جی ڈی اے کی وفاق کی حمایت جاری رکھنے اوروزیراعظم کے عشائیہ میں شرکت کی یقین دہانی

  جی ڈی اے کی وفاق کی حمایت جاری رکھنے اوروزیراعظم کے عشائیہ میں شرکت کی یقین ...

  

کراچی(سٹاف رپورٹر)جی ڈی اے نے وفاقی حکومت کی حمایت جاری رکھنے اوروزیراعظم کے عشائیہ میں شرکت کی یقین دہانی کرادی ہے،پیرصدرالدین شاہ راشدی نے کہاہے کہ وفاقی حکومت کے حوالے سے کوئی خدشات نہیں ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ حکومت پانچ برس مکمل کرے،اٹھارویں ترمیم ہونے کے باوجود سندھ میں کام نہیں ہورہے۔گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کہاکہ جب بھی کنگری ہاؤس آتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ اتحادیوں کو منانے کی کوشش تیز ہوگئیں، پیر صاحب پگارا ہمارے بڑے ہیں ان سے رہنمائی لینے آتے ہیں۔ گورنرسندھ عمران اسماعیل نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر، وفاقی وزیربرائے نجکاری محمد میاں سومرو، رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ اور دیگر کے ہمراہ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے سربراہ پیر صبغت اللہ شاہ راشدی سے ملاقات کی اور ظہرانے میں شرکت کی۔ گورنرسندھ نے پیر صبغت اللہ شاہ راشدی سے ان کی والدہ کی خیریت بھی دریافت کی۔ملاقات میں پیرصاحب پگارا کو وزیراعظم کی جانب سے اتوارکواتحادی جماعتوں کے رہنماں کے اعزازمیں دیے جانے والے عشائیہ میں شرکت کی دعوت دی گئی جی ڈی اے دعوت قبول کرلی۔اس موقع پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گورنرسندھ نے کہا کہ میں یہاں کسی کو منانے کے لئے نہیں آیا کیوں کہ یہ گھر کبھی روٹھا ہی نہیں تو مناں گا کسے، کنگری ہاس میرا اپنا ہے یہاں مجھے بے حد پیار، محبت اور شفقت ملتی ہے پیر صاحب میرے بڑے ہیں انہوں نے ہمیشہ مجھے پیار دیا اور اگر پیر صاحب ڈانٹ بھی دیں تو بھی مجھے ان سے کوئی گلہ نہیں ہوگا پیر صاحب نے ہمیشہ محبت سے میری رہنمائی فرمائی،میری کوشش ہوتی ہے کہ پیر صاحب سے سندھ کے معاملات پر رہنمائی حاصل کروں، ان کے تجربہ سے بہت فائدہ ہوتا ہے ان سے مشاورت سے صوبہ کے کئی مسائل حل کرنے میں مدد ملتی ہے پیرصاحب سے ملاقات میں وفاق کے تحت صوبہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں پیش رفت اور مستقبل کے دیگر امور پر سیر حاصل گفتگو ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ کے لئے مزید مشاورت کے لئے یہاں آئے ہیں چونکہ اسد عمر کا تعلق بھی اسی صوبہ سے ہے اس لئے اسد عمربھی پیر صاحب سے صوبہ کی ترقی کے ضمن میں رہنمائی حاصل کرنے کے لئے آئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں گورنرسندھ نے کہا کہ سندھ میں سیاسی تبدیلی پرکوئی بات نہیں ہوئی لیکن فلاحی تبدیلی کی بات ہوئی ہے جس طرح پورے پاکستان میں فلاحی تبدیلی آرہی ہے اسی طرح سندھ میں بھی فلاحی تبدیلی آنی چاہیئے۔وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ کے فور منصوبے کے لئے وفاق نے اپنا حصہ بجٹ میں رکھا ہے، سندھڑی آم کی طرح سندھ کے لوگ بھی میٹھے ہیں،جی ڈی اے کی قیادت سے ملک کے مسائل کے حوالے سے بات ہوئی، وفاق پاکستان کے ایک حصے کی نہیں سب کی نمائندگی کرتا ہے، کے فور کے منصوبے کی رپورٹ سندھ حکومت کے پاس ہے، جب وفاق کے پاس پہنچے گی تو حکمت عملی ہوگی،ہم ترقیاتی بجٹ میں اسکآ حصہ بھی رکھا ہے۔ ملک کی بہتری کے لئیے کام کرنے والے ہر دباو کے باوجود کھڑے ہیں۔ پیر صدر الدین شاہ راشدی (یونس سائیں) نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم ہونے کے باوجود سندھ میں کام نہیں ہورہے، بجٹ کے بعد ہم پوچھیں گے کہ سندھ میں پیسہ کہاں خرچ ہوا؟، وفاقی حکومت کے حوالے سے کوئی خدشات نہیں ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ حکومت پانچ برس مکمل کرے، ہم چاہتے ہیں کہ وفاقی حکومت ایک کروڑ ملازمتیں دے، ہم چاہتے ہیں حکومت 50 لاکھ گھر بنا کر دے، ابھی حکومت کے تین سال باقی ہیں، حکومت ملک کو پٹڑی پر لے آئی ہے، ہم عمران خان کی بے ساکھی بنے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں اور لوڈ شیڈنگ پر تبادلہ خیال ہوا اور مہمانوں کی آم سے تواضع کی گئی، میاں محمد سومرو اور اسد عمر منھجے ہوئے سیاستدان ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ جب بھی ہم کنگری ہاؤس آتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ اتحادیوں کو منانے کی کوشش تیز ہوگئیں، پیر صاحب پگارا ہمارے بڑے ہیں ان سے مشورہ لینے آتے ہیں۔ اسد عمرنے کہاکہ میٹھے آم کھلانے پر شکریہ ادا کرتے ہیں،کنگری ہاؤس کی ایک تاریخی اہمیت ہے،سندھ اہم صوبہ ہے اور ہماری سندھ پر بھرپور توجہ ہے،شہر میں پانی کی شدید قلت ہے،کے فور منصوبے کے لئے وفاق نے اپنا حصہ بجٹ میں رکھا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں گورنر سندھ نے کہاکہ گرین لائن اور اورنج لائن پر کام جاری ہیوہ وقت دور نہیں ہے شہر میں جب کراچی میں بس سروس فعال نظر آئے گی۔

مزید :

صفحہ اول -