پٹرول مہنگا ہونے کے بعد عوام کیلئے نئی پریشانی ، ٹرانسپورٹرز نے بھی وہ کردکھایا جس کا ڈر تھا

پٹرول مہنگا ہونے کے بعد عوام کیلئے نئی پریشانی ، ٹرانسپورٹرز نے بھی وہ ...
پٹرول مہنگا ہونے کے بعد عوام کیلئے نئی پریشانی ، ٹرانسپورٹرز نے بھی وہ کردکھایا جس کا ڈر تھا

  

لاہور(ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹروں نے بھی کرائے بڑھا دیئے ہیں۔

ترجمان ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن تنویر جٹ کے مطابق اے سی بس کے کرایوں میں 20 فیصد جبکہ نان اے سی بس کا کرایہ 15 فیصد بڑھا دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کرایوں میں اضافے کا فیصلہ پٹرول کی قیمت میں اضافے پر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا کرایہ ایک ہزار روپے سے بڑھا کر 12 سو روپے کردیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد کرایہ بھی کم کیا جائے گا۔

یادرہے کہ   وزیراعظم عمران خان کی منظوری کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا گیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کی سمری منظور کرلی جس کے بعد وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 25 روپے 58 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 100روپے 10پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

ڈیزل کی قیمت 21 روپے 31 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 101روپے46پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 23روپے 50پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 59روپے 6 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 17روپے 84پیسے فی لیٹراضافہ کیا گیا ہے اور اس کی نئی قیمت 55روپے 98 پیسے مقرر کی گئی ہے۔عام طور پر پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نفاذ ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے ہوتا ہے تاہم اس بار نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ کی رات 12 بجے سے ہی ہوگیاذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اوگرا کی سمری کے بغیر ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کے لئے مہنگائی کے مزید دروازے کھول دئیے ہیں۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ خلاف معمول یکم جولائی کی بجائے تین دن پہلے ہی کردیا گیا۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 25روپے فی لیٹر اضافہ کرتے وقت خلاف معمول اور خلاف توقع اوگرا کی ماہانہ سمری کا بھی انتظار نہیں کیا۔ قبل ازیں اوگرا ہر ماہ کے اختتام پر یکم تاریخ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی یا اضافے سے متعلق سمری حکومت کو بھجواتی ہے جس پر وفاقی حکومت فیصلہ کرتی ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے گا یا تکلیف دی جائے گی۔۔گزشتہ ماہ حکومت نے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی کمی کے بعد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے تک کمی کی تھی۔ تاہم پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کے باوجود اس کی عدم دست یابی کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

وزیر اعظم کی ہدایت پر وزارت پیٹرولیم و توانائی نے مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے پیٹرول کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کی تحقیقات کا آغاز کی بھی کیا۔علاوہ ازیں حکومت نے گزشتہ ماہ بھی عالمی سطح پر پیٹرولیم کی کم ہونے والی قیمتوں کا پورا فائدہ عوام تک نہیں پہنچایا تھا اور پیٹرولیم لیوی میں 6 روپے اضافہ کرکے اسے زیادہ سے زیادہ سطح تک لے گئی تھی۔ واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر ماہ کے آخری دن تبدیلی کی جاتی ہے اور اگلے مہینے کی پہلی تاریخ سے ان قیمتوں کا اطلاق کیا جاتا ہے تاہم حالیہ اضافہ معمول کے بر خلاف مہینے کے اختتام سے قبل ہی لاگو کردیا گیا ہے۔

مزید :

قومی -بزنس -