انج ناں کرو، اسِیں وی نیکاں وچوں آں“۔ ارشاد ہوا ”آپ کے کہنے پہ چلوں یا حدیث پہ عمل کروں؟“

افتخار عارف کا آئیڈیا چوری کیا جائے تو اُس لمحے اسلامی ٹیم کے بارہویں کھلاڑی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اجتہادی اہمیت کے اِس مسئلے پہ کیا رائے دی جائے۔ البتہ ایک لحظہ کو حلال و حرام کی تمیز رکھنے والے مرحوم صحافی اعجاز رضوی ضرور یاد آئے۔ رضوی صاحب کے ساتھ دیال سنگھ مینشن والے شیزان، پریس کلب یا میرے گھر میں جب بھی افطاری کی، آپ نے اکثریت کے ساتھ ہی روزہ کھولا۔ ایک دن ڈرتے ڈرتے پوچھ لیا کہ شاہ جی، اپنے حساب سے کیا آپ کو تھوڑی دیر اور انتظار نہیں کرنا چاہیے؟ اعجاز رضوی مخصوص لہجہ میں بولے: ”حضرت صاحب، اصول یہ ہے کہ روزہ رکھا جائے۔ جب رکھ لیا تو دو منٹ پہلے کیا اور بعد کیا“۔ اب کوئی یہ اعتراض بھی کر سکتا ہے کہ تمہیں ’راسخ العقیدہ‘ مولوی کی حرکت تو بری لگی اور اپنے دوست کی ادا بھا گئی۔ ہاتھ جوڑ کر اعتراف کروں گا کہ ہاں، مجھے اپنے جیسے گنہگاروں کا دل رکھ لینے والے لوگ بھاتے ہیں اور اُن سے ڈرتا ہوں جن کا تقوی میری جان کا دشمن بن جائے۔

تقوے کا غرور رکھنے والوں کی ایک نمایاں خاصیت اُن کا بلند آہنگ ہونا ہے، اور وہ بھی آٹو میٹک کار کی طرح خود بخود گئیر بدل بدل کر۔ میرا خیال ہے کہ اِس قسم کی پروگرامنگ سے اپنا پٹرول بچتا ہے اور دوسرے کا خون جلتا ہے۔ آپ دل ہی دل میں سوچتے ہیں کہ قبلہ، ذرا ذرا سی بات پر منبر پہ چڑھ جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نہ یہ لازمی ہے کہ ہر چھوٹے بڑے نکتہ کا ریڈی میڈ جواب آہن پوش دلائل کے ساتھ تیار ہو۔ آخر یہ فیصلہ کِس نے کیا ہے کہ جونہی کسی کا بازو آپ کی فولادی آستین سے بڑا دکھائی دے، اُسے تلوار کے جھٹکے سے برابر کر دیا جائے؟ یا کسی کا سر ٹوپی کے سائز سے بڑا نظر آیا تو بڑی ٹوپی لینے کی بجائے سر کو تراش کر ٹوپی کے ’مافک‘ کر دیا۔ گویا جنگلی جانوروں کے کان چیک کرنے والوں کی روایت پر عمل ہو رہا ہے جو کاٹتے پہلے ہیں اور ناپتے بعد میں۔ آپ کا تجربہ شاید مختلف ہو، میرے ساتھ تو ایک روز یہی ہوا تھا۔

یہ اُس شام کی بات ہے جب اسلامی نظریاتی کونسل نے دولہا دلہن کے لئے کم سے کم عمر اور اور دوسری شادی کی صورت میں پہلی بیوی سے اجازت کی شرط بدلنے کی سفارش کی تھی۔ بندہ ایک دوست کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں بیٹھا گپ ہانک رہا تھا۔ اچانک ولایتی سوٹ اور عربی داڑھی میں ملبوس ایک کلائینٹ آ پہنچے جنہیں مجھ اللہ لوک آدمی کی گفتگو اچھی لگی۔ معلوم ہوا کہ ایک بڑے گروپ آف انڈسٹریز کے ایم ڈی ہیں اور ایک نئی پراڈکٹ کی تشہیری مہم کے لئے ہر روز گوجرانوالہ سے تشریف لاتے ہیں۔ میرا لہجہ دھیما سہی، پر خطاب تو مَیں ہی کر رہا تھا جبکہ منبر پہ چڑھ گئے حاجی صاحب ۔ پھر آتے ہی انہوں نے میزبان سمیت سب حاضرینِ مجلس کے لئے چائنیز ہوم ڈلیوری کا آرڈر بھی دے دیا تھا۔ سو، اُن کے اخلاقی اور جسمانی دباؤ کی بدولت ہم تو کام سے گئے۔

مَیں نے اُس دن کی تازہ خبر پہ کوئی بات نہیں کی تھی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا نام تک نہ لیا۔ آئی اے رحمان، حسین نقی اور عاصمہ جہانگیر مرحومہ جیسے ’رپھڑی‘ لوگ تو تھے ہی آؤٹ آف کورس رہے۔ پھر بھی لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ ایسا ہو گیا جس سے حاجی صاحب کے ورلڈ ویو کی نفی ہو ئی۔ عجیب منظر تھا کہ دین و دنیا کی تعلیم سے آراستہ چالیس بیالیس سال کا متمول، مہذب اور بظاہر مطمئن انسان کرکٹ کی ہُک شاٹ کھیلنے کے انداز میں ایک دم آنکھیں چڑھا کر بدلی ہوئی آواز میں بولنے لگا: ”نہیں نہیں، ہر گز نہیں۔۔۔ انسان کے بس میں کچھ نہیں۔ ایک پتا تک نہیں ہل سکتا اُس کے حکم کے بغیر‘‘۔ میری کم بختی کہ اتنا کہہ دیا: ”جناب، کوشش کرنا تو ہمارا فرض ہے“۔ ”کوشش فرض نہیں، کوشش سنت ہے“۔ بات فنی طور پہ ٹھیک ہوگی، لیکن جس طرح وہ دھاڑے مَیں سوچنے لگا کہ اِس کا سنت سے کیا تعلق؟

کھانا وانا کھا کر رخصت ہونے لگے مُوڈ بہتر ہو چکا تھا، مگر اندرونی ذائقہ وہی جیسے ہمارے لڑکپن میں امریکی افواج اور ویت نامی چھاپہ ماروں کی جنگ کے دوران ہر سال کرسمس کے موقعے پر تین دن کی فائر بندی ہو جایا کرتی تھی۔ اگر توقع کے خلاف ہماری گفتگو کا دوستانہ میچ ٹیکنیکل ناک آؤٹ میں نہ بدل جاتا تو باہمی ادب اور سمجھنے سمجھانے کی فضا میں یقیناً کچھ نہ کچھ سیکھا اور سکھایا جا سکتا تھا۔ ہو سکتا ہے حاجی صاحب مجھ سے یہ جاننا چاہتے کہ اگر بیرونی نشریاتی اداروں کا مقصد محض حتمی، غیر جانبدار اور منصفانہ حقائق بیان کرنا ہے تو پھر اُن کی حکومتیں اِس کام پہ سالانہ کروڑوں ڈالر کیوں خرچ کرتی ہیں۔ مَیں بھی حاجی صاحب سے پوچھتا کہ آیا انہوں نے آبائی جائیدا د میں سے اپنی بہن کو پورا حصہ دیا اور کیا اُس کی شادی پر نکاح نامہ کا دوسرا صفحہ غور سے پڑھا جس میں دلہن کے حقوق کی بات ہے۔ کیا خبر انہوں نے متقی بزرگوں کی طرح چھوہاروں کے جلو میں یہی نصیحت کی ہو کہ ”جا، اب تیرا جنازہ سسرال ہی کے گھر سے نکلے“۔

اسلام اور مسلمانوں کی بات کرتے ہوئے اقبال نے کہا تھا کہ ’تُو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے‘۔ بطور مسلمان ہم اِس میں پورا یقین رکھتے ہیں۔ لیکن پیغام کے ظہور کو دیکھیں تو انسانی پہلو سے اُس کے زمینی اور زمانی حوالے بھی نمایاں ہیں۔ ایک تو قبائلی سماج اور اُس کی جکڑ بندیاں، دوسرے معیشت اتنی پسماندہ کہ زراعت تقریباً ناپید اور دستکاری سرے سے غائب۔ اب اگر علاقے کا تاریخ جغرافیہ دیکھیں تو ’صحرائے عرب یعنی شتر بانوں کا گہوارہ‘۔ گویا وہ لوگ خانہ بدوشی اور مستقل سکونت کی کسی درمیانی منزل پہ تھے۔ اسی مرحلے پہ ایک انقلابی معاشرے کی تشکیل شروع ہوتی ہے اور صحرا نشینوں کے قلب و نظر کے زاویے بدلنے لگتے ہیں۔ پھر بھی نئے انسان کی تعمیر جس آب و گِل سے ہوئی ، اُس میں شجاعت، مہمان نوازی، صاف گوئی ہی نہیں، کئی نا پسندیدہ قبائلی و صحرائی عصبیتیں بھی گندھی ہوئی تھیں۔ کہیِں ایسا تو نہیں کہ انہی تمدنی اطوار کو بیرونی دنیا کے کئی نو مسلموں نے دینی تعلیم کا خاصہ سمجھ لیا؟

نئے زمانے کی خبروں میں ہلاک، جاں بحق اور شہید جیسی اصطلاحات کے کنفیوژن کے پچھے نامعلوم منزلوں کا وہ سفر بھی ہے جس کے پیچ و خم میں روسیوں سے لڑنے والی افغان مزاحمتی فوجیں دیکھتے ہی دیکھتے افغان مجاہدین کہلانے لگی تھیں۔ تمدنی اوصاف اور سیاسی حالات پہ عقائد کا پرتو پڑتا تو ہے۔ پھر بھی انسانی تجربے کے بیکراں سمند میں تاریخ کے کسی مخصوص دَور، کسی ایک علاقے یا سماجی طبقہ کے مفاد کی لہریں بذاتِ خود عقیدے کا مستقل متبادل نہیں ہوا کرتیں۔ ’ٹھہرتا نہیں کاروانِ وجود‘ والے علامہ یہ بھی سمجھا گئے ہیں کہ کائنات ہو یا انسانی زندگی، وجود کے برقرار رہنے کا دارو مدار اُس کے ہر آن تبدیل ہوتے رہنے پہ ہے۔ اِس آئینی ترمیم کے لئے ہم میں سے ہر کسی کو اپنے باطن کی پارلیمنٹ سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اگر باطن میں عقلِ سلیم کا ریڈار کام کر رہا ہے تو بس اُسی کے اشارے پہ چلیں، کیونکہ:

تسلسل ہے نبیؐ کے راستے کا

جہاں بھی کوئی سیدھا راستہ ہے

مزید :

رائے -کالم -