محکمہ موسمیات کی پیشگوئی پرنالوں کی صفائی کا آغاز کیا جائے، میئرکراچی

محکمہ موسمیات کی پیشگوئی پرنالوں کی صفائی کا آغاز کیا جائے، میئرکراچی

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی وسیم اختر نے سندھ حکومت سے ایک بار پھر درخواست کی ہے کہ این ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کو سامنے رکھتے ہوئے فوری طور پر نالوں کی صفائی کا آغاز کیا جائے تاکہ کراچی کے شہری اربن فلڈ سے محفوظ رہ سکیں، انہوں نے کہا کہ برساتی نالوں کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور ان میں اتنا کچرا جمع ہے کہ انہیں صاف کرنے اور ان سے نکالا گیا کچرا اور کیچڑ منتقل کرنے میں ہفتوں درکار ہونگے، حکومت سندھ کراچی شہر کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ترک کرتے ہوئے اس شہر پر خصوصی توجہ دے کیونکہ کراچی اس ملک کی معیشت کو چلاتا ہے یہ ملک کا ریونیو انجن ہے، یہ بات انہوں نے برساتی نالوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، سینئر ڈائریکٹر کو آرڈینیشن مسعود عالم، سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز نعمان ارشد، ڈائریکٹر مشینری پول مشیر احمد اور دیگر افسران بھی موجود تھے، انہو ں نے کہاکہ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سال مون سون بارشیں 20 فیصد زائد ہونگی جس سے اربن فلڈ آسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ بارشوں کا یہ سلسلہ شروع ہونے والا ہے اس لئے فوری طور پر برساتی پانی کی نکاسی کا انتظام کیا جانا چاہئے، میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی کے تمام ریونیومحکمے حکومت سندھ نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور ہمیں فنڈز دینے کے بجائے یہ کہا جاتا ہے کہ کے ایم سی کا ریونیو بڑھایا جائے، انہو ں نے کہا کہ کے ایم سی کس طرح سے اپنے ریونیو میں اضافہ کرسکتی ہے جب ا سکے پاس وہ محکمے ہی نہ ہوں، میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کے 38 بڑے برساتی نالوں کی صفائی 2018 کے بعد اب تک نہیں ہوئی ہے اسی طرح شہر کی بڑی بڑی شاہراہوں اور انڈر پاسز میں پانی کی نکاسی کے انتظامات بھی نالوں کی صفائی کے ساتھ کرنے ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ضلعی میونسپل کارپوریشنز کی حدود میں آنے والے چھوٹے برساتی نالوں کی صفائی اور ان کی ضروریات سے بھی وزیر اعلیٰ سندھ کو آگاہ کردیا گیا ہے تاحال کسی قسم کے کوئی فنڈز ڈی ایم سیز کو جاری نہیں کئے گئے، میئر کراچی نے کہا کہ ہر سال کراچی کے ترقیاتی اسکیموں کی رقم کو کم کیا جارہا ہے اور اس سال کے ایم سی کی جانب سے بھیجی گئی ترقیاتی اسکیموں میں سے ایک بھی اسکیم بجٹ میں شامل نہ کرکے کراچی دشمنی کا ثبوت دیا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ سندھ اسمبلی میں عددی برتری کے باعث وڈیرانہ سوچ کو فروغ دیا جارہا ہے اور اس شہر کو کالونی کا درجہ دیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013میں بار بار اتنی تبدیلیاں کی گئی ہیں کہ اصل ایکٹ کہیں کھو کر رہ گیا ہے، انہوں نے کہا کہ مفاد کی سیاست کو چھوڑ کر قومی خدمت کے جذبے کو فروغ دیئے جانا چاہئے اور ہر طرح کے تعصب سے بالا تر ہو کر صوبہ سندھ کی ترقی کے لئے سوچا جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -