سید منور حسن کا سانحہ ارتحال

سید منور حسن کا سانحہ ارتحال

  

جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن اللہ کو پیارے ہو گئے اس منصب سے علیحدگی کے بعد وہ سیاست میں زیادہ سرگرم نہیں رہے تھے۔ وہ اسلامی جمعیت طلبا کے راستے جماعت اسلامی میں آئے، وہ جمعیت کے ناظم اعلیٰ رہے، جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل رہے اور پھر امیر منتخب ہوئے اور اپنا کردار ادا کر کے سفرِ آخرت پر روانہ ہو گئے، اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے۔ اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق ارزانی فرمائے، وہ قاضی حسین احمد کے بعد جماعت کے امیر بنے تھے،جنہوں نے جماعت کی سیاست کو ایک نئی ڈگر پر ڈالا تھا۔سید منور حسن چونکہ قاضی حسین احمد کے بعد امیر بنے تھے اِس لئے قاضی صاحب کے اسلوبِ سیاست کا حامی طبقہ اُن سے ویسی ہی سرگرمی کی توقع کر رہا تھا، لیکن وہ اپنی طرز کے آدمی تھے۔ جب تک وہ امیر رہے انہوں نے جماعت کو اپنے مزاج کے مطابق چلایا، پھر ان کی جگہ سراج الحق نے لے لی، جو اب جماعت اسلامی کو متبادل قیادت بنانے کے لئے شب و روز ایک کئے ہوئے ہیں۔

سید منور حسن نے اپنی پوری زندگی اقامت دین کے لئے وقف رکھی اور اعلائے کلمتہ الحق کا فرض بخوبی نبھایا، نمازوں کی ادائیگی کا سختی سے اہتمام کرتے تھے، سفر حضر میں جب نماز کا وقت آ جاتا ان کی طبیعت میں ایک خاص طرح کی بے چینی نمایاں ہو جاتی، جب تک وہ اس فرض سے عہدہ برا نہ ہو لیتے اسی کیفیت میں مبتلا رہتے تھے۔وہ صرف گفتار ہی نہیں، کردار کے آدمی تھے۔وہ جس چیز کو حق سمجھتے اس پر ڈٹ جاتے اور اپنی جماعت کو بھی اسی راستے پر چلانے کی کوشش کرتے۔نظریاتی جماعتوں کی جان ان کے بے لوث کارکن ہوتے ہیں، اور لاریب سید منور حسن ایک مثالی کارکن تھے۔

مزید :

رائے -اداریہ -